یو پی پی سی ایس جے میں ہاپوڑ کی زیبا رؤف نے حاصل کیا 35 واں مقام

Oct 23, 2017 07:18 PM IST
1 of 7
  •  کہتے ہیں کہ اگر تعلیم کی بنیاد مضبوط ہو تو صحیح رہنمائی اورمحنت روشن مستقبل کی سند بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پیش کی ہےمغربی یو پی کے ہاپوڑ شہر کی زیبا رؤف نے۔  پی سی ایس جے میں شاندار کامیابی حاصل کرکے زیبا نے نہ صرف اپنے اور اپنے والدین کےخواب کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے بلکہ قوم اورمعاشرے کی دوسری لڑکیوں کے لئے بھی انہوں نے ایک نظیر پیش کی ہے ۔

    کہتے ہیں کہ اگر تعلیم کی بنیاد مضبوط ہو تو صحیح رہنمائی اورمحنت روشن مستقبل کی سند بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پیش کی ہےمغربی یو پی کے ہاپوڑ شہر کی زیبا رؤف نے۔ پی سی ایس جے میں شاندار کامیابی حاصل کرکے زیبا نے نہ صرف اپنے اور اپنے والدین کےخواب کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے بلکہ قوم اورمعاشرے کی دوسری لڑکیوں کے لئے بھی انہوں نے ایک نظیر پیش کی ہے ۔

  •  زیبا کی کامیابی آج ان لڑکیوں اور ان کے والدین  کے لئے ایک نظیر ہے جو حالات کی مجبوری کو اپنی قسمت تسلیم کرکے کوششوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ زیبا کی کامیابی ہمارے سماج کے اس نظریہ کی تبدیلی کی بھی تصویر پیش کرتی ہے جس کے تحت لڑکیوں کی پرورش محض پرایا دھن سمجھ کر کی جاتی ہے۔ عبدالرؤف،زیبا کے والد۔

    زیبا کی کامیابی آج ان لڑکیوں اور ان کے والدین کے لئے ایک نظیر ہے جو حالات کی مجبوری کو اپنی قسمت تسلیم کرکے کوششوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ زیبا کی کامیابی ہمارے سماج کے اس نظریہ کی تبدیلی کی بھی تصویر پیش کرتی ہے جس کے تحت لڑکیوں کی پرورش محض پرایا دھن سمجھ کر کی جاتی ہے۔ عبدالرؤف،زیبا کے والد۔

  •  ہاپوڑ سےتعلق رکھنے والی زیبا رؤف نے یو پی پروونشیئل سول سروسز (منصف) کے امتحان میں صوبے میں 35 واں مقام حاصل کیا ہے۔ فاطمہ، زیبا کی والدہ۔

    ہاپوڑ سےتعلق رکھنے والی زیبا رؤف نے یو پی پروونشیئل سول سروسز (منصف) کے امتحان میں صوبے میں 35 واں مقام حاصل کیا ہے۔ فاطمہ، زیبا کی والدہ۔

  • زیبا نے اپنی پہلی کوشش میں ہی پی سی ایس جے میں یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے لیکن زیبا کی اس کامیابی کے پیچھےانکی برسوں کی محنت، لگن اوروالدین کی قربانیاں اورمدد شامل ہیں ۔

    زیبا نے اپنی پہلی کوشش میں ہی پی سی ایس جے میں یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے لیکن زیبا کی اس کامیابی کے پیچھےانکی برسوں کی محنت، لگن اوروالدین کی قربانیاں اورمدد شامل ہیں ۔

  • سینٹرل اسکول سے بارہویں پاس کرنے کے بعد اپنے والدین کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے زیبا نے دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اورایل ایل بی کی ڈگری کورس کے دوران ہی جوڈیشیئل سروسز کے امتحان کی تیاری بھی شروع کر دیں ۔ زیبا مانتی ہیں کہ تعلیم کےلئے والدین کی کوشش اور صحیح رہنمائی نے انہیں آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔

    سینٹرل اسکول سے بارہویں پاس کرنے کے بعد اپنے والدین کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے زیبا نے دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اورایل ایل بی کی ڈگری کورس کے دوران ہی جوڈیشیئل سروسز کے امتحان کی تیاری بھی شروع کر دیں ۔ زیبا مانتی ہیں کہ تعلیم کےلئے والدین کی کوشش اور صحیح رہنمائی نے انہیں آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔

