اترپردیش اسمبلی انتخابات : پہلے مرحلے میں 64.22فیصد ووٹ پڑے: الیکشن کمیشن

Feb 11, 2017 08:54 PM IST
1 of 20
  •  ریاستی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں آج مغربی اتر پردیش کے 15 اضلاع کی 73 سیٹوں پر سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اوسطا 64.22 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس دوران چند ایک واقعات کو چھوڑ کر کہیں سے بھی کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔اسمبلی کے 2012 میں ہونے والے انتخابات کی بہ نسبت اس بار پانچ فیصد زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ پہلے ان علاقوں میں 59.6فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ دیکھیں تصویریں۔

    ریاستی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں آج مغربی اتر پردیش کے 15 اضلاع کی 73 سیٹوں پر سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اوسطا 64.22 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس دوران چند ایک واقعات کو چھوڑ کر کہیں سے بھی کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔اسمبلی کے 2012 میں ہونے والے انتخابات کی بہ نسبت اس بار پانچ فیصد زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ پہلے ان علاقوں میں 59.6فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ دیکھیں تصویریں۔

  • سات مراحل میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 15 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

    سات مراحل میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 15 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

  •  ریاست کی تمام 403 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی اور اسی دن انتخابات کے نتائج آنے کا امکان ہے۔  پہلے مرحلے میں آج کے انتخابات میں تقریبا 2.60کروڑ ووٹر تھے۔

    ریاست کی تمام 403 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی اور اسی دن انتخابات کے نتائج آنے کا امکان ہے۔ پہلے مرحلے میں آج کے انتخابات میں تقریبا 2.60کروڑ ووٹر تھے۔

  • ریاستی الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے کے وقت شام پانچ تک 65 فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنے ووٹ ڈال لئے تھے۔

    ریاستی الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے کے وقت شام پانچ تک 65 فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنے ووٹ ڈال لئے تھے۔

  • ذرائع نے بتایا کہ علی گڑھ اور میرٹھ میں 65 فیصد، باغپت میں 67 فیصد، غازی آباد میں 57 فیصد، ایٹہ میں 68 فیصد، بلند شہر میں 64، هاپوڑ میں فیص69 فیصد، فیروز آباد میں 63 فیصد، آگرہ میں 63 اور متھرا میں 67 فیصد لوگو ں نے ووٹ ڈالے۔

    ذرائع نے بتایا کہ علی گڑھ اور میرٹھ میں 65 فیصد، باغپت میں 67 فیصد، غازی آباد میں 57 فیصد، ایٹہ میں 68 فیصد، بلند شہر میں 64، هاپوڑ میں فیص69 فیصد، فیروز آباد میں 63 فیصد، آگرہ میں 63 اور متھرا میں 67 فیصد لوگو ں نے ووٹ ڈالے۔

  •  ذرائع نے بتایا کہ بڑوت کے لوين گاؤں میں ووٹ ڈالنے کے مسلئے پر قومی لوک دل (آر ایل ڈی) کے کارکنوں کے ساتھ کچھ ووٹروں کی نوک جھونک ہوئی، وہیں متھرا کے ماٹھ علاقہ کے ایک انتخابی مرکز پر ترقیاتی کاموں کے فقدان کی وجہ سے ووٹروں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا جبکہ فیروز آباد کے ناگلا میں بھی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا گیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ بڑوت کے لوين گاؤں میں ووٹ ڈالنے کے مسلئے پر قومی لوک دل (آر ایل ڈی) کے کارکنوں کے ساتھ کچھ ووٹروں کی نوک جھونک ہوئی، وہیں متھرا کے ماٹھ علاقہ کے ایک انتخابی مرکز پر ترقیاتی کاموں کے فقدان کی وجہ سے ووٹروں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا جبکہ فیروز آباد کے ناگلا میں بھی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا گیا۔

  • میرٹھ کے كٹھور میں پتھراؤ ہوا جبکہ سردھنا میں ہنگامے کی وجہ سے تقریبا 15 منٹ تک پولنگ میں خلل پڑا۔ تاہم اہلکار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کترا رہے ہیں۔

    میرٹھ کے كٹھور میں پتھراؤ ہوا جبکہ سردھنا میں ہنگامے کی وجہ سے تقریبا 15 منٹ تک پولنگ میں خلل پڑا۔ تاہم اہلکار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کترا رہے ہیں۔

  • پہلے مرحلے میں ووٹنگ کے لئے عورتوں اور بالخصوص نوجوانوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، فیروز آباد، آگرہ، میرٹھ، اور هاپوڑ سمیت مختلف اضلاع میں صبح سے پولنگ مراکز پر خواتین اور نوجوانوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

    پہلے مرحلے میں ووٹنگ کے لئے عورتوں اور بالخصوص نوجوانوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، فیروز آباد، آگرہ، میرٹھ، اور هاپوڑ سمیت مختلف اضلاع میں صبح سے پولنگ مراکز پر خواتین اور نوجوانوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

  • مظفرنگر، شاملی، میرٹھ، علی گڑھ اور آگرہ جیسے حساس اضلاع کی وجہ سے اس مرحلے کے انتخابات کو پرامن طریقے سے انجام دینے کے لئے تقریبا دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

