ایک فقیر کی آواز سے تحریک پاکر گلوکاری کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گئے محمد رفیع

Dec 24, 2017 12:54 PM IST
1 of 10
  • آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع کو گلوکاری کی تحریک ایک فقیر سے ملی تھی۔ پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں 24دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم خاندان میں جنم لینے والے محمد رفیع ایک فقیر کے نغموں کو سنا کرتے تھے،جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں دلچسپی پیدا ہوگئی۔رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کا موسیقی کے تئیں رجحان دیکھ لیاتھا اور انہوں نے اس راہ پر آگے بڑھانے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ رفیع لاہور میں موسیقی کی تعلیم استاد عبدالواحد خان سے لینے لگے اور ساتھ ہی انہوں نے غلام علی خان سے کلاسیکی موسیقی بھی سیکھنی شروع کی ۔ایک بار حمید، رفیع کو لے کر کے ایل سہگل کےموسیقی پروگرام میں گئے،لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کے ایل سہگل نے گانےسے انکار کردیا۔

    آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع کو گلوکاری کی تحریک ایک فقیر سے ملی تھی۔ پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں 24دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم خاندان میں جنم لینے والے محمد رفیع ایک فقیر کے نغموں کو سنا کرتے تھے،جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں دلچسپی پیدا ہوگئی۔رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کا موسیقی کے تئیں رجحان دیکھ لیاتھا اور انہوں نے اس راہ پر آگے بڑھانے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ رفیع لاہور میں موسیقی کی تعلیم استاد عبدالواحد خان سے لینے لگے اور ساتھ ہی انہوں نے غلام علی خان سے کلاسیکی موسیقی بھی سیکھنی شروع کی ۔ایک بار حمید، رفیع کو لے کر کے ایل سہگل کےموسیقی پروگرام میں گئے،لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کے ایل سہگل نے گانےسے انکار کردیا۔

  • حمید نےپروگرام کے کنوینر سے گزارش کی کہ وہ ان کے بھائی کو پروگرام میں گانے کا موقع دیں۔کنوینر کے راضی ہونے پر رفیع نے پہلی بار 13سال کی عمر میں اپنا پہلا نغمہ اسٹیج پر پیش کیا۔شائقین کے درمیان بیٹھے موسیقار شیام سندر کو ان کا گانااچھا لگا اور انہوں نے رفیع کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔

    حمید نےپروگرام کے کنوینر سے گزارش کی کہ وہ ان کے بھائی کو پروگرام میں گانے کا موقع دیں۔کنوینر کے راضی ہونے پر رفیع نے پہلی بار 13سال کی عمر میں اپنا پہلا نغمہ اسٹیج پر پیش کیا۔شائقین کے درمیان بیٹھے موسیقار شیام سندر کو ان کا گانااچھا لگا اور انہوں نے رفیع کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔

  • شیام سندر کی موسیقی میں رفیع نے اپنا پہلا گانا زینت بیگم کے ساتھ پنجابی فلم ’گل بلوچ‘كے لیے گایا۔ جس کے بول ’سونيے نی ہیریئے نی‘ تھے۔ سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پہلا ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘فلم ’پہلے آپ‘ کے لیے گایا۔

    شیام سندر کی موسیقی میں رفیع نے اپنا پہلا گانا زینت بیگم کے ساتھ پنجابی فلم ’گل بلوچ‘كے لیے گایا۔ جس کے بول ’سونيے نی ہیریئے نی‘ تھے۔ سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پہلا ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘فلم ’پہلے آپ‘ کے لیے گایا۔

  • سال 1949 میں نوشاد کی موسیقی میں فلم دلاری کے گیت سهاني رات ڈھل چکی .. کے ذریعے ان کے لئے کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند، شمي کپور، راجندر کمار، ششی کپور، راجکمارجیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے رفیع نے اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 سے بھی زیادہ گانے گائے۔

    سال 1949 میں نوشاد کی موسیقی میں فلم دلاری کے گیت سهاني رات ڈھل چکی .. کے ذریعے ان کے لئے کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند، شمي کپور، راجندر کمار، ششی کپور، راجکمارجیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے رفیع نے اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 سے بھی زیادہ گانے گائے۔

  • محمد رفیع فلم انڈسٹری میں اپنی خوش مزاجی کےلئے مشہور تھے، لیکن ایک بار مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر سے ان کا اختلاف ہوگیا تھا ۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ سینکڑوں گانے گائے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب رفیع نے ان سے بات چیت تک کرنی بند کر دی تھی۔ لتا منگیشکر ،گانوں پر رائلٹی کے حق میں تھیں جبکہ رفیع نے کبھی بھی رائلٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔

    محمد رفیع فلم انڈسٹری میں اپنی خوش مزاجی کےلئے مشہور تھے، لیکن ایک بار مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر سے ان کا اختلاف ہوگیا تھا ۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ سینکڑوں گانے گائے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب رفیع نے ان سے بات چیت تک کرنی بند کر دی تھی۔ لتا منگیشکر ،گانوں پر رائلٹی کے حق میں تھیں جبکہ رفیع نے کبھی بھی رائلٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔

  • رفیع صاحب کا خیال تھا کہ ایک بار جب فلم سازوں نے گانے کے پیسے ادا ک دیئے تو پھر رائلٹی کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔دونو ں کے درمیان تنازعہ اتنا بڑھا کہ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ گانے سے انکار کر دیا، تاہم چار سال کے بعد اداکارہ نرگس کی کوشش سے ان کے اختلافات ختم ہوئے اور دونوں نے ایک پروگرام میں ایک ساتھ دل پکارے گانا گایا۔

    رفیع صاحب کا خیال تھا کہ ایک بار جب فلم سازوں نے گانے کے پیسے ادا ک دیئے تو پھر رائلٹی کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔دونو ں کے درمیان تنازعہ اتنا بڑھا کہ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ گانے سے انکار کر دیا، تاہم چار سال کے بعد اداکارہ نرگس کی کوشش سے ان کے اختلافات ختم ہوئے اور دونوں نے ایک پروگرام میں ایک ساتھ دل پکارے گانا گایا۔

  • محمد رفیع نے ہندی فلموں کے علاوہ مراٹھی اور تیلگو فلموں کے لئے بھی گانے گائے۔ محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سےاور 1965 میں پدمشري ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔ رفیع صاحب اداکار امیتابھ بچن کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں تھا لیکن کبھی کبھی وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے۔ایک بار انہوں نے امیتابھ بچن کی فلم دیوار دیکھی تھی۔اس کے بعد ہی وہ امیتابھ کے پرستار بن گئے۔

    محمد رفیع نے ہندی فلموں کے علاوہ مراٹھی اور تیلگو فلموں کے لئے بھی گانے گائے۔ محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سےاور 1965 میں پدمشري ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔ رفیع صاحب اداکار امیتابھ بچن کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں تھا لیکن کبھی کبھی وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے۔ایک بار انہوں نے امیتابھ بچن کی فلم دیوار دیکھی تھی۔اس کے بعد ہی وہ امیتابھ کے پرستار بن گئے۔

  • سال 1980 میں ریلز ہوئی فلم نصیب میں رفیع صاحب کو امیتابھ کے ساتھ ’’چل چل میرے بھائی‘‘گانا گانے کا موقع ملا،امیتابھ کے ساتھ گانا گانے پر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔امیتابھ کے علاوہ انہیں شمي کپور اور دھرمیندر کی فلمیں بھی بہت پسند آتی تھیں۔انہیں امیتابھ-دھرمیندر کی فلم شعلے بہت بے حد پسند تھی اور انہوں نے اسے تین بار دیکھا تھا۔

    سال 1980 میں ریلز ہوئی فلم نصیب میں رفیع صاحب کو امیتابھ کے ساتھ ’’چل چل میرے بھائی‘‘گانا گانے کا موقع ملا،امیتابھ کے ساتھ گانا گانے پر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔امیتابھ کے علاوہ انہیں شمي کپور اور دھرمیندر کی فلمیں بھی بہت پسند آتی تھیں۔انہیں امیتابھ-دھرمیندر کی فلم شعلے بہت بے حد پسند تھی اور انہوں نے اسے تین بار دیکھا تھا۔

  • سال  1980  میں 30 جولائی کوفلم ’آس پاس‘کے نغمے ’’شام کیوں اداس ہے دوست‘‘ مکمل کرنے کے بعد جب رفیع نے لکشمی کانت پيارےلال سے کہا ’کیا میں جا سکتا ہوں؟‘ جسے سن کر وہ حیران ہوگئے، کیونکہ اس سے پہلے رفیع نے ان سے کبھی اس طرح اجازت نہیں مانگی تھی۔اگلے دن 31 جولائی 1980 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    سال 1980 میں 30 جولائی کوفلم ’آس پاس‘کے نغمے ’’شام کیوں اداس ہے دوست‘‘ مکمل کرنے کے بعد جب رفیع نے لکشمی کانت پيارےلال سے کہا ’کیا میں جا سکتا ہوں؟‘ جسے سن کر وہ حیران ہوگئے، کیونکہ اس سے پہلے رفیع نے ان سے کبھی اس طرح اجازت نہیں مانگی تھی۔اگلے دن 31 جولائی 1980 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

  • محمدرفیع کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 37 سال ہوچکے ہیں، لیکن ان مداح اور فین کی تعداد میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔محمدرفیع کو یہ خداداد صلاحیت حاصل تھی کہ انہوں نے ہر موقع کے نغمے گائے، لیکن جذباتی، دکھ بھرے اور بھجن ومذہبی گیتوں کو آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔بلکہ ان کے بھجن ہندؤوں کے تہواروں پر بجائے جاتے ہیں۔(نوٹ : سبھی تصاویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ )۔

