میر واعظ محمد فاروق اور عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر کشمیر میں مکمل ہڑتال، شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں

May 21, 2017 06:26 PM IST
1 of 10
  •  وادی کشمیر میں اتوار کو مرحوم میر واعظ مولوی محمد فاروق اور مرحوم عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج رہی۔ ہڑتال کی اپیل علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کی تھی۔ انہوں نے دونوں حریت رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر آج سری نگر کے تاریخی عیدگاہ کے مزاز شہداء پر فاتحہ خوانی کی تقریب اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وہاں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

    وادی کشمیر میں اتوار کو مرحوم میر واعظ مولوی محمد فاروق اور مرحوم عبدالغنی لون کی برسیوں کے موقع پر مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج رہی۔ ہڑتال کی اپیل علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کی تھی۔ انہوں نے دونوں حریت رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر آج سری نگر کے تاریخی عیدگاہ کے مزاز شہداء پر فاتحہ خوانی کی تقریب اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وہاں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

  • تاہم کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ اور متعدد سینئر علیحدگی پسند راہنماؤں کو نظربند کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف مشتہر کردہ پروگرام کو ناکام بنادیا۔

    تاہم کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ اور متعدد سینئر علیحدگی پسند راہنماؤں کو نظربند کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف مشتہر کردہ پروگرام کو ناکام بنادیا۔

  •  علیحدگی پسند قیادت نے اپنے مشتہر کردہ پروگرام میں کشمیری عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ 21مئی کو مزار شہداء عیدگاہ سری نگر کے جلسہ خراج عقیدت کو کامیاب بنانے کے لئے اس روز مزار شہداء کا رخ کریں ۔

    علیحدگی پسند قیادت نے اپنے مشتہر کردہ پروگرام میں کشمیری عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ 21مئی کو مزار شہداء عیدگاہ سری نگر کے جلسہ خراج عقیدت کو کامیاب بنانے کے لئے اس روز مزار شہداء کا رخ کریں ۔

  • انہوں نے کہا تھا کہ 21مئی کو پوری قوم اس سال یہ دن یوم تجدید عہد کے طور پر منائے گی اور اس دن شہدائے کشمیر اور ان کے عظیم مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے تجدید عہد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ 21مئی کو پوری قوم اس سال یہ دن یوم تجدید عہد کے طور پر منائے گی اور اس دن شہدائے کشمیر اور ان کے عظیم مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے تجدید عہد کیا جائے گا۔

  • مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 ء کو نامعلوم بندوق برداروں نے اُن کی نگین رہائش گاہ میں ہلاک کیا تھاجبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو 2002 ء میں اُس وقت نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا تھا جب وہ میرواعظ کی 12 ویں برسی کے موقع پر عیدگاہ سری نگر میں منعقدہ اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔

    مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 ء کو نامعلوم بندوق برداروں نے اُن کی نگین رہائش گاہ میں ہلاک کیا تھاجبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو 2002 ء میں اُس وقت نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا تھا جب وہ میرواعظ کی 12 ویں برسی کے موقع پر عیدگاہ سری نگر میں منعقدہ اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔

  • مرحوم مولوی محمد فاروق حریت کانفرنس (ع) کے موجودہ چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کے والد ہیں جبکہ مرحوم عبدالغنی لون ریاستی وزیر سجاد غنی لون اور علیحدگی پسند لیڈر بلال غنی لون کے والد ہیں۔ 21 مئی 1990 ء کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کی ہلاکت کے بعد 50 سے زائد سوگوار اُس وقت جاں بحق ہوئے تھے جب سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مبینہ طور پر گوجوارہ کے مقام پر میرواعظ کے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔

    مرحوم مولوی محمد فاروق حریت کانفرنس (ع) کے موجودہ چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کے والد ہیں جبکہ مرحوم عبدالغنی لون ریاستی وزیر سجاد غنی لون اور علیحدگی پسند لیڈر بلال غنی لون کے والد ہیں۔ 21 مئی 1990 ء کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کی ہلاکت کے بعد 50 سے زائد سوگوار اُس وقت جاں بحق ہوئے تھے جب سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مبینہ طور پر گوجوارہ کے مقام پر میرواعظ کے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔

  • مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو وادی کشمیر میں ’شہید ملت‘ جبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو ’شہید حریت‘ کے القاب سے جانا جاتا ہے۔

    مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو وادی کشمیر میں ’شہید ملت‘ جبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو ’شہید حریت‘ کے القاب سے جانا جاتا ہے۔

  • کشمیر انتظامیہ نے دونوں حریت رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر ’مزار شہداء عیدگاہ چلو‘ پروگرام کو ناکام بنانے اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کو روکنے کے لئے سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

    کشمیر انتظامیہ نے دونوں حریت رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر ’مزار شہداء عیدگاہ چلو‘ پروگرام کو ناکام بنانے اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کو روکنے کے لئے سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

  • اگرچہ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے احکامات کے مطابق امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں پابندیاں نافذ رہیں ، تاہم زمینی صورتحال اس کے برخلاف تھی۔

    اگرچہ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے احکامات کے مطابق امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں پابندیاں نافذ رہیں ، تاہم زمینی صورتحال اس کے برخلاف تھی۔

  • اِن علاقوں کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ خیال رہے کہ پائین شہر کے تین پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں ہفتہ کے روز بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر ضلع مجسٹریٹ کے احکامات پر پابندیاں نافذ رہیں۔ ( تصاویر اور خبر : یو این آئی ) ۔

    اِن علاقوں کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ خیال رہے کہ پائین شہر کے تین پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں ہفتہ کے روز بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر ضلع مجسٹریٹ کے احکامات پر پابندیاں نافذ رہیں۔ ( تصاویر اور خبر : یو این آئی ) ۔

  • تاہم کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ اور متعدد سینئر علیحدگی پسند راہنماؤں کو نظربند کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف مشتہر کردہ پروگرام کو ناکام بنادیا۔
  •  علیحدگی پسند قیادت نے اپنے مشتہر کردہ پروگرام میں کشمیری عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ 21مئی کو مزار شہداء عیدگاہ سری نگر کے جلسہ خراج عقیدت کو کامیاب بنانے کے لئے اس روز مزار شہداء کا رخ کریں ۔
  • انہوں نے کہا تھا کہ 21مئی کو پوری قوم اس سال یہ دن یوم تجدید عہد کے طور پر منائے گی اور اس دن شہدائے کشمیر اور ان کے عظیم مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے تجدید عہد کیا جائے گا۔
  • مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 ء کو نامعلوم بندوق برداروں نے اُن کی نگین رہائش گاہ میں ہلاک کیا تھاجبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو 2002 ء میں اُس وقت نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا تھا جب وہ میرواعظ کی 12 ویں برسی کے موقع پر عیدگاہ سری نگر میں منعقدہ اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔
  • مرحوم مولوی محمد فاروق حریت کانفرنس (ع) کے موجودہ چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کے والد ہیں جبکہ مرحوم عبدالغنی لون ریاستی وزیر سجاد غنی لون اور علیحدگی پسند لیڈر بلال غنی لون کے والد ہیں۔ 21 مئی 1990 ء کو میرواعظ مولوی محمد فاروق کی ہلاکت کے بعد 50 سے زائد سوگوار اُس وقت جاں بحق ہوئے تھے جب سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مبینہ طور پر گوجوارہ کے مقام پر میرواعظ کے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔
  • مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کو وادی کشمیر میں ’شہید ملت‘ جبکہ مرحوم عبدالغنی لون کو ’شہید حریت‘ کے القاب سے جانا جاتا ہے۔
  • کشمیر انتظامیہ نے دونوں حریت رہنماؤں کی برسیوں کے موقع پر ’مزار شہداء عیدگاہ چلو‘ پروگرام کو ناکام بنانے اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کو روکنے کے لئے سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔
  • اگرچہ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے احکامات کے مطابق امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں پابندیاں نافذ رہیں ، تاہم زمینی صورتحال اس کے برخلاف تھی۔
  • اِن علاقوں کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ خیال رہے کہ پائین شہر کے تین پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج اور صفا کدل کے تحت آنے والے علاقوں میں ہفتہ کے روز بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر ضلع مجسٹریٹ کے احکامات پر پابندیاں نافذ رہیں۔ ( تصاویر اور خبر : یو این آئی ) ۔

تازہ ترین تصاویر