تو اس لئے دی گئی 'یوگی' کو یوپی کی کمان، یہ ہے بی جے پی کی پلاننگ

Mar 23, 2017 03:16 PM IST
1 of 11
  • یوگی آدتیہ ناتھ کو سی ایم بنا کر بی جے پی نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ یوگی کو سی ایم بنانے کا فیصلہ پارٹی پہلے ہی کر چکی تھی، لیکن اسے خفیہ رکھا گیا۔ بہر حال، یوگی کو سی ایم بنا کر بی جے پی کی کئی مسائل پر نظر ہے۔ آئیے جانتے ہیں ان وجوہات کو جن کے چلتے یوگی آدتیہ ناتھ کو سی ایم بنایا گیا ہے۔

    یوگی آدتیہ ناتھ کو سی ایم بنا کر بی جے پی نے ایک تیر سے کئی نشانے سادھے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ یوگی کو سی ایم بنانے کا فیصلہ پارٹی پہلے ہی کر چکی تھی، لیکن اسے خفیہ رکھا گیا۔ بہر حال، یوگی کو سی ایم بنا کر بی جے پی کی کئی مسائل پر نظر ہے۔ آئیے جانتے ہیں ان وجوہات کو جن کے چلتے یوگی آدتیہ ناتھ کو سی ایم بنایا گیا ہے۔

  • بی جے پی کی ٹاپ لیڈرشپ نے یوگی کو سامنے لا کر ایک تیر سے کئی نشانے سادھے ہیں۔ یعنی 'کلنگ ٹو برڈس ود ون اسٹون کا فارمولا' اپنایا۔ پی ایم مودی اور شاہ کے علاوہ آر ایس ایس نے اپنا مقصد صاف کر دیا ہے۔ ریاست میں پارٹی کی نگاہیں 2019 میں ہونے والے لوک سبھا مشن پر ٹکی ہیں۔

    بی جے پی کی ٹاپ لیڈرشپ نے یوگی کو سامنے لا کر ایک تیر سے کئی نشانے سادھے ہیں۔ یعنی 'کلنگ ٹو برڈس ود ون اسٹون کا فارمولا' اپنایا۔ پی ایم مودی اور شاہ کے علاوہ آر ایس ایس نے اپنا مقصد صاف کر دیا ہے۔ ریاست میں پارٹی کی نگاہیں 2019 میں ہونے والے لوک سبھا مشن پر ٹکی ہیں۔

  • میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی کو سی ایم کی کمان سونپنے کا فیصلہ گورکشپيٹھ میں بہت پہلے ہو چکا تھا۔ اس پر آر ایس ایس اور سنت سماج نے اپنی مہر لگائی تھی۔ لیکن الیکشن بغیر سی ایم چہرے کے لڑا گیا تھا، لہذا اس بات کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی کو سی ایم کی کمان سونپنے کا فیصلہ گورکشپيٹھ میں بہت پہلے ہو چکا تھا۔ اس پر آر ایس ایس اور سنت سماج نے اپنی مہر لگائی تھی۔ لیکن الیکشن بغیر سی ایم چہرے کے لڑا گیا تھا، لہذا اس بات کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

  • یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ انتظامی لحاظ سے یوپی کے بڑا ہونے اور یوگی کو تجربہ نہ ہونے کے سبب بی جے پی یہ داؤ نہیں کھیلے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پارٹی نے راج ناتھ سنگھ پر داؤ لگانے کے بجائے کافی غوروخوض کے بعد یوگی پر پانسہ کھیلا۔

    یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ انتظامی لحاظ سے یوپی کے بڑا ہونے اور یوگی کو تجربہ نہ ہونے کے سبب بی جے پی یہ داؤ نہیں کھیلے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پارٹی نے راج ناتھ سنگھ پر داؤ لگانے کے بجائے کافی غوروخوض کے بعد یوگی پر پانسہ کھیلا۔

  • یوگی پی ایم مودی کے قریبی اور چہیتے مانے جاتے ہیں۔ لو-جہاد جیسے مسائل کو انہوں نے سیاسی رنگ دے دیا۔ پوروانچل میں ان کی ہندوتو واہنی سینا الگ پہچان رکھتی ہے۔

