برہان وانی کی پہلی برسی پر کشمیر میں مکمل ہڑتال، پورے کشمیر میں پابندیاں نافذ

Jul 08, 2017 05:06 PM IST
1 of 13
  • حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی پر ہفتہ کو وادی کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس دوران انتظامیہ نے وادی کے مختلف حصوں بشمول ترال، شوپیان اور ترہگام میں اعلانیہ، سری نگر کے پائین شہر اور قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں نافذ کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ’ترال چلو‘ کی کال ناکام بنادی۔

    حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی پر ہفتہ کو وادی کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس دوران انتظامیہ نے وادی کے مختلف حصوں بشمول ترال، شوپیان اور ترہگام میں اعلانیہ، سری نگر کے پائین شہر اور قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندیاں نافذ کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ’ترال چلو‘ کی کال ناکام بنادی۔

  • کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے پہلے ہی پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے سخت ترین سیکورٹی پابندیاں کے نفاذ کے باوجود کشمیر کے مختلف حصوں بالخصوص ترال میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔

    کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے پہلے ہی پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے سخت ترین سیکورٹی پابندیاں کے نفاذ کے باوجود کشمیر کے مختلف حصوں بالخصوص ترال میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔

  •  برہان وانی جو کشمیر میں جنگجوؤں کا پوسٹر بوائے کہلاتا تھا، کو گذشتہ برس 8 جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ برہان سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے سبب وادی بھر میں انتہائی مقبول تھا۔

    برہان وانی جو کشمیر میں جنگجوؤں کا پوسٹر بوائے کہلاتا تھا، کو گذشتہ برس 8 جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ برہان سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے سبب وادی بھر میں انتہائی مقبول تھا۔

  •  سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں برہان وانی کی برسی کے موقع پر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ انٹرنیٹ اور ریل خدمات کو احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں برہان وانی کی برسی کے موقع پر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ انٹرنیٹ اور ریل خدمات کو احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔

  • علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کے نتیجے میں وادی کے سبھی دس اضلاع میں دکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سری نگر کے پائین شہر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔

    علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کے نتیجے میں وادی کے سبھی دس اضلاع میں دکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سری نگر کے پائین شہر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔

  • اس کے علاوہ سیول لائنز کے مائسمہ اور تاریخی لال چوک میں بھی ہفتہ کو پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ پائین شہر میں سخت ترین پابندیوں کے سبب تمام دکانیں اور تجارتی مراکز ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی بند رہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔

    اس کے علاوہ سیول لائنز کے مائسمہ اور تاریخی لال چوک میں بھی ہفتہ کو پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ پائین شہر میں سخت ترین پابندیوں کے سبب تمام دکانیں اور تجارتی مراکز ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی بند رہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔

  • سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پورے ضلع سری نگر میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے اس دعوے کے برخلاف پائین شہر اور سیول لائنز کے مائسمہ کی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سے ہی سیکورٹی فورسز نے شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کو کہا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پورے ضلع سری نگر میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے اس دعوے کے برخلاف پائین شہر اور سیول لائنز کے مائسمہ کی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سے ہی سیکورٹی فورسز نے شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کو کہا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔

  • پائین شہر میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی نفری تعینات رہی۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے جبکہ اس کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات رکھا گیا ہے۔

    پائین شہر میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی نفری تعینات رہی۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے جبکہ اس کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات رکھا گیا ہے۔

  •  یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ بیشتر سڑکوں بالخصوص نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر قمرواری تک بدستور خارداروں تاروں سے سیل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پائین شہر میں تمام حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز نے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔

    یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ بیشتر سڑکوں بالخصوص نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر قمرواری تک بدستور خارداروں تاروں سے سیل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پائین شہر میں تمام حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز نے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔

  •  پائین شہر کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو اُن کے علاقہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ صفا کدل سے براستہ عیدگاہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑک کو تاہم ایمبولینس اور بیماروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔

    پائین شہر کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو اُن کے علاقہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ صفا کدل سے براستہ عیدگاہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑک کو تاہم ایمبولینس اور بیماروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔

  •  ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے گڑھ مانے جانے والے ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں بڑی تعداد میں تعینات سیکورٹی فورسزاہلکار کسی بھی شخص کو مائسمہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔

    ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے گڑھ مانے جانے والے ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں بڑی تعداد میں تعینات سیکورٹی فورسزاہلکار کسی بھی شخص کو مائسمہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔

  • مائسمہ کے علاوہ تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جہاں برہان وانی کے آبائی علاقہ قصبہ ترال اور شوپیان میں اعلانیہ کرفیو، وہیں قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔

    مائسمہ کے علاوہ تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جہاں برہان وانی کے آبائی علاقہ قصبہ ترال اور شوپیان میں اعلانیہ کرفیو، وہیں قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔

  •  سیکورٹی فورسز نے برہان وانی کی برسی کے پیش نظر ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو جمعہ کے روز ہی سیل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ قصبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت نے 8 جولائی کو ریاست گیر ہڑتال کی کال دیتے ہوئے ترال میں شہداء کی یاد میں جلسہ خراج عقیدت منعقدکرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سیکورٹی فورسز نے برہان وانی کی برسی کے پیش نظر ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو جمعہ کے روز ہی سیل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ قصبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت نے 8 جولائی کو ریاست گیر ہڑتال کی کال دیتے ہوئے ترال میں شہداء کی یاد میں جلسہ خراج عقیدت منعقدکرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے پہلے ہی پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔ تاہم انتظامیہ کی طرف سے سخت ترین سیکورٹی پابندیاں کے نفاذ کے باوجود کشمیر کے مختلف حصوں بالخصوص ترال میں احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔
  •  برہان وانی جو کشمیر میں جنگجوؤں کا پوسٹر بوائے کہلاتا تھا، کو گذشتہ برس 8 جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ برہان سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے سبب وادی بھر میں انتہائی مقبول تھا۔
  •  سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں برہان وانی کی برسی کے موقع پر امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ انٹرنیٹ اور ریل خدمات کو احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔
  • علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کے نتیجے میں وادی کے سبھی دس اضلاع میں دکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سری نگر کے پائین شہر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔
  • اس کے علاوہ سیول لائنز کے مائسمہ اور تاریخی لال چوک میں بھی ہفتہ کو پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ پائین شہر میں سخت ترین پابندیوں کے سبب تمام دکانیں اور تجارتی مراکز ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی بند رہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔
  • سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پورے ضلع سری نگر میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے اس دعوے کے برخلاف پائین شہر اور سیول لائنز کے مائسمہ کی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سے ہی سیکورٹی فورسز نے شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کو کہا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔
  • پائین شہر میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی نفری تعینات رہی۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے جبکہ اس کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات رکھا گیا ہے۔
  •  یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ بیشتر سڑکوں بالخصوص نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر قمرواری تک بدستور خارداروں تاروں سے سیل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پائین شہر میں تمام حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز نے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔
  •  پائین شہر کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو اُن کے علاقہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ صفا کدل سے براستہ عیدگاہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑک کو تاہم ایمبولینس اور بیماروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔
  •  ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے گڑھ مانے جانے والے ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں بڑی تعداد میں تعینات سیکورٹی فورسزاہلکار کسی بھی شخص کو مائسمہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
  • مائسمہ کے علاوہ تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جہاں برہان وانی کے آبائی علاقہ قصبہ ترال اور شوپیان میں اعلانیہ کرفیو، وہیں قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔
  •  سیکورٹی فورسز نے برہان وانی کی برسی کے پیش نظر ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو جمعہ کے روز ہی سیل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ قصبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ علیحدگی پسند قیادت نے 8 جولائی کو ریاست گیر ہڑتال کی کال دیتے ہوئے ترال میں شہداء کی یاد میں جلسہ خراج عقیدت منعقدکرنے کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین تصاویر