وسندھرا حکومت کی پالیسی کےسبب دم توڑ رہی اردو کی تعلیم ، 50 ہزار سے زائد طلبہ سنسکرت پڑھنے پر مجبور

May 12, 2017 08:49 PM IST
1 of 10
  •  عملہ کی بھرتی پیٹرن کےنام پرجس طرح اسکولوں کو ضم کیا گیا ہے ، اس کا خمیازہ اردو تعلیم کو بہت بری طرح بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ عملہ کی بھرتی پیٹرن کے بعد اسکولوں سے لیول ون یعنی پہلی سے پانچویں کلاس تک بنیادی تعلیم کے وقت ہی اردو کو ہٹا دیا گیا ہے ، جبکہ لیول ٹو یعنی چھٹی سے آٹھویں تک ٹیچرس کی کافی کمی کردی گئی ہے ۔ اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریاست میں 50 ہزار سے زائد طلبہ اردو کی تعليم سے محروم ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی اردو ٹیچرس کو سنسکرت سمیت دیگر سبجیکٹ پڑھانے پڑ رہے ہیں ۔

    عملہ کی بھرتی پیٹرن کےنام پرجس طرح اسکولوں کو ضم کیا گیا ہے ، اس کا خمیازہ اردو تعلیم کو بہت بری طرح بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ عملہ کی بھرتی پیٹرن کے بعد اسکولوں سے لیول ون یعنی پہلی سے پانچویں کلاس تک بنیادی تعلیم کے وقت ہی اردو کو ہٹا دیا گیا ہے ، جبکہ لیول ٹو یعنی چھٹی سے آٹھویں تک ٹیچرس کی کافی کمی کردی گئی ہے ۔ اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریاست میں 50 ہزار سے زائد طلبہ اردو کی تعليم سے محروم ہوگئے ہیں۔ ساتھ ہی اردو ٹیچرس کو سنسکرت سمیت دیگر سبجیکٹ پڑھانے پڑ رہے ہیں ۔

  • سال  2014 سے اب تک راجستھان حکومت نے 17000 سے زیادہ سرکاری اسکولوں کے عملے کو بھرتی پیٹرن کے نام پر آپس میں ضم کر دیا ہے ۔  اس قواعد کے پیچھے مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس سے تعلیم کا معیار بہتر ہوگا ،  لیکن اس کے زیادہ تر نقصانات ہی سامنے آ رہے ہیں ۔

    سال 2014 سے اب تک راجستھان حکومت نے 17000 سے زیادہ سرکاری اسکولوں کے عملے کو بھرتی پیٹرن کے نام پر آپس میں ضم کر دیا ہے ۔ اس قواعد کے پیچھے مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس سے تعلیم کا معیار بہتر ہوگا ، لیکن اس کے زیادہ تر نقصانات ہی سامنے آ رہے ہیں ۔

  •  راجستھان اردو شکشک سنگھ کے مطابق یہ اردو کی تعلیم کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی ، جس  سے اردو پڑھنے والے طلبہ کو مجبوری میں سنسکرت پڑھنی پڑھ رہی ہے ۔جبکہ اردو ٹیچرس کو دیگر سبجیکٹ پڑھانے پڑھ رہے ہیں ۔

    راجستھان اردو شکشک سنگھ کے مطابق یہ اردو کی تعلیم کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی ، جس سے اردو پڑھنے والے طلبہ کو مجبوری میں سنسکرت پڑھنی پڑھ رہی ہے ۔جبکہ اردو ٹیچرس کو دیگر سبجیکٹ پڑھانے پڑھ رہے ہیں ۔

  • جہاں اردو بچی ہے تو وہاں کتاب نہیں ہیں۔ نصاب 1988 کے بعد تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔

    جہاں اردو بچی ہے تو وہاں کتاب نہیں ہیں۔ نصاب 1988 کے بعد تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔

  •  اسٹافنگ پیٹرن سے پہلے پانچویں تک کے تمام اسکولوں کو جہاں اردو، پنجابی، سندھی اور گجراتی جیسی اقلیتی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں ، اب ان سب کو جنرل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    اسٹافنگ پیٹرن سے پہلے پانچویں تک کے تمام اسکولوں کو جہاں اردو، پنجابی، سندھی اور گجراتی جیسی اقلیتی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں ، اب ان سب کو جنرل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

  • تاہم پنجابی، سندھی اور گجراتی سمیت سنسکرت جیسے سبجیکٹ کے لیے بچوں کو علیحدہ مشقت نہیں کرنی پڑتی اور ان کو آرام سے ٹیچر دستیاب کرائے جا رہے ہیں ، جبکہ اردو کے لئے کسی اسکول میں کم از کم 40 ایسے طلبہ ہونے ضروری ہیں، جو یہ لکھ کر  درخواست کریں کہ انہیں اردو پڑھنی ہے ۔ اس کے بعد وہاں اردو کے ٹیچر کا انتظام کیے جانے کی گنجائش طے کی گئی ہے۔

    تاہم پنجابی، سندھی اور گجراتی سمیت سنسکرت جیسے سبجیکٹ کے لیے بچوں کو علیحدہ مشقت نہیں کرنی پڑتی اور ان کو آرام سے ٹیچر دستیاب کرائے جا رہے ہیں ، جبکہ اردو کے لئے کسی اسکول میں کم از کم 40 ایسے طلبہ ہونے ضروری ہیں، جو یہ لکھ کر درخواست کریں کہ انہیں اردو پڑھنی ہے ۔ اس کے بعد وہاں اردو کے ٹیچر کا انتظام کیے جانے کی گنجائش طے کی گئی ہے۔

  • لیکن اس اصول کے باوجود جے پور جیسی راجدھانی علاقہ میں حال یہ ہےکہ بہت سے اسکولوں میں 300 سے 600 تک مسلم طلبہ ہونے کے باوجود انہیں اردو ٹیچر مہیا نہیں کرائے  جارہے ہیں ۔

    لیکن اس اصول کے باوجود جے پور جیسی راجدھانی علاقہ میں حال یہ ہےکہ بہت سے اسکولوں میں 300 سے 600 تک مسلم طلبہ ہونے کے باوجود انہیں اردو ٹیچر مہیا نہیں کرائے جارہے ہیں ۔

  • کئی اسکولوں میں مسلم اکثریتی اور80 فیصد مسلم طلبہ ہونے کے بعد بھی مجبوری میں انہیں سنسکرت پڑھنی پڑ رہی ہے ۔

    کئی اسکولوں میں مسلم اکثریتی اور80 فیصد مسلم طلبہ ہونے کے بعد بھی مجبوری میں انہیں سنسکرت پڑھنی پڑ رہی ہے ۔

  • راجستھان میں مجموعی طور پر اردو میڈیم کے 32اسکول تھے ، جنہیں  عملے کی بھرتی پیٹرن کے بعد میں پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اسکولوں میں سوشل سائنس، ریاضی اور سائنس کو اردو میں سکھایا جاتا تھا ، لیکن اس مرتبہ ان تمام اسکولوں میں ہندی میڈیم میں ہی بچوں کے امتحان ہوئے ہیں ۔

    راجستھان میں مجموعی طور پر اردو میڈیم کے 32اسکول تھے ، جنہیں عملے کی بھرتی پیٹرن کے بعد میں پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اسکولوں میں سوشل سائنس، ریاضی اور سائنس کو اردو میں سکھایا جاتا تھا ، لیکن اس مرتبہ ان تمام اسکولوں میں ہندی میڈیم میں ہی بچوں کے امتحان ہوئے ہیں ۔

