آر ایس ایس ملک کا آئین بدلنا چاہتا ہے: راہل، ثقافتی رنگا رنگی کی وراثت خطرے میں: شرد یادو

Aug 17, 2017 03:45 PM IST
1 of 9
  • آر ایس ایس پر راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا کہ ملک کےآئین کو کچھ لوگ بدلنا چاہتے ہیں۔ متحدہ جنتا دل کے رہنما شرد یادو کی مشترکہ وراثت بچاؤ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے آر ایس ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ملک کے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھر رہا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ آر ایس ایس کو اس بات کا پورا علم ہے کہ وہ اپنے نظریات کی بنیاد پر ملک میں انتخابات نہیں جیت سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔

    آر ایس ایس پر راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا کہ ملک کےآئین کو کچھ لوگ بدلنا چاہتے ہیں۔ متحدہ جنتا دل کے رہنما شرد یادو کی مشترکہ وراثت بچاؤ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے آر ایس ایس پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ملک کے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھر رہا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ آر ایس ایس کو اس بات کا پورا علم ہے کہ وہ اپنے نظریات کی بنیاد پر ملک میں انتخابات نہیں جیت سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر ادارے میں اپنے لوگوں کو بھرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔

  •  تقریب میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سینئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل نے بھی شرکت کی۔ سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس ملک پر اپنا نظریہ تھوپنے کی مبینہ کوشش کے تحت یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ ملک آر ایس ایس کا ہے اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی وجہ ہےکہ ’’گجرات میں دلتوں کو پیٹا جارہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک ان کا(دلتوں کا) نہیں ہے۔

    تقریب میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سینئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل نے بھی شرکت کی۔ سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس ملک پر اپنا نظریہ تھوپنے کی مبینہ کوشش کے تحت یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ ملک آر ایس ایس کا ہے اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی وجہ ہےکہ ’’گجرات میں دلتوں کو پیٹا جارہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک ان کا(دلتوں کا) نہیں ہے۔

  • کانگریس کےنائب صدر نے کہا کہ اس ملک کو دو طریقے سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ ملک میرا ہے اور دوسرا یہ کہ میں اس ملک کا ہوں اور بالترتیب یہی آر ایس ایس اور ہمارے درمیان فرق ہے۔ مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکز نے اقتدار میں آنے سے پہلے آر ایس ایس نے کبھی قومی پرچم کو سلام پیش نہیں کیا۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو زد میں لیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ 2014 کے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ بی جے پی نے ملک میں کالا دھن واپس لانے اور نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کا پاس نہیں رکھا۔

    کانگریس کےنائب صدر نے کہا کہ اس ملک کو دو طریقے سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ ملک میرا ہے اور دوسرا یہ کہ میں اس ملک کا ہوں اور بالترتیب یہی آر ایس ایس اور ہمارے درمیان فرق ہے۔ مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکز نے اقتدار میں آنے سے پہلے آر ایس ایس نے کبھی قومی پرچم کو سلام پیش نہیں کیا۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو زد میں لیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ 2014 کے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ بی جے پی نے ملک میں کالا دھن واپس لانے اور نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کا پاس نہیں رکھا۔

  • جنتا دل (یونائٹیڈ) کے سینئر لیڈر شرد یادو نے آج کہا کہ ملک میں آستھا، مذہب، فرقہ اور لوجہاد کے نام پر تشدد کو ہوا دیا جا رہا ہے جس سے ملک کی ثقافتی رنگارنگی کی مخصوص شناخت خطرے میں پڑتی جا رہی ہے۔ مسٹر شرد یادو نے یہاں 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سماجی ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا سماجی ہم آہنگی چاہنے والے لوگوں كو عدم تشدد کے طریقے سے جواب دینا چاہیے۔ عدم تشدد بہادروں کا ہتھیار ہے اور مخالفت کے لئے اسی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں مشترکہ وراثت کی بات کہی گئی ہے اور آئین گیتا، قرآن اور بائبل جیسے مذہبی متن کی طرح ہے۔

    جنتا دل (یونائٹیڈ) کے سینئر لیڈر شرد یادو نے آج کہا کہ ملک میں آستھا، مذہب، فرقہ اور لوجہاد کے نام پر تشدد کو ہوا دیا جا رہا ہے جس سے ملک کی ثقافتی رنگارنگی کی مخصوص شناخت خطرے میں پڑتی جا رہی ہے۔ مسٹر شرد یادو نے یہاں 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سماجی ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا سماجی ہم آہنگی چاہنے والے لوگوں كو عدم تشدد کے طریقے سے جواب دینا چاہیے۔ عدم تشدد بہادروں کا ہتھیار ہے اور مخالفت کے لئے اسی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں مشترکہ وراثت کی بات کہی گئی ہے اور آئین گیتا، قرآن اور بائبل جیسے مذہبی متن کی طرح ہے۔