    یوگی پی ایم مودی کے قریبی اور چہیتے مانے جاتے ہیں۔ لو-جہاد جیسے مسائل کو انہوں نے سیاسی رنگ دے دیا۔ پوروانچل میں ان کی ہندوتو واہنی سینا الگ پہچان رکھتی ہے۔

  • جنوبی ہند میں شیو سینا ہندوتو کا جھنڈا بلند کرتی ہے۔ کبھی بالاصاحب ٹھاکرے کو 'ہندوتو کا شیر' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہی صورت حال شمالی ہندوستان میں یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی ہندوتو واہنی سینا کی ہے۔

    جنوبی ہند میں شیو سینا ہندوتو کا جھنڈا بلند کرتی ہے۔ کبھی بالاصاحب ٹھاکرے کو 'ہندوتو کا شیر' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہی صورت حال شمالی ہندوستان میں یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی ہندوتو واہنی سینا کی ہے۔

  • اہم بات یہ ہے کہ یوگی کے ساتھ ہی پارٹی میں جن لوگوں کو اقتدار کی كمان سونپی گئی ہے، وہ تمام نئے چہرے ہیں، انہیں ریاست چلانے کا تجربہ نہیں ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ یوگی کے ساتھ ہی پارٹی میں جن لوگوں کو اقتدار کی كمان سونپی گئی ہے، وہ تمام نئے چہرے ہیں، انہیں ریاست چلانے کا تجربہ نہیں ہے۔

  • پارٹی نے ذات پات کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ یوگی کابینہ میں ہر ایک ذات پات کے لوگوں کو توجہ دی گئی ہے۔ یوگی بنیادی طور پر اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال سے آتے ہیں۔ ہندو نظریے کی جو شبیہ ناگپور کی ہے، اب وہی یوپی میں گورکھپور کی ابھر رہی ہے۔ گورکھپور منی ناگپور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    پارٹی نے ذات پات کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ یوگی کابینہ میں ہر ایک ذات پات کے لوگوں کو توجہ دی گئی ہے۔ یوگی بنیادی طور پر اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال سے آتے ہیں۔ ہندو نظریے کی جو شبیہ ناگپور کی ہے، اب وہی یوپی میں گورکھپور کی ابھر رہی ہے۔ گورکھپور منی ناگپور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

  • یوپی کا پوروانچل اب ملک کی سیاست کا 'پاور سینٹر' بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ہندوتو کے گڑھ کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ یوگی مشتعل ہندوتو شبیہ کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ گجرات میں ہونے والے انتخابات کے لئے بھی یہ صورت حال بہتر ہوگی۔

    یوپی کا پوروانچل اب ملک کی سیاست کا 'پاور سینٹر' بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ہندوتو کے گڑھ کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ یوگی مشتعل ہندوتو شبیہ کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ گجرات میں ہونے والے انتخابات کے لئے بھی یہ صورت حال بہتر ہوگی۔

  • یوگی گورکھپور سے پانچ بار رکن پارلیمنٹ منتخب کئے جا چکے ہیں۔ یوگی کو سامنے رکھ کر جہاں ہندوتو کارڈ کھیلا گیا ہے، وہیں چھتریہ برادری کو بھی رجھانے کا پانسہ پھینکا گیا ہے۔ کیشو پرساد موریہ او بی سی سے آتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جیت دلانے میں پسماندہ ذاتوں میں انہوں نے خاص کردار ادا کیا ہے۔

    یوگی گورکھپور سے پانچ بار رکن پارلیمنٹ منتخب کئے جا چکے ہیں۔ یوگی کو سامنے رکھ کر جہاں ہندوتو کارڈ کھیلا گیا ہے، وہیں چھتریہ برادری کو بھی رجھانے کا پانسہ پھینکا گیا ہے۔ کیشو پرساد موریہ او بی سی سے آتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جیت دلانے میں پسماندہ ذاتوں میں انہوں نے خاص کردار ادا کیا ہے۔

  • سال 2002 میں راج ناتھ سنگھ پوروانچل سے آخری وزیر اعلی مانے جاتے تھے۔ اب چودہ سال بعد پوروانچل کو یوگی کی شکل میں ایک نیا وزیر اعلیٰ ملا ہے۔

