یوپی اسمبلی انتخابات : مسلم خواتین میں بھی بڑھ رہی ہے سیاسی بیداری ، اپنی مرضی سے ڈالنا چاہتی ہیں اپنا ووٹ

Jan 15, 2017 04:45 PM IST
1 of 7
  • بدلتے سیاسی منظرنامے میں خواتین ووٹروں کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔ خواتین میں بڑھتی سیاسی بیداری واضح طور پر یہ اشارے دے رہی ہے کہ اب خواتین بھی اپنےدستوری اور جمہوری حقوق کے لیے بیدار ہوچکی ہیں ۔ وہ سمجھ رہی ہیں کہ انہیں اپنا ووٹ کسے دینا ہے اور کیوں دینا ہے ۔ نہ اب وہ مذہب کے نام پر ووٹ ڈالناچاپتی ہیں او ر نہ ہی کسی رشتے کے دباؤ میں اسے ضائع کرنا چاپتی ہیں ۔

    بدلتے سیاسی منظرنامے میں خواتین ووٹروں کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔ خواتین میں بڑھتی سیاسی بیداری واضح طور پر یہ اشارے دے رہی ہے کہ اب خواتین بھی اپنےدستوری اور جمہوری حقوق کے لیے بیدار ہوچکی ہیں ۔ وہ سمجھ رہی ہیں کہ انہیں اپنا ووٹ کسے دینا ہے اور کیوں دینا ہے ۔ نہ اب وہ مذہب کے نام پر ووٹ ڈالناچاپتی ہیں او ر نہ ہی کسی رشتے کے دباؤ میں اسے ضائع کرنا چاپتی ہیں ۔

  •  خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو بھی اپنے مسائل کا حل چاہئے۔اب وہ جبر وتشدد اور گھٹن اور استحصال سےباہر نکلنا چاہتی ہیں ۔ تحفظ اور ترقی کی متلاشی ہیں ۔ بچوں کے لئے تعلیم، روشن مستقبل اورسماج میں مقام کی خواہاں ہیں۔ اس لئےمسلم وزیروں، دیگرسیاسی رہنماؤں اورعالموں کا تو سوال ہی کیا اب وہ آئینی اوردستوری حق کے استعمال کے لئے شوہروں کی بات بھی ماننے کو تیار نہیں ۔

    خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو بھی اپنے مسائل کا حل چاہئے۔اب وہ جبر وتشدد اور گھٹن اور استحصال سےباہر نکلنا چاہتی ہیں ۔ تحفظ اور ترقی کی متلاشی ہیں ۔ بچوں کے لئے تعلیم، روشن مستقبل اورسماج میں مقام کی خواہاں ہیں۔ اس لئےمسلم وزیروں، دیگرسیاسی رہنماؤں اورعالموں کا تو سوال ہی کیا اب وہ آئینی اوردستوری حق کے استعمال کے لئے شوہروں کی بات بھی ماننے کو تیار نہیں ۔

  • ہندوستانی سماج کو پروش پردھان سماج یعنی مردوں کی اجارہ داری والا معاشرہ تصور کیاجاتا رہا ہے۔ اس سماج میں میں خواتین کے دائرے بڑے محدود رہے ہیں۔ بات اگر مسلم معاشرے کے حوالے سے کی جائے تو یہ صورت حال مزید خراب نظرآتی ہے۔

    ہندوستانی سماج کو پروش پردھان سماج یعنی مردوں کی اجارہ داری والا معاشرہ تصور کیاجاتا رہا ہے۔ اس سماج میں میں خواتین کے دائرے بڑے محدود رہے ہیں۔ بات اگر مسلم معاشرے کے حوالے سے کی جائے تو یہ صورت حال مزید خراب نظرآتی ہے۔

  • دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر خاندانوں میں خواتین اپنا ووٹ اپنے شوہروں یا کنبہ کےذمہ دار لوگوں کے کہنے پرہی ڈالا کرتی ہیں۔ لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں۔

    دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر خاندانوں میں خواتین اپنا ووٹ اپنے شوہروں یا کنبہ کےذمہ دار لوگوں کے کہنے پرہی ڈالا کرتی ہیں۔ لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں۔

  • ہندوستانی خواتین باغی بھلے ہی نہ ہوئی ہوں ، لیکن بیدارا ور سمجھدار ضرور ہوگئی ہیں۔ اب وہ اپنے ووٹ کی قدروقیمت سمجھنے لگی ہیں اور اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کسی سماجی یا مذہبی رشتے کے دباؤ میں نہیں بلکہ اپنے مسائل کی روشنی میں کرنا چاہتی ہیں۔

    ہندوستانی خواتین باغی بھلے ہی نہ ہوئی ہوں ، لیکن بیدارا ور سمجھدار ضرور ہوگئی ہیں۔ اب وہ اپنے ووٹ کی قدروقیمت سمجھنے لگی ہیں اور اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کسی سماجی یا مذہبی رشتے کے دباؤ میں نہیں بلکہ اپنے مسائل کی روشنی میں کرنا چاہتی ہیں۔

  • حالانکہ شہروں اور دیہاتوں کی سطح پر یہ تصویر کچھ الگ الگ نظرآتی ہے۔ ساتھ ہی دیگر کئی فیکٹر بھی اس پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔

    حالانکہ شہروں اور دیہاتوں کی سطح پر یہ تصویر کچھ الگ الگ نظرآتی ہے۔ ساتھ ہی دیگر کئی فیکٹر بھی اس پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔

  • لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تعلیم زیادہ ہے ، وہاں خواتین ووٹ کی اہمیت کو بھی زیادہ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں۔

    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تعلیم زیادہ ہے ، وہاں خواتین ووٹ کی اہمیت کو بھی زیادہ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں۔

  •  خواتین کا کہنا ہے کہ ان کو بھی اپنے مسائل کا حل چاہئے۔اب وہ جبر وتشدد اور گھٹن اور استحصال سےباہر نکلنا چاہتی ہیں ۔ تحفظ اور ترقی کی متلاشی ہیں ۔ بچوں کے لئے تعلیم، روشن مستقبل اورسماج میں مقام کی خواہاں ہیں۔ اس لئےمسلم وزیروں، دیگرسیاسی رہنماؤں اورعالموں کا تو سوال ہی کیا اب وہ آئینی اوردستوری حق کے استعمال کے لئے شوہروں کی بات بھی ماننے کو تیار نہیں ۔
  • ہندوستانی سماج کو پروش پردھان سماج یعنی مردوں کی اجارہ داری والا معاشرہ تصور کیاجاتا رہا ہے۔ اس سماج میں میں خواتین کے دائرے بڑے محدود رہے ہیں۔ بات اگر مسلم معاشرے کے حوالے سے کی جائے تو یہ صورت حال مزید خراب نظرآتی ہے۔
  • دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر خاندانوں میں خواتین اپنا ووٹ اپنے شوہروں یا کنبہ کےذمہ دار لوگوں کے کہنے پرہی ڈالا کرتی ہیں۔ لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں۔
  • ہندوستانی خواتین باغی بھلے ہی نہ ہوئی ہوں ، لیکن بیدارا ور سمجھدار ضرور ہوگئی ہیں۔ اب وہ اپنے ووٹ کی قدروقیمت سمجھنے لگی ہیں اور اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کسی سماجی یا مذہبی رشتے کے دباؤ میں نہیں بلکہ اپنے مسائل کی روشنی میں کرنا چاہتی ہیں۔
  • حالانکہ شہروں اور دیہاتوں کی سطح پر یہ تصویر کچھ الگ الگ نظرآتی ہے۔ ساتھ ہی دیگر کئی فیکٹر بھی اس پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔
  • لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں تعلیم زیادہ ہے ، وہاں خواتین ووٹ کی اہمیت کو بھی زیادہ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں۔

تازہ ترین تصاویر