یوپی اسمبلی میں خواتین کی حصہ داری 10 فیصد سے بھی کم ،خواتین مخالف جرائم میں ریاست سر فہرست

Jan 20, 2017 08:14 PM IST
1 of 10
  • انتخابات آتے ہی ہر طبقہ کو لبھانے کی کوششیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ خاص طور پر خواتین کے تحفظ اوربہبود کےلیے بھی وعدوں کی بھرما شروع ہوجاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خواتین سے وابستہ مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں ۔ یہ کہنا ہے بھارتیہ مہیلا فیڈریشن ،ہم سفر ،ایڈوا اورعوا م مومنٹ جیسی مختلف خواتین تنظیموں کا۔

    انتخابات آتے ہی ہر طبقہ کو لبھانے کی کوششیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ خاص طور پر خواتین کے تحفظ اوربہبود کےلیے بھی وعدوں کی بھرما شروع ہوجاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خواتین سے وابستہ مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں ۔ یہ کہنا ہے بھارتیہ مہیلا فیڈریشن ،ہم سفر ،ایڈوا اورعوا م مومنٹ جیسی مختلف خواتین تنظیموں کا۔

  • ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں ہی خواتین کے تئیں اپنی حکمت عملی کو واضح کرنا ہوگا۔

    ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں ہی خواتین کے تئیں اپنی حکمت عملی کو واضح کرنا ہوگا۔

  • لکھنؤ میں واقع مختلف تنظیموں سے وابستہ خواتین کارکنان نے مختلف سیاسی جماعتوں کوخط لکھ کرخواتین کے اہم مسائل کو انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

    لکھنؤ میں واقع مختلف تنظیموں سے وابستہ خواتین کارکنان نے مختلف سیاسی جماعتوں کوخط لکھ کرخواتین کے اہم مسائل کو انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  •  ان کا کہنا ہےکہ سیاسی شراکت داری کے بغیرآدھی آبادی کی خوشحالی اور ترقی کا تصور بے معنی ہے۔

    ان کا کہنا ہےکہ سیاسی شراکت داری کے بغیرآدھی آبادی کی خوشحالی اور ترقی کا تصور بے معنی ہے۔

  • یہ بات سچ ہے کہ سیاست میں خواتین کی 33 فیصد حصہ داری کا وعدہ ابھی تک شرمندہ تعبیرنہیں ہوا ہے۔

    یہ بات سچ ہے کہ سیاست میں خواتین کی 33 فیصد حصہ داری کا وعدہ ابھی تک شرمندہ تعبیرنہیں ہوا ہے۔

  • ملکی سطح پرسیاست میں12 فیصد سے بھی کم ان کی حصے داری یقینی طور پر قابل تشویش ہے۔

    ملکی سطح پرسیاست میں12 فیصد سے بھی کم ان کی حصے داری یقینی طور پر قابل تشویش ہے۔

  • مسلم خواتین کے مسائل تو مزید حل طلب ہیں۔ تعلیم اور روزگارجیسے چیلنجوںکا سامنا مسلم خواتین کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    مسلم خواتین کے مسائل تو مزید حل طلب ہیں۔ تعلیم اور روزگارجیسے چیلنجوںکا سامنا مسلم خواتین کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

  • اعدادو شمار کے مطابق یوپی اسمبلی میں خواتین کی حصہ داری 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ خواتین مخالف جرائم کے معاملے میں اترپردیش سر فہرست ہے۔

    اعدادو شمار کے مطابق یوپی اسمبلی میں خواتین کی حصہ داری 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ خواتین مخالف جرائم کے معاملے میں اترپردیش سر فہرست ہے۔

  • ریاست کی 40 فیصد خواتین میں تغذیہ کی کمی اور تقریباً 50 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

    ریاست کی 40 فیصد خواتین میں تغذیہ کی کمی اور تقریباً 50 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

  • یو پی میں 28 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے پہلے ہو جاتی ہے۔ یہ سب ایسے معاملات ہیں ، جن کے حل کےلئے مضبوط قوت اردای کی ضرورت ہے۔ (رپورٹ :حمیداللہ صدیقی ) ۔

    یو پی میں 28 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے پہلے ہو جاتی ہے۔ یہ سب ایسے معاملات ہیں ، جن کے حل کےلئے مضبوط قوت اردای کی ضرورت ہے۔ (رپورٹ :حمیداللہ صدیقی ) ۔

  • ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں ہی خواتین کے تئیں اپنی حکمت عملی کو واضح کرنا ہوگا۔
  • لکھنؤ میں واقع مختلف تنظیموں سے وابستہ خواتین کارکنان نے مختلف سیاسی جماعتوں کوخط لکھ کرخواتین کے اہم مسائل کو انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
  •  ان کا کہنا ہےکہ سیاسی شراکت داری کے بغیرآدھی آبادی کی خوشحالی اور ترقی کا تصور بے معنی ہے۔
  • یہ بات سچ ہے کہ سیاست میں خواتین کی 33 فیصد حصہ داری کا وعدہ ابھی تک شرمندہ تعبیرنہیں ہوا ہے۔
  • ملکی سطح پرسیاست میں12 فیصد سے بھی کم ان کی حصے داری یقینی طور پر قابل تشویش ہے۔
  • مسلم خواتین کے مسائل تو مزید حل طلب ہیں۔ تعلیم اور روزگارجیسے چیلنجوںکا سامنا مسلم خواتین کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
  • اعدادو شمار کے مطابق یوپی اسمبلی میں خواتین کی حصہ داری 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ خواتین مخالف جرائم کے معاملے میں اترپردیش سر فہرست ہے۔
  • ریاست کی 40 فیصد خواتین میں تغذیہ کی کمی اور تقریباً 50 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔
  • یو پی میں 28 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے پہلے ہو جاتی ہے۔ یہ سب ایسے معاملات ہیں ، جن کے حل کےلئے مضبوط قوت اردای کی ضرورت ہے۔ (رپورٹ :حمیداللہ صدیقی ) ۔

تازہ ترین تصاویر