  • آئین کے آرٹیکل 350 اے کے ذریعہ ریاستوں کو لسانی اقلیتی گروپوں کے لئے مادری زبان میں ہی پرائمری ایجوکیشن دینے کی ضرورت ہے ، جبکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے ۔ اس کے باوجود اردو کے معاملہ میں تمام قانون اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ۔(رپورٹ : ارباز احمد) ۔

    آئین کے آرٹیکل 350 اے کے ذریعہ ریاستوں کو لسانی اقلیتی گروپوں کے لئے مادری زبان میں ہی پرائمری ایجوکیشن دینے کی ضرورت ہے ، جبکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے ۔ اس کے باوجود اردو کے معاملہ میں تمام قانون اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ۔(رپورٹ : ارباز احمد) ۔

  • سال  2014 سے اب تک راجستھان حکومت نے 17000 سے زیادہ سرکاری اسکولوں کے عملے کو بھرتی پیٹرن کے نام پر آپس میں ضم کر دیا ہے ۔  اس قواعد کے پیچھے مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس سے تعلیم کا معیار بہتر ہوگا ،  لیکن اس کے زیادہ تر نقصانات ہی سامنے آ رہے ہیں ۔
  •  راجستھان اردو شکشک سنگھ کے مطابق یہ اردو کی تعلیم کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی ، جس  سے اردو پڑھنے والے طلبہ کو مجبوری میں سنسکرت پڑھنی پڑھ رہی ہے ۔جبکہ اردو ٹیچرس کو دیگر سبجیکٹ پڑھانے پڑھ رہے ہیں ۔
  • جہاں اردو بچی ہے تو وہاں کتاب نہیں ہیں۔ نصاب 1988 کے بعد تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔
  •  اسٹافنگ پیٹرن سے پہلے پانچویں تک کے تمام اسکولوں کو جہاں اردو، پنجابی، سندھی اور گجراتی جیسی اقلیتی زبانیں پڑھائی جاتی تھیں ، اب ان سب کو جنرل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
  • تاہم پنجابی، سندھی اور گجراتی سمیت سنسکرت جیسے سبجیکٹ کے لیے بچوں کو علیحدہ مشقت نہیں کرنی پڑتی اور ان کو آرام سے ٹیچر دستیاب کرائے جا رہے ہیں ، جبکہ اردو کے لئے کسی اسکول میں کم از کم 40 ایسے طلبہ ہونے ضروری ہیں، جو یہ لکھ کر  درخواست کریں کہ انہیں اردو پڑھنی ہے ۔ اس کے بعد وہاں اردو کے ٹیچر کا انتظام کیے جانے کی گنجائش طے کی گئی ہے۔
  • لیکن اس اصول کے باوجود جے پور جیسی راجدھانی علاقہ میں حال یہ ہےکہ بہت سے اسکولوں میں 300 سے 600 تک مسلم طلبہ ہونے کے باوجود انہیں اردو ٹیچر مہیا نہیں کرائے  جارہے ہیں ۔
  • کئی اسکولوں میں مسلم اکثریتی اور80 فیصد مسلم طلبہ ہونے کے بعد بھی مجبوری میں انہیں سنسکرت پڑھنی پڑ رہی ہے ۔
  • راجستھان میں مجموعی طور پر اردو میڈیم کے 32اسکول تھے ، جنہیں  عملے کی بھرتی پیٹرن کے بعد میں پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اسکولوں میں سوشل سائنس، ریاضی اور سائنس کو اردو میں سکھایا جاتا تھا ، لیکن اس مرتبہ ان تمام اسکولوں میں ہندی میڈیم میں ہی بچوں کے امتحان ہوئے ہیں ۔
  • آئین کے آرٹیکل 350 اے کے ذریعہ ریاستوں کو لسانی اقلیتی گروپوں کے لئے مادری زبان میں ہی پرائمری ایجوکیشن دینے کی ضرورت ہے ، جبکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے ۔ اس کے باوجود اردو کے معاملہ میں تمام قانون اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ۔(رپورٹ : ارباز احمد) ۔

تازہ ترین تصاویر