    مظفرنگر، شاملی، میرٹھ، علی گڑھ اور آگرہ جیسے حساس اضلاع کی وجہ سے اس مرحلے کے انتخابات کو پرامن طریقے سے انجام دینے کے لئے تقریبا دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

  •  کچھ انتخابی مراکز پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں گڑبڑي ہونے کی بھی خبر ملی لیکن وقت رہتے ای وی ایم ٹھیک کر لیے جانے سے پولنگ متاثر نہیں ہو ئی۔

    کچھ انتخابی مراکز پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں گڑبڑي ہونے کی بھی خبر ملی لیکن وقت رہتے ای وی ایم ٹھیک کر لیے جانے سے پولنگ متاثر نہیں ہو ئی۔

  • اس مرحلے میں کل ووٹروں کی تعداد 2،60،17،081 تھی، جن میں 1،42،76،128 مرد اور 1،17،76،308 خواتین اور تیسری جنس کے ووٹروں کی تعداد 1،508 ہے۔

    اس مرحلے میں کل ووٹروں کی تعداد 2،60،17،081 تھی، جن میں 1،42،76،128 مرد اور 1،17،76،308 خواتین اور تیسری جنس کے ووٹروں کی تعداد 1،508 ہے۔

  • سب سے زیادہ ووٹر 8،65،658 صاحب آباد اسمبلی حلقہ میں تھے جبکہ سب سے کم ووٹر جلیسر اسمبلی حلقہ میں 2،80،441 رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی مراکز کی تعداد 14،514 تھی۔

    سب سے زیادہ ووٹر 8،65،658 صاحب آباد اسمبلی حلقہ میں تھے جبکہ سب سے کم ووٹر جلیسر اسمبلی حلقہ میں 2،80،441 رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی مراکز کی تعداد 14،514 تھی۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • دیکھیں تصویریں۔

    دیکھیں تصویریں۔

  • نوٹ: سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

    نوٹ: سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

  • سات مراحل میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 15 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
  •  ریاست کی تمام 403 نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی اور اسی دن انتخابات کے نتائج آنے کا امکان ہے۔  پہلے مرحلے میں آج کے انتخابات میں تقریبا 2.60کروڑ ووٹر تھے۔
  • ریاستی الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے کے وقت شام پانچ تک 65 فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنے ووٹ ڈال لئے تھے۔
  • ذرائع نے بتایا کہ علی گڑھ اور میرٹھ میں 65 فیصد، باغپت میں 67 فیصد، غازی آباد میں 57 فیصد، ایٹہ میں 68 فیصد، بلند شہر میں 64، هاپوڑ میں فیص69 فیصد، فیروز آباد میں 63 فیصد، آگرہ میں 63 اور متھرا میں 67 فیصد لوگو ں نے ووٹ ڈالے۔
  •  ذرائع نے بتایا کہ بڑوت کے لوين گاؤں میں ووٹ ڈالنے کے مسلئے پر قومی لوک دل (آر ایل ڈی) کے کارکنوں کے ساتھ کچھ ووٹروں کی نوک جھونک ہوئی، وہیں متھرا کے ماٹھ علاقہ کے ایک انتخابی مرکز پر ترقیاتی کاموں کے فقدان کی وجہ سے ووٹروں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا جبکہ فیروز آباد کے ناگلا میں بھی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا گیا۔
  • میرٹھ کے كٹھور میں پتھراؤ ہوا جبکہ سردھنا میں ہنگامے کی وجہ سے تقریبا 15 منٹ تک پولنگ میں خلل پڑا۔ تاہم اہلکار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کترا رہے ہیں۔
  • پہلے مرحلے میں ووٹنگ کے لئے عورتوں اور بالخصوص نوجوانوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، فیروز آباد، آگرہ، میرٹھ، اور هاپوڑ سمیت مختلف اضلاع میں صبح سے پولنگ مراکز پر خواتین اور نوجوانوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
  • مظفرنگر، شاملی، میرٹھ، علی گڑھ اور آگرہ جیسے حساس اضلاع کی وجہ سے اس مرحلے کے انتخابات کو پرامن طریقے سے انجام دینے کے لئے تقریبا دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔
  •  کچھ انتخابی مراکز پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں گڑبڑي ہونے کی بھی خبر ملی لیکن وقت رہتے ای وی ایم ٹھیک کر لیے جانے سے پولنگ متاثر نہیں ہو ئی۔
  • اس مرحلے میں کل ووٹروں کی تعداد 2،60،17،081 تھی، جن میں 1،42،76،128 مرد اور 1،17،76،308 خواتین اور تیسری جنس کے ووٹروں کی تعداد 1،508 ہے۔
  • سب سے زیادہ ووٹر 8،65،658 صاحب آباد اسمبلی حلقہ میں تھے جبکہ سب سے کم ووٹر جلیسر اسمبلی حلقہ میں 2،80،441 رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی مراکز کی تعداد 14،514 تھی۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • دیکھیں تصویریں۔
  • نوٹ: سبھی تصویریں یو این آئی کی ہیں۔

تازہ ترین تصاویر