تین طلاق کا مسئلہ پھر سرخیوں میں ، حیدرآباد میں دو شوہروں نے ای میل اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ دی طلاق ، علما نے کی مذمت

Mar 06, 2017 07:44 PM IST
1 of 10
  • حیدرآباد کی دو مسلم خواتین نے شکایت درج کرائی ہے کہ ان کے شوہروں نے سوشل میڈیا اور ای میل کے ذ ریعہ انہیں طلاق دے دی ۔  دونوں کے شوہر بیرون ملک رہتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ دونوں نے طلاق کے اس طریقہ کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    حیدرآباد کی دو مسلم خواتین نے شکایت درج کرائی ہے کہ ان کے شوہروں نے سوشل میڈیا اور ای میل کے ذ ریعہ انہیں طلاق دے دی ۔ دونوں کے شوہر بیرون ملک رہتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ دونوں نے طلاق کے اس طریقہ کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

  • ادھر اس طریقہ سے طلاق کے واقعہ پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی حلقوں نے بھی مذمت کا اظہار کیا ہے ۔

    ادھر اس طریقہ سے طلاق کے واقعہ پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی حلقوں نے بھی مذمت کا اظہار کیا ہے ۔

  •  دونوں خواتین نے شکا یت کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کے خلاف شکایت بھی درج کرائی ہے ۔

    دونوں خواتین نے شکا یت کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کے خلاف شکایت بھی درج کرائی ہے ۔

  •  پولیس نے ساس اور خسر کے خلاف ہراسانی اور بدسلوکی کا کیس درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے ۔

    پولیس نے ساس اور خسر کے خلاف ہراسانی اور بدسلوکی کا کیس درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے ۔

  • قابل ذکر ہے کہ پرانے شہر حیدرآباد کی دو خواتین مہرین نوراور سیدہ حنا فاطمہ کی شادی دو سگے بھائیوں فیاض الدین اورعثمان قریشی سے ہوئی تھی ۔

    قابل ذکر ہے کہ پرانے شہر حیدرآباد کی دو خواتین مہرین نوراور سیدہ حنا فاطمہ کی شادی دو سگے بھائیوں فیاض الدین اورعثمان قریشی سے ہوئی تھی ۔

  •  فی الحال بیرون ملک مقیم ان دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی بیویوں کو تقریباً یکساں طریقہ سے طلاق دینے کا پیغام بھجوایا ہے۔

    فی الحال بیرون ملک مقیم ان دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی بیویوں کو تقریباً یکساں طریقہ سے طلاق دینے کا پیغام بھجوایا ہے۔

  • پہلے مہرین نور کو ان کے دو بچوں کے ساتھ اور پھر حنا فاطمہ کو ان کے ساس اور خسر نے اپنے گھر سے نکا ل دیا ۔

    پہلے مہرین نور کو ان کے دو بچوں کے ساتھ اور پھر حنا فاطمہ کو ان کے ساس اور خسر نے اپنے گھر سے نکا ل دیا ۔

  •  مہرین نور کو واٹس اپ اور حنا فاطمہ کو ای میل کے ذریعہ طلاق کے پیغامات موصول ہوئے ۔

    مہرین نور کو واٹس اپ اور حنا فاطمہ کو ای میل کے ذریعہ طلاق کے پیغامات موصول ہوئے ۔

  • دونوں خواتین  نے اپنے سسرالی گھر کے باہر احتجاج بھی کرنے کی کوشش کی ۔

    دونوں خواتین نے اپنے سسرالی گھر کے باہر احتجاج بھی کرنے کی کوشش کی ۔

  • ادھر شرعی طریقہ کی بجائے دوسرے طریقوں سے طلاق دینے پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی دونوں حلقوں نے مذمت کرتے ہوئے اسے غلط غیرمناسب اور غیر قانونی قرار دیا ۔

    ادھر شرعی طریقہ کی بجائے دوسرے طریقوں سے طلاق دینے پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی دونوں حلقوں نے مذمت کرتے ہوئے اسے غلط غیرمناسب اور غیر قانونی قرار دیا ۔

  • ادھر اس طریقہ سے طلاق کے واقعہ پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی حلقوں نے بھی مذمت کا اظہار کیا ہے ۔
  •  دونوں خواتین نے شکا یت کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کے خلاف شکایت بھی درج کرائی ہے ۔
  •  پولیس نے ساس اور خسر کے خلاف ہراسانی اور بدسلوکی کا کیس درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے ۔
  • قابل ذکر ہے کہ پرانے شہر حیدرآباد کی دو خواتین مہرین نوراور سیدہ حنا فاطمہ کی شادی دو سگے بھائیوں فیاض الدین اورعثمان قریشی سے ہوئی تھی ۔
  •  فی الحال بیرون ملک مقیم ان دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی بیویوں کو تقریباً یکساں طریقہ سے طلاق دینے کا پیغام بھجوایا ہے۔
  • پہلے مہرین نور کو ان کے دو بچوں کے ساتھ اور پھر حنا فاطمہ کو ان کے ساس اور خسر نے اپنے گھر سے نکا ل دیا ۔
  •  مہرین نور کو واٹس اپ اور حنا فاطمہ کو ای میل کے ذریعہ طلاق کے پیغامات موصول ہوئے ۔
  • دونوں خواتین  نے اپنے سسرالی گھر کے باہر احتجاج بھی کرنے کی کوشش کی ۔
  • ادھر شرعی طریقہ کی بجائے دوسرے طریقوں سے طلاق دینے پر حیدرآباد میں مذہبی اور سماجی دونوں حلقوں نے مذمت کرتے ہوئے اسے غلط غیرمناسب اور غیر قانونی قرار دیا ۔

تازہ ترین تصاویر