  • مسٹر شرد یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مذہب اور آستھا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا ، یہ اچھی بات ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں، وہ زمین پر نظر نہیں آتی ہے۔ جہاں جہاں ان کی پارٹی بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی یہ پیغام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے گجرات میں اور سہارنپور، نوئیڈا، الور اور اؤنا میں گزشتہ دنوں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باہمی ہم آہنگی ٹوٹنے سے یقین ختم ہو رہا ہے اور بھیڑ پیٹ پیٹ کر لوگوں کو مار رہی ہے۔

    مسٹر شرد یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مذہب اور آستھا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا ، یہ اچھی بات ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں، وہ زمین پر نظر نہیں آتی ہے۔ جہاں جہاں ان کی پارٹی بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی یہ پیغام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے گجرات میں اور سہارنپور، نوئیڈا، الور اور اؤنا میں گزشتہ دنوں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باہمی ہم آہنگی ٹوٹنے سے یقین ختم ہو رہا ہے اور بھیڑ پیٹ پیٹ کر لوگوں کو مار رہی ہے۔

  • انہوں نے کہا کہ اس ملک میں متعدد مذہب، ذات، فرقے اور زبان کے لوگ ہیں اور یہی اس ملک کی خاصیت ہے۔ تمام اختلافات کے باوجود لوگوں کی ثقافتی وراثت مشترک ہے اور تمام لوگ ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں لیکن اب کچھ عناصر کی وجہ سے اسے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں متعدد مذہب، ذات، فرقے اور زبان کے لوگ ہیں اور یہی اس ملک کی خاصیت ہے۔ تمام اختلافات کے باوجود لوگوں کی ثقافتی وراثت مشترک ہے اور تمام لوگ ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں لیکن اب کچھ عناصر کی وجہ سے اسے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کا سیکولر ہندو سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ مسٹر آزاد نے 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ہندو سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ملک کو توڑنے کا کام کر رہا ہے۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں کہ کہیں آر ایس ایس کے لوگ ان کے گھروں کو نہ جلا دیں۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ملک کو جوڑ کر آزادی دلائی تھی جس کے تانےبانے کو ختم کیا جا رہا ہے۔ سوال ہندو یا مسلمان کا نہیں ہے سوال مشترکہ وراثت کو بچانے کا ہے۔

    کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کا سیکولر ہندو سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ مسٹر آزاد نے 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ہندو سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ملک کو توڑنے کا کام کر رہا ہے۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں کہ کہیں آر ایس ایس کے لوگ ان کے گھروں کو نہ جلا دیں۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ملک کو جوڑ کر آزادی دلائی تھی جس کے تانےبانے کو ختم کیا جا رہا ہے۔ سوال ہندو یا مسلمان کا نہیں ہے سوال مشترکہ وراثت کو بچانے کا ہے۔

  •  انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ' ہندوستان چھوڑو' تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا اور انگریزوں کی حمایت کی تھی آج یہی لوگ قوم پرست ہو گئے ہیں اور آزادی کی تحریک میں شامل ہوکر کلیدی کردار ادا کرنے والے لوگ ملک دشمن ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بات رکھنے والے میڈیا اداروں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلوار لٹک رہی ہے اور اس پر طرح طرح کے دباؤ بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے؟۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ' ہندوستان چھوڑو' تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا اور انگریزوں کی حمایت کی تھی آج یہی لوگ قوم پرست ہو گئے ہیں اور آزادی کی تحریک میں شامل ہوکر کلیدی کردار ادا کرنے والے لوگ ملک دشمن ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بات رکھنے والے میڈیا اداروں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلوار لٹک رہی ہے اور اس پر طرح طرح کے دباؤ بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے؟۔

  • مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں لگائی گئي ایمرجنسی کی بحث بار بار کی جاتی ہے اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس کے لئے معافی بھی مانگ لی تھی ، لیکن آج جو صورت حال ہے وہ ایمرجنسی کے باپ جیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ جانے کے بعد جنتا دل یو کے سینئر لیڈر شرد یادو کو مرکز میں وزیر بننے کی لالچ دی گئي لیکن انہوں نے اصول کی لڑائی لڑي اور وزارت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد متعدد لیڈروں نے جمہوری اصولوں کے لئے کرسی اور خاندان تک کو ترک کر دیا ، جبکہ آج ہر کوئی وزیر بننا چاہتا ہے۔

    مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں لگائی گئي ایمرجنسی کی بحث بار بار کی جاتی ہے اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس کے لئے معافی بھی مانگ لی تھی ، لیکن آج جو صورت حال ہے وہ ایمرجنسی کے باپ جیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ جانے کے بعد جنتا دل یو کے سینئر لیڈر شرد یادو کو مرکز میں وزیر بننے کی لالچ دی گئي لیکن انہوں نے اصول کی لڑائی لڑي اور وزارت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد متعدد لیڈروں نے جمہوری اصولوں کے لئے کرسی اور خاندان تک کو ترک کر دیا ، جبکہ آج ہر کوئی وزیر بننا چاہتا ہے۔

