آو چلو، اسکول چلیں ہم، کے نعرہ کے تحت اکرام الحق سماج میں لا رہے ہیں تعلیمی بیداری

Jan 02, 2017 01:53 PM IST
1 of 5
  • مرکزی حکومت میں چیف انجینئر کی باوقار ملازمت حاصل کرنے کے بعد عام طور پر کوئی بھی اپنے آپ میں مصروف ہو جائے گا۔ لیکن اكرام الحق عام لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ وہ خاص ہیں، اس لئے لوگوں کو تعلیم کا عطیہ دیتے ہیں۔ وہ خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طبقے کے درمیان جاکر انہیں بتاتے ہیں کہ اگر آپ کو بڑھنا ہے تو پڑھنا ہے۔ آپ اپنی غربت کو امیری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسکول جانا ہی ہوگا۔ اسی کے ذریعے کوئی بھی معاشرے کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔

    مرکزی حکومت میں چیف انجینئر کی باوقار ملازمت حاصل کرنے کے بعد عام طور پر کوئی بھی اپنے آپ میں مصروف ہو جائے گا۔ لیکن اكرام الحق عام لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ وہ خاص ہیں، اس لئے لوگوں کو تعلیم کا عطیہ دیتے ہیں۔ وہ خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طبقے کے درمیان جاکر انہیں بتاتے ہیں کہ اگر آپ کو بڑھنا ہے تو پڑھنا ہے۔ آپ اپنی غربت کو امیری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اسکول جانا ہی ہوگا۔ اسی کے ذریعے کوئی بھی معاشرے کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔

  • حق کہتے ہیں کہ صرف حکومت پر تنقید سے کام نہیں چلے گا۔ خود بھی جاگنا ہوگا۔ تبدیلی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کے لئے لوگوں میں بیداری پھیلانے کے لئے اكرام الحق اور ان کے ساتھی ہفتہ کا ایک دن دیتے ہیں۔

    حق کہتے ہیں کہ صرف حکومت پر تنقید سے کام نہیں چلے گا۔ خود بھی جاگنا ہوگا۔ تبدیلی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کے لئے لوگوں میں بیداری پھیلانے کے لئے اكرام الحق اور ان کے ساتھی ہفتہ کا ایک دن دیتے ہیں۔

  • اكرام الحق نے 2010 میں اکیلے ایک خواب کی شروعات کی۔ آہستہ آہستہ اس خواب کو پورا کرنے کی اس مہم میں 2700 لوگ جڑ چکے ہیں۔ اكرام الحق کا یہ خواب تھا 'مشن تعلیم' کا۔ ان کا خواب بچوں کی زندگی سے بچہ مزدوری اور ناخواندگی کے اندھیرے کو باہر نکالنا بھی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے اکیلے ہی سلم بستیوں اور گاؤں میں گھر گھر جا کر والدین کو ان کے بچوں کو تعلیم کرنے کے تئیں بیدار کیا۔ ان کی کوشش رنگ لا رہی ہے اور آج بڑی تعداد میں بچے اسکول جانے لگے ہیں۔ حق کہتے ہیں وہ لوگ جو تعلیم اور بچوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، سب سے پہلے ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے۔ فائل فوٹو۔

    اكرام الحق نے 2010 میں اکیلے ایک خواب کی شروعات کی۔ آہستہ آہستہ اس خواب کو پورا کرنے کی اس مہم میں 2700 لوگ جڑ چکے ہیں۔ اكرام الحق کا یہ خواب تھا 'مشن تعلیم' کا۔ ان کا خواب بچوں کی زندگی سے بچہ مزدوری اور ناخواندگی کے اندھیرے کو باہر نکالنا بھی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے اکیلے ہی سلم بستیوں اور گاؤں میں گھر گھر جا کر والدین کو ان کے بچوں کو تعلیم کرنے کے تئیں بیدار کیا۔ ان کی کوشش رنگ لا رہی ہے اور آج بڑی تعداد میں بچے اسکول جانے لگے ہیں۔ حق کہتے ہیں وہ لوگ جو تعلیم اور بچوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، سب سے پہلے ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے۔ فائل فوٹو۔

  • مشن سے وابستہ ہر شخص الگ الگ علاقے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے میں یہ کارکن ہفتے بھر کے مصروف شیڈول میں ہر اتوار کو مشن کے تحت بیداری پھیلانے کے لئے نکالتے ہیں۔ سلم بستیوں اور دیہی علاقوں میں جا کر لوگوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کرتے ہیں۔ اكرام الحق نے بتایا کہ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ بچوں کی پڑھائی میں بہت خرچ ہے اور وہ اسے نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن ہم لوگ انہیں یہی بات سمجھاتے ہیں کہ پرائیویٹ میں نہیں تو وہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں۔ دسویں کے بعد بچوں کو کون سا کورس کرایا جائے یہ بتاتے ہیں۔ ایڈمیشن اور اخراجات سے متعلق والدین کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔ ادارے کی کوئی چندہ رسید نہیں ہے۔ اس سے جڑے پروفیشنل خود کی جیب سے اسے چلاتے ہیں۔

    مشن سے وابستہ ہر شخص الگ الگ علاقے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے میں یہ کارکن ہفتے بھر کے مصروف شیڈول میں ہر اتوار کو مشن کے تحت بیداری پھیلانے کے لئے نکالتے ہیں۔ سلم بستیوں اور دیہی علاقوں میں جا کر لوگوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کرتے ہیں۔ اكرام الحق نے بتایا کہ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ بچوں کی پڑھائی میں بہت خرچ ہے اور وہ اسے نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن ہم لوگ انہیں یہی بات سمجھاتے ہیں کہ پرائیویٹ میں نہیں تو وہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں۔ دسویں کے بعد بچوں کو کون سا کورس کرایا جائے یہ بتاتے ہیں۔ ایڈمیشن اور اخراجات سے متعلق والدین کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔ ادارے کی کوئی چندہ رسید نہیں ہے۔ اس سے جڑے پروفیشنل خود کی جیب سے اسے چلاتے ہیں۔

