مدھیہ پردیش : اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

Jan 29, 2018 08:44 PM IST
1 of 10
  • بھوپال کی قدیم روایت کو زندہ کرتے ہوئے خواتین میلےکا انعقاد کیا گیا ۔ خواتین میلے کی خاص با ت یہ تھی کہ اس میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی خواتین ہی تھیں ۔ میلہ میں دس سال سے زائد عمر کے بچوں کے بھی داخلے پر پابندی تھی۔

    بھوپال کی قدیم روایت کو زندہ کرتے ہوئے خواتین میلےکا انعقاد کیا گیا ۔ خواتین میلے کی خاص با ت یہ تھی کہ اس میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی خواتین ہی تھیں ۔ میلہ میں دس سال سے زائد عمر کے بچوں کے بھی داخلے پر پابندی تھی۔

  • وومین انٹرپریونر فیئربھوپال کے زیراہتمام بھوپال میں شاہجہانہ آباد کےاسٹار شادی ہال میں منعقدہ اس خاص ایک روزہ میلے میں خواتین کی ضروریات کی سبھی اشیا موجود تھیں ۔

    وومین انٹرپریونر فیئربھوپال کے زیراہتمام بھوپال میں شاہجہانہ آباد کےاسٹار شادی ہال میں منعقدہ اس خاص ایک روزہ میلے میں خواتین کی ضروریات کی سبھی اشیا موجود تھیں ۔

  •  خواتین دوکاندار وں نے میلے کو ان کے لیے ایک اچھا موقع قرار دیا ۔

    خواتین دوکاندار وں نے میلے کو ان کے لیے ایک اچھا موقع قرار دیا ۔

  • بھوپال کی آخری خاتون فرماں روا نواب سلطان جہاں کےعہد میں ایسے بازار کے تصورکو فروغ دیا گیا تھا ، جس میں خواتین ہی دکاندار اور خواتین ہی خریدار ہوں۔

    بھوپال کی آخری خاتون فرماں روا نواب سلطان جہاں کےعہد میں ایسے بازار کے تصورکو فروغ دیا گیا تھا ، جس میں خواتین ہی دکاندار اور خواتین ہی خریدار ہوں۔

  • نوابی عہد میں یہ خاص بازار قدیم بھوپال میں لگایا جاتا تھا اور اسے پری بازار کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    نوابی عہد میں یہ خاص بازار قدیم بھوپال میں لگایا جاتا تھا اور اسے پری بازار کے نام سے جانا جاتا تھا۔

  • ویمن انٹرپریونر فیئر کے نام سے بھوپال کی سائمہ فاروقی نے اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر میلےکےانعقاد کیا ، جس کا یہ دوسرا سال ہے ۔

    ویمن انٹرپریونر فیئر کے نام سے بھوپال کی سائمہ فاروقی نے اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر میلےکےانعقاد کیا ، جس کا یہ دوسرا سال ہے ۔

  •  نواب سلطان جہاں کے زمانہ میں یہ خاص بازارشروع ہوا تھا اوراس کے آخری خواتین میلےکا انعقاد باب عالی میں 1946 میں منعقد کیا گیا تھا۔

    نواب سلطان جہاں کے زمانہ میں یہ خاص بازارشروع ہوا تھا اوراس کے آخری خواتین میلےکا انعقاد باب عالی میں 1946 میں منعقد کیا گیا تھا۔

  • میلے کا یہ دوسرا سال ہے اور بھوپال کی ہرعمر کی خواتین شرکت کرکے میلے کا لطف اٹھا رہی ہیں ۔

    میلے کا یہ دوسرا سال ہے اور بھوپال کی ہرعمر کی خواتین شرکت کرکے میلے کا لطف اٹھا رہی ہیں ۔

  •  اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

    اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

  •  اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

    اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

  • وومین انٹرپریونر فیئربھوپال کے زیراہتمام بھوپال میں شاہجہانہ آباد کےاسٹار شادی ہال میں منعقدہ اس خاص ایک روزہ میلے میں خواتین کی ضروریات کی سبھی اشیا موجود تھیں ۔
  •  خواتین دوکاندار وں نے میلے کو ان کے لیے ایک اچھا موقع قرار دیا ۔
  • بھوپال کی آخری خاتون فرماں روا نواب سلطان جہاں کےعہد میں ایسے بازار کے تصورکو فروغ دیا گیا تھا ، جس میں خواتین ہی دکاندار اور خواتین ہی خریدار ہوں۔
  • نوابی عہد میں یہ خاص بازار قدیم بھوپال میں لگایا جاتا تھا اور اسے پری بازار کے نام سے جانا جاتا تھا۔
  • ویمن انٹرپریونر فیئر کے نام سے بھوپال کی سائمہ فاروقی نے اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر میلےکےانعقاد کیا ، جس کا یہ دوسرا سال ہے ۔
  •  نواب سلطان جہاں کے زمانہ میں یہ خاص بازارشروع ہوا تھا اوراس کے آخری خواتین میلےکا انعقاد باب عالی میں 1946 میں منعقد کیا گیا تھا۔
  • میلے کا یہ دوسرا سال ہے اور بھوپال کی ہرعمر کی خواتین شرکت کرکے میلے کا لطف اٹھا رہی ہیں ۔
  •  اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع
  •  اس میلے میں دکاندار سے لے کر خریدار تک سبھی ہیں خواتین ، 10 سال سے زائد کے بچوں کا داخلہ بھی ممنوع

تازہ ترین تصاویر