  •  تقریب میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سینئر کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل نے بھی شرکت کی۔ سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس ملک پر اپنا نظریہ تھوپنے کی مبینہ کوشش کے تحت یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ ملک آر ایس ایس کا ہے اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہی وجہ ہےکہ ’’گجرات میں دلتوں کو پیٹا جارہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک ان کا(دلتوں کا) نہیں ہے۔
  • کانگریس کےنائب صدر نے کہا کہ اس ملک کو دو طریقے سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ ملک میرا ہے اور دوسرا یہ کہ میں اس ملک کا ہوں اور بالترتیب یہی آر ایس ایس اور ہمارے درمیان فرق ہے۔ مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکز نے اقتدار میں آنے سے پہلے آر ایس ایس نے کبھی قومی پرچم کو سلام پیش نہیں کیا۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو زد میں لیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ 2014 کے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ بی جے پی نے ملک میں کالا دھن واپس لانے اور نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کا پاس نہیں رکھا۔
  • جنتا دل (یونائٹیڈ) کے سینئر لیڈر شرد یادو نے آج کہا کہ ملک میں آستھا، مذہب، فرقہ اور لوجہاد کے نام پر تشدد کو ہوا دیا جا رہا ہے جس سے ملک کی ثقافتی رنگارنگی کی مخصوص شناخت خطرے میں پڑتی جا رہی ہے۔ مسٹر شرد یادو نے یہاں 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سماجی ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا سماجی ہم آہنگی چاہنے والے لوگوں كو عدم تشدد کے طریقے سے جواب دینا چاہیے۔ عدم تشدد بہادروں کا ہتھیار ہے اور مخالفت کے لئے اسی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں مشترکہ وراثت کی بات کہی گئی ہے اور آئین گیتا، قرآن اور بائبل جیسے مذہبی متن کی طرح ہے۔
  • مسٹر شرد یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مذہب اور آستھا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا ، یہ اچھی بات ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں، وہ زمین پر نظر نہیں آتی ہے۔ جہاں جہاں ان کی پارٹی بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی یہ پیغام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے گجرات میں اور سہارنپور، نوئیڈا، الور اور اؤنا میں گزشتہ دنوں ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ باہمی ہم آہنگی ٹوٹنے سے یقین ختم ہو رہا ہے اور بھیڑ پیٹ پیٹ کر لوگوں کو مار رہی ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ اس ملک میں متعدد مذہب، ذات، فرقے اور زبان کے لوگ ہیں اور یہی اس ملک کی خاصیت ہے۔ تمام اختلافات کے باوجود لوگوں کی ثقافتی وراثت مشترک ہے اور تمام لوگ ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں لیکن اب کچھ عناصر کی وجہ سے اسے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
  • کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کا سیکولر ہندو سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ مسٹر آزاد نے 'مشترکہ وراثت بچاؤ' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ہندو سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ملک کو توڑنے کا کام کر رہا ہے۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں کہ کہیں آر ایس ایس کے لوگ ان کے گھروں کو نہ جلا دیں۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ملک کو جوڑ کر آزادی دلائی تھی جس کے تانےبانے کو ختم کیا جا رہا ہے۔ سوال ہندو یا مسلمان کا نہیں ہے سوال مشترکہ وراثت کو بچانے کا ہے۔
  •  انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ' ہندوستان چھوڑو' تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا اور انگریزوں کی حمایت کی تھی آج یہی لوگ قوم پرست ہو گئے ہیں اور آزادی کی تحریک میں شامل ہوکر کلیدی کردار ادا کرنے والے لوگ ملک دشمن ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی بات رکھنے والے میڈیا اداروں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلوار لٹک رہی ہے اور اس پر طرح طرح کے دباؤ بنائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے؟۔
  • مسٹر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں لگائی گئي ایمرجنسی کی بحث بار بار کی جاتی ہے اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس کے لئے معافی بھی مانگ لی تھی ، لیکن آج جو صورت حال ہے وہ ایمرجنسی کے باپ جیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر نتیش کمار کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ جانے کے بعد جنتا دل یو کے سینئر لیڈر شرد یادو کو مرکز میں وزیر بننے کی لالچ دی گئي لیکن انہوں نے اصول کی لڑائی لڑي اور وزارت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد متعدد لیڈروں نے جمہوری اصولوں کے لئے کرسی اور خاندان تک کو ترک کر دیا ، جبکہ آج ہر کوئی وزیر بننا چاہتا ہے۔

تازہ ترین تصاویر