کھیلتا ہے ، پڑھتا ہے اور ہر صبح اسکول جاتا ہے 68 سالہ یہ بچہ

Jun 17, 2016 05:32 PM IST
1 of 13
  • اسکول میں بچوں کے درمیان اس بوڑھے شخص کو دیکھ کر آپ کو حیرانی ہونی لازمی ہے۔ لیکن اس کی کہانی جان کر آپ کو اس شخص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے ۔

    اسکول میں بچوں کے درمیان اس بوڑھے شخص کو دیکھ کر آپ کو حیرانی ہونی لازمی ہے۔ لیکن اس کی کہانی جان کر آپ کو اس شخص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے ۔

  • کچھ کہانیاں خوبصورت ہوتی ہیں، متاثر کن ہوتی ہیں، جو  ہمارے جذبات کو جھنجھور کر رکھ  دیتی ہیں ۔ یہ کہانی ایک عزم کی ہے۔ یہ کہانی بڑھتے رہنے کی ہے، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے ، جسے لوگ درگا کامی کہتے ہیں۔

    کچھ کہانیاں خوبصورت ہوتی ہیں، متاثر کن ہوتی ہیں، جو ہمارے جذبات کو جھنجھور کر رکھ دیتی ہیں ۔ یہ کہانی ایک عزم کی ہے۔ یہ کہانی بڑھتے رہنے کی ہے، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے ، جسے لوگ درگا کامی کہتے ہیں۔

  • پہاڑیوں کے درمیان آباد گاؤں سگنجا کے رہنے والے کامی یوں تو 68 سال کے ہیں، لیکن اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے وہ پھر سے بچہ جیسا بن گئے ہیں۔

    پہاڑیوں کے درمیان آباد گاؤں سگنجا کے رہنے والے کامی یوں تو 68 سال کے ہیں، لیکن اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے وہ پھر سے بچہ جیسا بن گئے ہیں۔

  • کامی کا گاؤں نیپال کے کھٹمنڈو سے 250 کلومیٹر دور ہے۔

    کامی کا گاؤں نیپال کے کھٹمنڈو سے 250 کلومیٹر دور ہے۔

  • چھ بچوں کے باپ اور 8 بچوںکے دادا اور نانا کامی بچپن میں ایک اسکول میں ٹیچر بننا چاہتے تھے۔ افسوس یہ رہا کہ غربت نے ان کے لئے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔

    چھ بچوں کے باپ اور 8 بچوںکے دادا اور نانا کامی بچپن میں ایک اسکول میں ٹیچر بننا چاہتے تھے۔ افسوس یہ رہا کہ غربت نے ان کے لئے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔

  • انہیں کبھی بھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ وہ اپنی زندگی اسی افسوس کے ساتھ جیتے رہے ، لیکن ایک دن انہوں نے اس افسوس کے ازالہ کا فیصلہ کرلیا۔

    انہیں کبھی بھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ وہ اپنی زندگی اسی افسوس کے ساتھ جیتے رہے ، لیکن ایک دن انہوں نے اس افسوس کے ازالہ کا فیصلہ کرلیا۔

  • بیوی کی موت کے بعد کامی نے تنہائی ختم کرنے کے لئے مقامی اسکول میں داخلہ لے لیا۔

    بیوی کی موت کے بعد کامی نے تنہائی ختم کرنے کے لئے مقامی اسکول میں داخلہ لے لیا۔

  • کامی ایک کمرے کے گھر میں اکیلے رہتے ہیں ، لیکن یہاں کامی کو اپنی نوجوان خواہشوں کو پورا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

    کامی ایک کمرے کے گھر میں اکیلے رہتے ہیں ، لیکن یہاں کامی کو اپنی نوجوان خواہشوں کو پورا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