    محمدرفیع کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 37 سال ہوچکے ہیں، لیکن ان مداح اور فین کی تعداد میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔محمدرفیع کو یہ خداداد صلاحیت حاصل تھی کہ انہوں نے ہر موقع کے نغمے گائے، لیکن جذباتی، دکھ بھرے اور بھجن ومذہبی گیتوں کو آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔بلکہ ان کے بھجن ہندؤوں کے تہواروں پر بجائے جاتے ہیں۔(نوٹ : سبھی تصاویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ )۔

  • حمید نےپروگرام کے کنوینر سے گزارش کی کہ وہ ان کے بھائی کو پروگرام میں گانے کا موقع دیں۔کنوینر کے راضی ہونے پر رفیع نے پہلی بار 13سال کی عمر میں اپنا پہلا نغمہ اسٹیج پر پیش کیا۔شائقین کے درمیان بیٹھے موسیقار شیام سندر کو ان کا گانااچھا لگا اور انہوں نے رفیع کو ممبئی آنے کی دعوت دی۔
  • شیام سندر کی موسیقی میں رفیع نے اپنا پہلا گانا زینت بیگم کے ساتھ پنجابی فلم ’گل بلوچ‘كے لیے گایا۔ جس کے بول ’سونيے نی ہیریئے نی‘ تھے۔ سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پہلا ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘فلم ’پہلے آپ‘ کے لیے گایا۔
  • سال 1949 میں نوشاد کی موسیقی میں فلم دلاری کے گیت سهاني رات ڈھل چکی .. کے ذریعے ان کے لئے کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ دلیپ کمار، دیو آنند، شمي کپور، راجندر کمار، ششی کپور، راجکمارجیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے رفیع نے اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 سے بھی زیادہ گانے گائے۔
  • محمد رفیع فلم انڈسٹری میں اپنی خوش مزاجی کےلئے مشہور تھے، لیکن ایک بار مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر سے ان کا اختلاف ہوگیا تھا ۔انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ سینکڑوں گانے گائے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب رفیع نے ان سے بات چیت تک کرنی بند کر دی تھی۔ لتا منگیشکر ،گانوں پر رائلٹی کے حق میں تھیں جبکہ رفیع نے کبھی بھی رائلٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔
  • رفیع صاحب کا خیال تھا کہ ایک بار جب فلم سازوں نے گانے کے پیسے ادا ک دیئے تو پھر رائلٹی کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔دونو ں کے درمیان تنازعہ اتنا بڑھا کہ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بات چیت بھی بند ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ گانے سے انکار کر دیا، تاہم چار سال کے بعد اداکارہ نرگس کی کوشش سے ان کے اختلافات ختم ہوئے اور دونوں نے ایک پروگرام میں ایک ساتھ دل پکارے گانا گایا۔
  • محمد رفیع نے ہندی فلموں کے علاوہ مراٹھی اور تیلگو فلموں کے لئے بھی گانے گائے۔ محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سےاور 1965 میں پدمشري ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔ رفیع صاحب اداکار امیتابھ بچن کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ انہیں فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں تھا لیکن کبھی کبھی وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے۔ایک بار انہوں نے امیتابھ بچن کی فلم دیوار دیکھی تھی۔اس کے بعد ہی وہ امیتابھ کے پرستار بن گئے۔
  • سال 1980 میں ریلز ہوئی فلم نصیب میں رفیع صاحب کو امیتابھ کے ساتھ ’’چل چل میرے بھائی‘‘گانا گانے کا موقع ملا،امیتابھ کے ساتھ گانا گانے پر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔امیتابھ کے علاوہ انہیں شمي کپور اور دھرمیندر کی فلمیں بھی بہت پسند آتی تھیں۔انہیں امیتابھ-دھرمیندر کی فلم شعلے بہت بے حد پسند تھی اور انہوں نے اسے تین بار دیکھا تھا۔
  • سال  1980  میں 30 جولائی کوفلم ’آس پاس‘کے نغمے ’’شام کیوں اداس ہے دوست‘‘ مکمل کرنے کے بعد جب رفیع نے لکشمی کانت پيارےلال سے کہا ’کیا میں جا سکتا ہوں؟‘ جسے سن کر وہ حیران ہوگئے، کیونکہ اس سے پہلے رفیع نے ان سے کبھی اس طرح اجازت نہیں مانگی تھی۔اگلے دن 31 جولائی 1980 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
  • محمدرفیع کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً 37 سال ہوچکے ہیں، لیکن ان مداح اور فین کی تعداد میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔محمدرفیع کو یہ خداداد صلاحیت حاصل تھی کہ انہوں نے ہر موقع کے نغمے گائے، لیکن جذباتی، دکھ بھرے اور بھجن ومذہبی گیتوں کو آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔بلکہ ان کے بھجن ہندؤوں کے تہواروں پر بجائے جاتے ہیں۔(نوٹ : سبھی تصاویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ )۔

تازہ ترین تصاویر