کشمیر کے بالائی علاقوں میں برفانی تودوں کے گرآنے کی وارننگ ، کشمیر یونیورسٹی کے امتحانات ملتوی

Jan 06, 2017 05:19 PM IST
1 of 15
  • کشمیر یونیورسٹی نے وادی میں شدید برف باری کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کچھ اداروں نے بھی اگلے دو دنوں کے دوران لئے جانے والے مسابقتی امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وادی میں جمعہ کی صبح شروع ہونے والی شدید برف باری کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی ہے۔ ادھر انتظامیہ نے ریاست کے بالائی علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران برفانی تودوں کے گرآنے کی وارننگ جاری کردی ہے۔

    کشمیر یونیورسٹی نے وادی میں شدید برف باری کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کچھ اداروں نے بھی اگلے دو دنوں کے دوران لئے جانے والے مسابقتی امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وادی میں جمعہ کی صبح شروع ہونے والی شدید برف باری کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی ہے۔ ادھر انتظامیہ نے ریاست کے بالائی علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران برفانی تودوں کے گرآنے کی وارننگ جاری کردی ہے۔

  • کشمیر یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے شدید برف باری کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    کشمیر یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے شدید برف باری کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

  • انہوں نے بتایا کہ ملتوی شدہ پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کے لئے 7 جنوری کو لیا جانے والا امتحان بھی ملتوی کیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملتوی شدہ پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کے لئے 7 جنوری کو لیا جانے والا امتحان بھی ملتوی کیا گیا ہے۔

  • وادی کشمیر کے میدانی علاقوں بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر میں جمعہ کو رواں موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں زمینی و فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ بجلی کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہوگیا ہے ۔ بھاری برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔

    وادی کشمیر کے میدانی علاقوں بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر میں جمعہ کو رواں موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں زمینی و فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ بجلی کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہوگیا ہے ۔ بھاری برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔

  • اہلیان وادی جب جمعہ کی صبح نیند سے اٹھے تو شدید برف باری کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا تھا اور کچھ ہی منٹوں بعد تمام کھلے میدانوں اور مکانوں و دیگر عمارتوں کی چھتوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔

    اہلیان وادی جب جمعہ کی صبح نیند سے اٹھے تو شدید برف باری کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا تھا اور کچھ ہی منٹوں بعد تمام کھلے میدانوں اور مکانوں و دیگر عمارتوں کی چھتوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔

  • بھاری برف باری کے باعث سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

    بھاری برف باری کے باعث سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

  • اس کے علاوہ سرحدی علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بند ہوگئی ہیں۔ محکمہ بجلی (پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ان دعوؤں کے باوجود کہ ’برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘ کے باوجود وادی کے بیشتر حصوں میں بجلی سپلائی منطقع ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ سرحدی علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بند ہوگئی ہیں۔ محکمہ بجلی (پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ان دعوؤں کے باوجود کہ ’برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘ کے باوجود وادی کے بیشتر حصوں میں بجلی سپلائی منطقع ہوگئی ہے۔

  • درجنوں علاقوں سے بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ برف باری کے بعد پیدا ہونے والی پھسلن کے پیش نظر بہت ہی کم گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آئیں۔

    درجنوں علاقوں سے بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ برف باری کے بعد پیدا ہونے والی پھسلن کے پیش نظر بہت ہی کم گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آئیں۔

  • تاہم سخت سردی کے باوجود نوجوانوں اور بچوں کو موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری کا مزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ نوجوانوں اور بچوں کو ’سنو مین‘ بنانے اور ایک دوسرے پر برف پھینکنے میں مصروف دیکھا گیا۔ محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بارش یا برف باری ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔

    تاہم سخت سردی کے باوجود نوجوانوں اور بچوں کو موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری کا مزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ نوجوانوں اور بچوں کو ’سنو مین‘ بنانے اور ایک دوسرے پر برف پھینکنے میں مصروف دیکھا گیا۔ محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بارش یا برف باری ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔

  • وادی کے تمام بالائی علاقوں اور مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہل گام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری سے بھی شدید برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دریں اثنا شدید برف باری کے باعث وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔

    وادی کے تمام بالائی علاقوں اور مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہل گام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری سے بھی شدید برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دریں اثنا شدید برف باری کے باعث وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔

  • ائرپورٹ کے ایک افسر کے مطابق تمام آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’رن وے پر برف جمع ہوئی ہے اور روشنی بھی بہت کم ہے۔ اس کے باعث ائرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ پڑ گئی ہیں‘۔ اگرچہ مختلف جگہوں کو جانے والے مسافر ائرپورٹ پہنچ گئے تھے تاہم کچھ دیر تک انتظار کرنے کے بعد وہ واپس چلے گئے۔

    ائرپورٹ کے ایک افسر کے مطابق تمام آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’رن وے پر برف جمع ہوئی ہے اور روشنی بھی بہت کم ہے۔ اس کے باعث ائرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ پڑ گئی ہیں‘۔ اگرچہ مختلف جگہوں کو جانے والے مسافر ائرپورٹ پہنچ گئے تھے تاہم کچھ دیر تک انتظار کرنے کے بعد وہ واپس چلے گئے۔

