اترپردیش اسمبلی انتخابات : یہاں فیصلہ کن ثابت ہوتاہے مسلم ووٹ ، سبھی سیاسی پارٹیوں کی نگاہیں مرکوز ، خاموشی سے کھلبلی

Jan 13, 2017 08:52 PM IST
1 of 12
  • سماجوادی پارٹی کےداخلی انتشار اور فیملی وار سے کیاپارٹی کا ووٹ بینک تقسیم ہورہاہے؟ کیاسماج وادی پارٹی کا مخصوص مسلم ووٹ بینک دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف راغب ہوا ہے؟ کیا مایاوتی کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ اب مسلمان سماج وادی پارٹی کے ساتھ جاکراپنا ووٹ بیکار نہیں کرے گا۔ سیاست میں دلچسپی رکھنے والےلوگون کوایسے کئی سوالات پریشان کیے ہوئے ہیں۔

    سماجوادی پارٹی کےداخلی انتشار اور فیملی وار سے کیاپارٹی کا ووٹ بینک تقسیم ہورہاہے؟ کیاسماج وادی پارٹی کا مخصوص مسلم ووٹ بینک دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف راغب ہوا ہے؟ کیا مایاوتی کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ اب مسلمان سماج وادی پارٹی کے ساتھ جاکراپنا ووٹ بیکار نہیں کرے گا۔ سیاست میں دلچسپی رکھنے والےلوگون کوایسے کئی سوالات پریشان کیے ہوئے ہیں۔

  • اتر پردیش میں اب الیکشن فلو اور فیور کو صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    اتر پردیش میں اب الیکشن فلو اور فیور کو صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

  • مسلم ووٹ بنک اور سماج وادی پارٹی کےتعلق سے قیاس آرائی، خدشوں اور اندیشوں کا بازار گرم ہے۔

    مسلم ووٹ بنک اور سماج وادی پارٹی کےتعلق سے قیاس آرائی، خدشوں اور اندیشوں کا بازار گرم ہے۔

  • مسلمانوں کے مسیحا کہے جانے والے ملا ملائم سنگھ اوراتر پردیش سیاست کے نئے اور اہم چہرے اکھلیش یادو کے مابین وراثت وسیاست کی جنگ نے اس مرتبہ اس ریاست کا نقشہ ہی بدل دیاہے۔

    مسلمانوں کے مسیحا کہے جانے والے ملا ملائم سنگھ اوراتر پردیش سیاست کے نئے اور اہم چہرے اکھلیش یادو کے مابین وراثت وسیاست کی جنگ نے اس مرتبہ اس ریاست کا نقشہ ہی بدل دیاہے۔

  • ڈاکٹر یٰسین عثمانی، اور ظفریاب جیلانی جیسی شخصیات کو امید ہے کہ مسلمان سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں اور جلد ہی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے ، لہٰذا ان کے بیانات کو اس روشنی میں بھی دیکھاجانا چاہئے۔

    ڈاکٹر یٰسین عثمانی، اور ظفریاب جیلانی جیسی شخصیات کو امید ہے کہ مسلمان سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں اور جلد ہی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے ، لہٰذا ان کے بیانات کو اس روشنی میں بھی دیکھاجانا چاہئے۔

  • دوسری طرف 97 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے والی بی ایس پی کا کہنا ہے کہ مسلم طبقہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ جو لوگ گھر پریوار نہیں سنبھال پا رہے ہیں، وہ ریاست کس طرح سنبھالیںگے۔

    دوسری طرف 97 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے والی بی ایس پی کا کہنا ہے کہ مسلم طبقہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ جو لوگ گھر پریوار نہیں سنبھال پا رہے ہیں، وہ ریاست کس طرح سنبھالیںگے۔

  • بی جے پی کے اپنے دعوے ہیں اورکانگریس کی مانیں تو مسلمان امید وحسرت سے اس کی طرف دیکھ رہےہیں۔

    بی جے پی کے اپنے دعوے ہیں اورکانگریس کی مانیں تو مسلمان امید وحسرت سے اس کی طرف دیکھ رہےہیں۔

  • ان سب دعووں کے درمیان مسلم سماج کے لوگ اپنے اپنےطورپر تجزیہ کررہے ہیں ۔

    ان سب دعووں کے درمیان مسلم سماج کے لوگ اپنے اپنےطورپر تجزیہ کررہے ہیں ۔

  • حقیقت یہی ہے کہ مسلم ووٹ بینک نے ابھی تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ سماجوادی پارٹی سے جذباتی طور پر وابستہ افراد میں تشویش وتذبذب ضرور ہے ۔