  • زیبا کی کامیابی محض انکی اکیلے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ والدین کی قربانیوں اورمحنت کا بھی صلہ ہے ۔ بچوں کی تعلیم کی فکر کرنے والے زیبا کے والدین نے اپنی چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے مستقبل کے لئے اپنے گاؤں سمبھاولی راجپور سے ہجرت کی اور ہاپوڑ آکر بس گئے ۔ زیبا کے والدین نے بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کرتے ہوئے اپنے سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج زیبا کی ایک بہن کینیڈا میں سائنٹسٹ ہیں اور دوسری بہن پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

    زیبا کی کامیابی محض انکی اکیلے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ والدین کی قربانیوں اورمحنت کا بھی صلہ ہے ۔ بچوں کی تعلیم کی فکر کرنے والے زیبا کے والدین نے اپنی چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے مستقبل کے لئے اپنے گاؤں سمبھاولی راجپور سے ہجرت کی اور ہاپوڑ آکر بس گئے ۔ زیبا کے والدین نے بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کرتے ہوئے اپنے سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج زیبا کی ایک بہن کینیڈا میں سائنٹسٹ ہیں اور دوسری بہن پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

  •  زیبا کے اہل خانہ بیٹا اور بیٹی میں فرق نہ کرنے کے جس نظریہ پر یقین رکھتے ہیں وہ انکے بچوں کی تعلیم اور تربیت میں بھی نظر آتا ہے۔ زیبا مانتی ہیں کہ کھیل ہو یا تعلیم آج کسی بھی شعبہ میں لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں، بس ضرورت ہے تو انکی مدد، صحیح رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

    زیبا کے اہل خانہ بیٹا اور بیٹی میں فرق نہ کرنے کے جس نظریہ پر یقین رکھتے ہیں وہ انکے بچوں کی تعلیم اور تربیت میں بھی نظر آتا ہے۔ زیبا مانتی ہیں کہ کھیل ہو یا تعلیم آج کسی بھی شعبہ میں لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں، بس ضرورت ہے تو انکی مدد، صحیح رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

  •  زیبا کی کامیابی آج ان لڑکیوں اور ان کے والدین  کے لئے ایک نظیر ہے جو حالات کی مجبوری کو اپنی قسمت تسلیم کرکے کوششوں کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ زیبا کی کامیابی ہمارے سماج کے اس نظریہ کی تبدیلی کی بھی تصویر پیش کرتی ہے جس کے تحت لڑکیوں کی پرورش محض پرایا دھن سمجھ کر کی جاتی ہے۔ عبدالرؤف،زیبا کے والد۔
  •  ہاپوڑ سےتعلق رکھنے والی زیبا رؤف نے یو پی پروونشیئل سول سروسز (منصف) کے امتحان میں صوبے میں 35 واں مقام حاصل کیا ہے۔ فاطمہ، زیبا کی والدہ۔
  • زیبا نے اپنی پہلی کوشش میں ہی پی سی ایس جے میں یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے لیکن زیبا کی اس کامیابی کے پیچھےانکی برسوں کی محنت، لگن اوروالدین کی قربانیاں اورمدد شامل ہیں ۔
  • سینٹرل اسکول سے بارہویں پاس کرنے کے بعد اپنے والدین کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے زیبا نے دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اورایل ایل بی کی ڈگری کورس کے دوران ہی جوڈیشیئل سروسز کے امتحان کی تیاری بھی شروع کر دیں ۔ زیبا مانتی ہیں کہ تعلیم کےلئے والدین کی کوشش اور صحیح رہنمائی نے انہیں آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔
  • زیبا کی کامیابی محض انکی اکیلے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ والدین کی قربانیوں اورمحنت کا بھی صلہ ہے ۔ بچوں کی تعلیم کی فکر کرنے والے زیبا کے والدین نے اپنی چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے مستقبل کے لئے اپنے گاؤں سمبھاولی راجپور سے ہجرت کی اور ہاپوڑ آکر بس گئے ۔ زیبا کے والدین نے بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کرتے ہوئے اپنے سبھی بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج زیبا کی ایک بہن کینیڈا میں سائنٹسٹ ہیں اور دوسری بہن پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔
  •  زیبا کے اہل خانہ بیٹا اور بیٹی میں فرق نہ کرنے کے جس نظریہ پر یقین رکھتے ہیں وہ انکے بچوں کی تعلیم اور تربیت میں بھی نظر آتا ہے۔ زیبا مانتی ہیں کہ کھیل ہو یا تعلیم آج کسی بھی شعبہ میں لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے نہیں ہیں، بس ضرورت ہے تو انکی مدد، صحیح رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔

تازہ ترین تصاویر