کولگام ہلاکتوں کے خلاف کشمیر میں ہڑتال، 2 اضلاع میں پابندیاں، آسیہ اندرابی گرفتار

Feb 13, 2017 04:18 PM IST
1 of 7
  • جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں اتوار کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ اور اس کے بعد آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں4 جنگجوؤں اور 2 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی بھر میں پیر کو علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپ میں 2 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک میجر سمیت تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

    جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں اتوار کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ اور اس کے بعد آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں4 جنگجوؤں اور 2 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی بھر میں پیر کو علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپ میں 2 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک میجر سمیت تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

  • انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں مزیداحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع کولگام کے ناگہ بل فرصل میں اتوار کی صبح ہونے والی جھڑپ میں 4 جنگجو ، ایک شہری اور 2 فوجی اہلکار ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی شدید جھڑپوں میں ایک شہری جاں بحق جبکہ کم از کم دو درجن دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے قریب ایک درجن کو گولیاں لگی ہیں۔ اس دوران ریاستی پولیس نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی پرسنل سکریٹری صوفی فہمیدہ کو حراست میں لیکر زنانہ پولیس تھانہ رامباغ منتقل کردیا ہے۔

    انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں مزیداحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع کولگام کے ناگہ بل فرصل میں اتوار کی صبح ہونے والی جھڑپ میں 4 جنگجو ، ایک شہری اور 2 فوجی اہلکار ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی شدید جھڑپوں میں ایک شہری جاں بحق جبکہ کم از کم دو درجن دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے قریب ایک درجن کو گولیاں لگی ہیں۔ اس دوران ریاستی پولیس نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی پرسنل سکریٹری صوفی فہمیدہ کو حراست میں لیکر زنانہ پولیس تھانہ رامباغ منتقل کردیا ہے۔

  •  آسیہ اندرابی جنہیں گذشتہ برس کے 4 اکتوبر کو حراست میں لیکر 21 دسمبر کو رہا کیا گیا تھا، کو پولیس نے پیر کی صبح اپنی رہائش گاہ سے دوبارہ حراست میں لیا ہے جہاں وہ نظربند تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ ہڑتال کی کال کے پیش نظر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم دونوں اضلاع میں زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی جہاں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا تھا کہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

    آسیہ اندرابی جنہیں گذشتہ برس کے 4 اکتوبر کو حراست میں لیکر 21 دسمبر کو رہا کیا گیا تھا، کو پولیس نے پیر کی صبح اپنی رہائش گاہ سے دوبارہ حراست میں لیا ہے جہاں وہ نظربند تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ ہڑتال کی کال کے پیش نظر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم دونوں اضلاع میں زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی جہاں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا تھا کہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

  • کولگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع کے سبھی بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ایسے علاقوں میں بنیادی سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے۔ کولگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ انہیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ ، سبزیاں اور روٹی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شوپیان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق وہاں بھی کولگام جیسی صورتحال نظر آرہی ہے۔

    کولگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع کے سبھی بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ایسے علاقوں میں بنیادی سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے۔ کولگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ انہیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ ، سبزیاں اور روٹی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شوپیان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق وہاں بھی کولگام جیسی صورتحال نظر آرہی ہے۔

  • اس دوران کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ایس جے ایم گیلانی نے کہا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ کولگام ہلاکتوں کے خلاف علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر وادی بھر میں پیر کو ہڑتال رہی۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔

    اس دوران کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ایس جے ایم گیلانی نے کہا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ کولگام ہلاکتوں کے خلاف علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر وادی بھر میں پیر کو ہڑتال رہی۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔

  • سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ جنوبی کشمیر میں پابندیوں سے مستثنیٰ رکھے گئے اضلاع پلوامہ اور اننت ناگ میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ تاہم سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ پلوامہ اور اننت ناگ کے سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔

    سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ جنوبی کشمیر میں پابندیوں سے مستثنیٰ رکھے گئے اضلاع پلوامہ اور اننت ناگ میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ تاہم سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ پلوامہ اور اننت ناگ کے سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔

  • جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی اطلاعات شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ اور شوپیان کے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع سے بھی موصول ہوئیں۔

    جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی اطلاعات شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ اور شوپیان کے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع سے بھی موصول ہوئیں۔

  • انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں مزیداحتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع کولگام کے ناگہ بل فرصل میں اتوار کی صبح ہونے والی جھڑپ میں 4 جنگجو ، ایک شہری اور 2 فوجی اہلکار ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی شدید جھڑپوں میں ایک شہری جاں بحق جبکہ کم از کم دو درجن دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے قریب ایک درجن کو گولیاں لگی ہیں۔ اس دوران ریاستی پولیس نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی پرسنل سکریٹری صوفی فہمیدہ کو حراست میں لیکر زنانہ پولیس تھانہ رامباغ منتقل کردیا ہے۔
  •  آسیہ اندرابی جنہیں گذشتہ برس کے 4 اکتوبر کو حراست میں لیکر 21 دسمبر کو رہا کیا گیا تھا، کو پولیس نے پیر کی صبح اپنی رہائش گاہ سے دوبارہ حراست میں لیا ہے جہاں وہ نظربند تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ ہڑتال کی کال کے پیش نظر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے کولگام اور شوپیان اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم دونوں اضلاع میں زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی جہاں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا تھا کہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
  • کولگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق ضلع کے سبھی بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ایسے علاقوں میں بنیادی سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا ہے۔ کولگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ انہیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ ، سبزیاں اور روٹی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شوپیان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق وہاں بھی کولگام جیسی صورتحال نظر آرہی ہے۔
  • اس دوران کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ایس جے ایم گیلانی نے کہا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ کولگام ہلاکتوں کے خلاف علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر وادی بھر میں پیر کو ہڑتال رہی۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔
  • سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ جنوبی کشمیر میں پابندیوں سے مستثنیٰ رکھے گئے اضلاع پلوامہ اور اننت ناگ میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ تاہم سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی۔ پلوامہ اور اننت ناگ کے سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔
  • جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ہڑتال کی اطلاعات شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ اور شوپیان کے علاوہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع سے بھی موصول ہوئیں۔

تازہ ترین تصاویر