    حقیقت یہی ہے کہ مسلم ووٹ بینک نے ابھی تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ سماجوادی پارٹی سے جذباتی طور پر وابستہ افراد میں تشویش وتذبذب ضرور ہے ۔

  • لیکن ایک بڑا طبقہ بدلتے سیاسی منظر نامے پر سنجیدہ غوروخوص کر رہاہےاور امید یہی کی جارہی ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنے جمہوری ودستوری حق کااستعمال پوری سیاسی دانشمندی سےکرے گا ۔

    لیکن ایک بڑا طبقہ بدلتے سیاسی منظر نامے پر سنجیدہ غوروخوص کر رہاہےاور امید یہی کی جارہی ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنے جمہوری ودستوری حق کااستعمال پوری سیاسی دانشمندی سےکرے گا ۔

  • خیا ل رہے کہ درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ 30 فیصد سے زیادہ ہے اور وہ جس طرف جاتے ہیں ، اس امیدوار کی جیت تقریبا طے مانی جاتی ہے۔

    خیا ل رہے کہ درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ 30 فیصد سے زیادہ ہے اور وہ جس طرف جاتے ہیں ، اس امیدوار کی جیت تقریبا طے مانی جاتی ہے۔

  • علاوہ ازیں دیگر درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ سے ہر پارٹی مسلمانوں کی طرف نگاہیں مرکوز کئے بیٹھی ہیں ۔ تاہم فی الحال مسلم ووٹر خاموش ہیں ، جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں جہاں اپنا اپنا دعوی ٹھونک رہی ہیں ، وہیں اندرون خانہ ان میں کھلبلی بھی مچی ہوئی ہے۔

    علاوہ ازیں دیگر درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ سے ہر پارٹی مسلمانوں کی طرف نگاہیں مرکوز کئے بیٹھی ہیں ۔ تاہم فی الحال مسلم ووٹر خاموش ہیں ، جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں جہاں اپنا اپنا دعوی ٹھونک رہی ہیں ، وہیں اندرون خانہ ان میں کھلبلی بھی مچی ہوئی ہے۔

  • اتر پردیش میں اب الیکشن فلو اور فیور کو صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
  • مسلم ووٹ بنک اور سماج وادی پارٹی کےتعلق سے قیاس آرائی، خدشوں اور اندیشوں کا بازار گرم ہے۔
  • مسلمانوں کے مسیحا کہے جانے والے ملا ملائم سنگھ اوراتر پردیش سیاست کے نئے اور اہم چہرے اکھلیش یادو کے مابین وراثت وسیاست کی جنگ نے اس مرتبہ اس ریاست کا نقشہ ہی بدل دیاہے۔
  • ڈاکٹر یٰسین عثمانی، اور ظفریاب جیلانی جیسی شخصیات کو امید ہے کہ مسلمان سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں اور جلد ہی مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے ، لہٰذا ان کے بیانات کو اس روشنی میں بھی دیکھاجانا چاہئے۔
  • دوسری طرف 97 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے والی بی ایس پی کا کہنا ہے کہ مسلم طبقہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ جو لوگ گھر پریوار نہیں سنبھال پا رہے ہیں، وہ ریاست کس طرح سنبھالیںگے۔
  • بی جے پی کے اپنے دعوے ہیں اورکانگریس کی مانیں تو مسلمان امید وحسرت سے اس کی طرف دیکھ رہےہیں۔
  • ان سب دعووں کے درمیان مسلم سماج کے لوگ اپنے اپنےطورپر تجزیہ کررہے ہیں ۔
  • حقیقت یہی ہے کہ مسلم ووٹ بینک نے ابھی تک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ سماجوادی پارٹی سے جذباتی طور پر وابستہ افراد میں تشویش وتذبذب ضرور ہے ۔
  • لیکن ایک بڑا طبقہ بدلتے سیاسی منظر نامے پر سنجیدہ غوروخوص کر رہاہےاور امید یہی کی جارہی ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنے جمہوری ودستوری حق کااستعمال پوری سیاسی دانشمندی سےکرے گا ۔
  • خیا ل رہے کہ درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ 30 فیصد سے زیادہ ہے اور وہ جس طرف جاتے ہیں ، اس امیدوار کی جیت تقریبا طے مانی جاتی ہے۔
  • علاوہ ازیں دیگر درجنوں سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ سے ہر پارٹی مسلمانوں کی طرف نگاہیں مرکوز کئے بیٹھی ہیں ۔ تاہم فی الحال مسلم ووٹر خاموش ہیں ، جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں جہاں اپنا اپنا دعوی ٹھونک رہی ہیں ، وہیں اندرون خانہ ان میں کھلبلی بھی مچی ہوئی ہے۔

تازہ ترین تصاویر