  • مشن تعلیم کا نعرہ ہے آو چلو، اسکول چلیں ہم۔ مشن کے تحت اب تک دہلی این سی آر میں تقریبا 300 مقامات پر میٹنگ کی جا چکی ہے۔ اكرام الحق نے کہا کہ یہ ہماری مشن کی کامیابی ہی ہے کہ بیداری کے بعد والدین نے اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ کرایا۔ ای ڈبلیو ایس اور بی پی ایل بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لئے ہم دہلی میں تقریبا 100 کیمپ لگانے جا رہے ہیں۔ جن میں نجی اسکولوں میں الاٹ غریب بچوں کی سیٹوں پر داخلے کے لئے آنے والی پریشانیوں کا حل نکالا جائے گا۔ نجی اسکول آسانی سے غریب بچوں کو داخلہ دیتے نہیں ہیں اس لئے ان کی ٹیم اس کام کے لئے بھی لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اوم پرکاش کی تحریر۔

    مشن تعلیم کا نعرہ ہے آو چلو، اسکول چلیں ہم۔ مشن کے تحت اب تک دہلی این سی آر میں تقریبا 300 مقامات پر میٹنگ کی جا چکی ہے۔ اكرام الحق نے کہا کہ یہ ہماری مشن کی کامیابی ہی ہے کہ بیداری کے بعد والدین نے اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ کرایا۔ ای ڈبلیو ایس اور بی پی ایل بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لئے ہم دہلی میں تقریبا 100 کیمپ لگانے جا رہے ہیں۔ جن میں نجی اسکولوں میں الاٹ غریب بچوں کی سیٹوں پر داخلے کے لئے آنے والی پریشانیوں کا حل نکالا جائے گا۔ نجی اسکول آسانی سے غریب بچوں کو داخلہ دیتے نہیں ہیں اس لئے ان کی ٹیم اس کام کے لئے بھی لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اوم پرکاش کی تحریر۔

  • حق کہتے ہیں کہ صرف حکومت پر تنقید سے کام نہیں چلے گا۔ خود بھی جاگنا ہوگا۔ تبدیلی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کے لئے لوگوں میں بیداری پھیلانے کے لئے اكرام الحق اور ان کے ساتھی ہفتہ کا ایک دن دیتے ہیں۔
  • اكرام الحق نے 2010 میں اکیلے ایک خواب کی شروعات کی۔ آہستہ آہستہ اس خواب کو پورا کرنے کی اس مہم میں 2700 لوگ جڑ چکے ہیں۔ اكرام الحق کا یہ خواب تھا 'مشن تعلیم' کا۔ ان کا خواب بچوں کی زندگی سے بچہ مزدوری اور ناخواندگی کے اندھیرے کو باہر نکالنا بھی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے اکیلے ہی سلم بستیوں اور گاؤں میں گھر گھر جا کر والدین کو ان کے بچوں کو تعلیم کرنے کے تئیں بیدار کیا۔ ان کی کوشش رنگ لا رہی ہے اور آج بڑی تعداد میں بچے اسکول جانے لگے ہیں۔ حق کہتے ہیں وہ لوگ جو تعلیم اور بچوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، سب سے پہلے ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے۔ فائل فوٹو۔
  • مشن سے وابستہ ہر شخص الگ الگ علاقے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے میں یہ کارکن ہفتے بھر کے مصروف شیڈول میں ہر اتوار کو مشن کے تحت بیداری پھیلانے کے لئے نکالتے ہیں۔ سلم بستیوں اور دیہی علاقوں میں جا کر لوگوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کرتے ہیں۔ اكرام الحق نے بتایا کہ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ بچوں کی پڑھائی میں بہت خرچ ہے اور وہ اسے نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن ہم لوگ انہیں یہی بات سمجھاتے ہیں کہ پرائیویٹ میں نہیں تو وہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں۔ دسویں کے بعد بچوں کو کون سا کورس کرایا جائے یہ بتاتے ہیں۔ ایڈمیشن اور اخراجات سے متعلق والدین کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔ ادارے کی کوئی چندہ رسید نہیں ہے۔ اس سے جڑے پروفیشنل خود کی جیب سے اسے چلاتے ہیں۔
  • مشن تعلیم کا نعرہ ہے آو چلو، اسکول چلیں ہم۔ مشن کے تحت اب تک دہلی این سی آر میں تقریبا 300 مقامات پر میٹنگ کی جا چکی ہے۔ اكرام الحق نے کہا کہ یہ ہماری مشن کی کامیابی ہی ہے کہ بیداری کے بعد والدین نے اپنے بچوں کو اسکول میں داخلہ کرایا۔ ای ڈبلیو ایس اور بی پی ایل بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لئے ہم دہلی میں تقریبا 100 کیمپ لگانے جا رہے ہیں۔ جن میں نجی اسکولوں میں الاٹ غریب بچوں کی سیٹوں پر داخلے کے لئے آنے والی پریشانیوں کا حل نکالا جائے گا۔ نجی اسکول آسانی سے غریب بچوں کو داخلہ دیتے نہیں ہیں اس لئے ان کی ٹیم اس کام کے لئے بھی لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اوم پرکاش کی تحریر۔

تازہ ترین تصاویر