  • دوسری جانب وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی گئی ہے۔

    دوسری جانب وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی گئی ہے۔

  • اس کے علاوہ وادی کے دور دراز علاقوں بشمول لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نذدیک واقع علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بندہوگئی ہیں۔ وادی کو لداخ اور خطہ جموں کے پونچھ و راجوری اضلاع سے جوڑنے والی شاہراہیں گذشتہ روز ہونے والی بھاری برف باری کے بعد قریب چھ مہینوں کے لئے بند کردی گئی ہیں۔

    اس کے علاوہ وادی کے دور دراز علاقوں بشمول لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نذدیک واقع علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بندہوگئی ہیں۔ وادی کو لداخ اور خطہ جموں کے پونچھ و راجوری اضلاع سے جوڑنے والی شاہراہیں گذشتہ روز ہونے والی بھاری برف باری کے بعد قریب چھ مہینوں کے لئے بند کردی گئی ہیں۔

  • ایک ٹریفک پولیس افسر کے مطابق مختلف مقامات بشمول قاضی گنڈ، جواہر ٹنل اور شیطان نالہ علاقوں میں شدید برف باری کے بعد سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوگئی ہے اور اگلے احکامات تک کسی بھی گاڑیوں کو اس پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

    ایک ٹریفک پولیس افسر کے مطابق مختلف مقامات بشمول قاضی گنڈ، جواہر ٹنل اور شیطان نالہ علاقوں میں شدید برف باری کے بعد سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوگئی ہے اور اگلے احکامات تک کسی بھی گاڑیوں کو اس پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

  • مذکورہ افسرنے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن نے اس شاہراہ پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے جس کے لئے مشینیں کام پر لگادی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر او اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سنگل ملنے کے بعد ہی گاڑیوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی۔

    مذکورہ افسرنے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن نے اس شاہراہ پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے جس کے لئے مشینیں کام پر لگادی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر او اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سنگل ملنے کے بعد ہی گاڑیوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی۔

  • کشمیر یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے شدید برف باری کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
  • انہوں نے بتایا کہ ملتوی شدہ پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کے لئے 7 جنوری کو لیا جانے والا امتحان بھی ملتوی کیا گیا ہے۔
  • وادی کشمیر کے میدانی علاقوں بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر میں جمعہ کو رواں موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں زمینی و فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ بجلی کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہوگیا ہے ۔ بھاری برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔
  • اہلیان وادی جب جمعہ کی صبح نیند سے اٹھے تو شدید برف باری کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا تھا اور کچھ ہی منٹوں بعد تمام کھلے میدانوں اور مکانوں و دیگر عمارتوں کی چھتوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔
  • بھاری برف باری کے باعث سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔
  • اس کے علاوہ سرحدی علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بند ہوگئی ہیں۔ محکمہ بجلی (پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ان دعوؤں کے باوجود کہ ’برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘ کے باوجود وادی کے بیشتر حصوں میں بجلی سپلائی منطقع ہوگئی ہے۔
  • درجنوں علاقوں سے بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ برف باری کے بعد پیدا ہونے والی پھسلن کے پیش نظر بہت ہی کم گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آئیں۔
  • تاہم سخت سردی کے باوجود نوجوانوں اور بچوں کو موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری کا مزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ نوجوانوں اور بچوں کو ’سنو مین‘ بنانے اور ایک دوسرے پر برف پھینکنے میں مصروف دیکھا گیا۔ محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بارش یا برف باری ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔
  • وادی کے تمام بالائی علاقوں اور مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہل گام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری سے بھی شدید برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دریں اثنا شدید برف باری کے باعث وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔
  • ائرپورٹ کے ایک افسر کے مطابق تمام آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’رن وے پر برف جمع ہوئی ہے اور روشنی بھی بہت کم ہے۔ اس کے باعث ائرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ پڑ گئی ہیں‘۔ اگرچہ مختلف جگہوں کو جانے والے مسافر ائرپورٹ پہنچ گئے تھے تاہم کچھ دیر تک انتظار کرنے کے بعد وہ واپس چلے گئے۔
  • دوسری جانب وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی گئی ہے۔
  • اس کے علاوہ وادی کے دور دراز علاقوں بشمول لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نذدیک واقع علاقوں کو جانے والی درجنوں سڑکیں بھی بندہوگئی ہیں۔ وادی کو لداخ اور خطہ جموں کے پونچھ و راجوری اضلاع سے جوڑنے والی شاہراہیں گذشتہ روز ہونے والی بھاری برف باری کے بعد قریب چھ مہینوں کے لئے بند کردی گئی ہیں۔
  • ایک ٹریفک پولیس افسر کے مطابق مختلف مقامات بشمول قاضی گنڈ، جواہر ٹنل اور شیطان نالہ علاقوں میں شدید برف باری کے بعد سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوگئی ہے اور اگلے احکامات تک کسی بھی گاڑیوں کو اس پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔
  • مذکورہ افسرنے بتایا کہ شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن نے اس شاہراہ پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے جس کے لئے مشینیں کام پر لگادی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر او اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے گرین سنگل ملنے کے بعد ہی گاڑیوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی۔

تازہ ترین تصاویر