  • کامی اس وقت شری کلا بھیراب سیکنڈری اسکول میں دسویں کلاس میں ہیں۔

    کامی اس وقت شری کلا بھیراب سیکنڈری اسکول میں دسویں کلاس میں ہیں۔

  • وہ ہفتے میں 6 دن اسکول جاتے ہیں۔ اسکول کے بچوں کے ساتھ وہ ایک دم گھل مل کر رہتے ہیں۔ وہ کھیلتے بھی ہیں۔

    وہ ہفتے میں 6 دن اسکول جاتے ہیں۔ اسکول کے بچوں کے ساتھ وہ ایک دم گھل مل کر رہتے ہیں۔ وہ کھیلتے بھی ہیں۔

  • کامی نے اس کی شروعات كهارے پرائمری اسکول سے کی تھی ، جہاں انہوں نے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ۔

    کامی نے اس کی شروعات كهارے پرائمری اسکول سے کی تھی ، جہاں انہوں نے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ۔

  • وہ کہتے ہیں کہ مرتے دم تک پڑھنا ہی ان کی خواہش ہے اور وہ باقی لوگوں کے لئے بھی ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں ۔

    وہ کہتے ہیں کہ مرتے دم تک پڑھنا ہی ان کی خواہش ہے اور وہ باقی لوگوں کے لئے بھی ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں ۔

  • یہ تمام فوٹو رائٹرز کے ناویش چتراكر کی ہیں ، جنہوں نے درگا کامی کے معمولات کو کیمرے میں قید کیا ہے ۔

    یہ تمام فوٹو رائٹرز کے ناویش چتراكر کی ہیں ، جنہوں نے درگا کامی کے معمولات کو کیمرے میں قید کیا ہے ۔

  • کچھ کہانیاں خوبصورت ہوتی ہیں، متاثر کن ہوتی ہیں، جو  ہمارے جذبات کو جھنجھور کر رکھ  دیتی ہیں ۔ یہ کہانی ایک عزم کی ہے۔ یہ کہانی بڑھتے رہنے کی ہے، یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے ، جسے لوگ درگا کامی کہتے ہیں۔
  • پہاڑیوں کے درمیان آباد گاؤں سگنجا کے رہنے والے کامی یوں تو 68 سال کے ہیں، لیکن اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے وہ پھر سے بچہ جیسا بن گئے ہیں۔
  • کامی کا گاؤں نیپال کے کھٹمنڈو سے 250 کلومیٹر دور ہے۔
  • چھ بچوں کے باپ اور 8 بچوںکے دادا اور نانا کامی بچپن میں ایک اسکول میں ٹیچر بننا چاہتے تھے۔ افسوس یہ رہا کہ غربت نے ان کے لئے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔
  • انہیں کبھی بھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ وہ اپنی زندگی اسی افسوس کے ساتھ جیتے رہے ، لیکن ایک دن انہوں نے اس افسوس کے ازالہ کا فیصلہ کرلیا۔
  • بیوی کی موت کے بعد کامی نے تنہائی ختم کرنے کے لئے مقامی اسکول میں داخلہ لے لیا۔
  • کامی ایک کمرے کے گھر میں اکیلے رہتے ہیں ، لیکن یہاں کامی کو اپنی نوجوان خواہشوں کو پورا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
  • کامی اس وقت شری کلا بھیراب سیکنڈری اسکول میں دسویں کلاس میں ہیں۔
  • وہ ہفتے میں 6 دن اسکول جاتے ہیں۔ اسکول کے بچوں کے ساتھ وہ ایک دم گھل مل کر رہتے ہیں۔ وہ کھیلتے بھی ہیں۔
  • کامی نے اس کی شروعات كهارے پرائمری اسکول سے کی تھی ، جہاں انہوں نے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ۔
  • وہ کہتے ہیں کہ مرتے دم تک پڑھنا ہی ان کی خواہش ہے اور وہ باقی لوگوں کے لئے بھی ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں ۔
  • یہ تمام فوٹو رائٹرز کے ناویش چتراكر کی ہیں ، جنہوں نے درگا کامی کے معمولات کو کیمرے میں قید کیا ہے ۔

تازہ ترین تصاویر