    سال 2002 میں راج ناتھ سنگھ پوروانچل سے آخری وزیر اعلی مانے جاتے تھے۔ اب چودہ سال بعد پوروانچل کو یوگی کی شکل میں ایک نیا وزیر اعلیٰ ملا ہے۔

  • بی جے پی کی ٹاپ لیڈرشپ نے یوگی کو سامنے لا کر ایک تیر سے کئی نشانے سادھے ہیں۔ یعنی 'کلنگ ٹو برڈس ود ون اسٹون کا فارمولا' اپنایا۔ پی ایم مودی اور شاہ کے علاوہ آر ایس ایس نے اپنا مقصد صاف کر دیا ہے۔ ریاست میں پارٹی کی نگاہیں 2019 میں ہونے والے لوک سبھا مشن پر ٹکی ہیں۔
  • میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی کو سی ایم کی کمان سونپنے کا فیصلہ گورکشپيٹھ میں بہت پہلے ہو چکا تھا۔ اس پر آر ایس ایس اور سنت سماج نے اپنی مہر لگائی تھی۔ لیکن الیکشن بغیر سی ایم چہرے کے لڑا گیا تھا، لہذا اس بات کا انکشاف نہیں کیا گیا۔
  • یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ انتظامی لحاظ سے یوپی کے بڑا ہونے اور یوگی کو تجربہ نہ ہونے کے سبب بی جے پی یہ داؤ نہیں کھیلے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پارٹی نے راج ناتھ سنگھ پر داؤ لگانے کے بجائے کافی غوروخوض کے بعد یوگی پر پانسہ کھیلا۔
  • یوگی پی ایم مودی کے قریبی اور چہیتے مانے جاتے ہیں۔ لو-جہاد جیسے مسائل کو انہوں نے سیاسی رنگ دے دیا۔ پوروانچل میں ان کی ہندوتو واہنی سینا الگ پہچان رکھتی ہے۔
  • جنوبی ہند میں شیو سینا ہندوتو کا جھنڈا بلند کرتی ہے۔ کبھی بالاصاحب ٹھاکرے کو 'ہندوتو کا شیر' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہی صورت حال شمالی ہندوستان میں یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی ہندوتو واہنی سینا کی ہے۔
  • اہم بات یہ ہے کہ یوگی کے ساتھ ہی پارٹی میں جن لوگوں کو اقتدار کی كمان سونپی گئی ہے، وہ تمام نئے چہرے ہیں، انہیں ریاست چلانے کا تجربہ نہیں ہے۔
  • پارٹی نے ذات پات کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ یوگی کابینہ میں ہر ایک ذات پات کے لوگوں کو توجہ دی گئی ہے۔ یوگی بنیادی طور پر اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال سے آتے ہیں۔ ہندو نظریے کی جو شبیہ ناگپور کی ہے، اب وہی یوپی میں گورکھپور کی ابھر رہی ہے۔ گورکھپور منی ناگپور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
  • یوپی کا پوروانچل اب ملک کی سیاست کا 'پاور سینٹر' بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ہندوتو کے گڑھ کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ یوگی مشتعل ہندوتو شبیہ کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ گجرات میں ہونے والے انتخابات کے لئے بھی یہ صورت حال بہتر ہوگی۔
  • یوگی گورکھپور سے پانچ بار رکن پارلیمنٹ منتخب کئے جا چکے ہیں۔ یوگی کو سامنے رکھ کر جہاں ہندوتو کارڈ کھیلا گیا ہے، وہیں چھتریہ برادری کو بھی رجھانے کا پانسہ پھینکا گیا ہے۔ کیشو پرساد موریہ او بی سی سے آتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جیت دلانے میں پسماندہ ذاتوں میں انہوں نے خاص کردار ادا کیا ہے۔
  • سال 2002 میں راج ناتھ سنگھ پوروانچل سے آخری وزیر اعلی مانے جاتے تھے۔ اب چودہ سال بعد پوروانچل کو یوگی کی شکل میں ایک نیا وزیر اعلیٰ ملا ہے۔

تازہ ترین تصاویر