مولانا اسرار الحق قاسمیؒ: جہد مسلسل واخلاص عمل کی ایک عمده مثال

Jan 08, 2019 09:10 PM IST | Updated on: Jan 08, 2019 09:20 PM IST

عربی زبان کے نامورادیب اوربلند پایہ مصنف احمد امین نے "موت" کے حتمی ہونے کی تعبیراس طرح کی ہے: "الموت قافیۃ کل حیّ" (ہر زندہ شخص کی انتہا موت ہے)۔ لیکن قرآن کریم کی تعبیراس سے زیادہ دقیق اورمعنی خیزہے (کل نفس ذائقۃ الموت) "ہرنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے"۔

پچھلے دنوں جب مشہورعالم دین اورممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پرملال کی اچانک خبرآئی توہرطرف سے تعزیتی بیانات اورزبانی وتحریری پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا اورسبھی مولانا مرحوم کی تعریف میں رطب اللسان نظر آئے، کسی نے ان کے دعوتی واصلاحی کاموں کوسراہا، کسی نے ان کی ملی وسماجی خدمات کا ذکرکیا توکسی نے ان کی سادگی اورخوش اخلاقی کا ذکرکیا اورکسی نے ان کی عبادت وریاضت کے ذوق اورغریبوں ومحتاجوں کی حاجت روائی کے جذبہ پر روشنی ڈالی۔

غرض یہ کہ ہرشخص نے ان کے اچھے اوصاف هي ذکر کئے اور ان کی وفات کو ملک وملت کے لئے عظیم سانحہ قرار دیا۔ جو یقینا ان کے لئے فال نیک ہے اور اخروی زندگی میں ان کی کامیابی وسرخروئی کی علامت اور یہاں بھی زبان خلق نقارۂ خدا معلوم ہونے لگی۔

پھر ان کی موت بھی ایسے وقت میں آئی کہ وہ اپنی دعوتی واصلاحی مہم سے فارغ ہورات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد ایک طرف تھکے ہارے جسم کا تقاضا کہ کچھ دیر کمر سیدھی کرلیں دوسری طرف (تتجافی جنوبھم عن المضاجع) ، (وبالأسحار ھم یستغفرون) کی خصوصیت رکھنے والوں کے زمرہ میں شامل ہونے اور رات کے پچھلے پہر رب کا ئنات سے خوف وطمع کے ساتھ کچھ مانگ لینے کی خواہش تہجد کی نماز کے لئے بے چین کئے ہوئے، اسی کشمکش کے دوران موت کا فرشتہ پیغام اجل لیکر پہنچ جاتا ہے اللہ کے ایک بندہ کےلئے اس حال میں خودسپردگی کے علاوہ چارہ ہی کیا رہ جاتا ہے، جان جان آفریں کے سپرد کردی اور خالق کائنات کی آغوش رحمت میں جاپہنچے۔

maulana asrarul haq qasmi

مولانا اسرار الحق قاسمی کے انتقال کے بعد ہر طبقہ کے علماء اور ارباب دانش نے جن تاثرات کا اظہار کیا ہے اور ان کی جس بے پناہ مقبولیت کی شہادتیں دی ہیں شاید ان کی زندگی میں کسی کو اس کا اندازہ بھی نہ رہا ہو۔ سبھوں نے یہ شہادت دی ہے کہ وہ پیکر عمل بن کر غیب کی صدا بن گئے تھے، وہ ہر کام نہایت لگن پختگی اور اخلاص سے کرنے کے عادی تھے وہ اپنی سادگی اورتواضع میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھے۔

مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب ایک عرصہ تک جمیعت علماء ہند کے جنرل سکریٹری رہے طبیعت میں سلامتی تھی جب پانی سرسے اونچا ہوتا دیکھا تو وہاں سے علاحدگی اختیار کرلی۔ پھر مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کے ساتھ ملی کونسل کی تشکیل وتعمیر میں لگ گئے اپنے عزم وحوصلہ کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر ملی تعلیمی فاؤنڈیشن قائم کیا اور سیمانچل کے علاقہ میں تعلیمی ادارے قائم کئے سماجی اصلاح اور فلاحی کام انجام دیتے رہے۔

مولانا اسرارالحق قاسمی: فائل فوٹو

مغربی بنگال اور بہار وآسام کے بعض دوسرے علاقے بھی ان کی کوششوں سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی ني رفاہی کاموں اور تعلیمی واصلاحی پروگراموں کی تنفیذ کے لئے دوردراز کے سفر کئے مشقتیں جھیلیں اور جانی ومالی قربانیاں دیں۔ وہ ممبر پالیمنٹ رہے، کئی تعلیمی اداروں کی شوری اور انتظامیہ کے رکن رہے، خود تعلیمی وغیر تعلیمی ادارے قائم کئے لیکن اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں کی ہماہمی اور رفاہی وتعلیمی سرگرمیوں میں بے پناہ مصروفیت کے باوجود ان کی ذاتی زندگی ذوق عبادت سے بھی معمور رہی اور انہوں نے"نالۂ نیم شبی" اور"آہ سحرگاہی" سے بھی خود كووابستہ رکھا، جس سے سعادت مند روحیں بہرہ ورہوا کرتی ہیں، بقول اقبال: اورغالباً ان کی اسی خصوصیت  مين ان کی عظمت اورغیرمعمولی مقبولیت کا رازبھی ہے۔

maulana asrarul haq qasmi.png 3

چنانچہ ان کےعزیزواقارب کی طرف سے کسی خاص اہتمام کے بغیر ہی تعزیتی جلسے، ایصال ثواب کی محفلیں اور اخبارات ورسائل، اورسوشل میڈیا کے ذرائع بھی ان کے کاموں اور کارناموں پر روشنی ڈال رہے ہیں اورہرطرف سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح کی مقبولیت ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی جو دن رات اپنی شہرت کے لئے جتن کرتے رہتے ہیں ٹیوٹر فیس بک اور سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع استعمال کرکے اپنے فالوروں کی تعداد بڑھانے میں شب وروز لگے رہتے ہیں۔

maulana asrarul haq qasmi.png 2

دراصل حقیقی مقبولیت اوپرسےآتی ہے اوراس کے لئے آدمی کا بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ یہ محض اپنے رب کے ساتھ رشتہ کی استواری اوراخلاص عمل کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے اوراللہ ہی جسے چاہتا ہے، اپنے مقبولین میں شمارکرلیتا ہے اورمخلوق میں اس کی محبت القا کردی جاتی ہے۔ مولانا محمد یونس جونپوری ہوں یا بھائی عبد الوہاب ان کے جنازے میں شرکاء کی کثرت بالائی مقبولیت ہی کی علامت معلوم ہوتی ہے اسی طرح مولانا اسرار الحق قاسمی کے بارے میں ہر شخص کی زبان پر ذکر خیر کا ہونا بھی فال نیک قراردیا جاسکتا ہے۔

maulana asrarul haq qasmi.png 4

ملی کونسل کی طویل رپورٹیں عرصه تک وہ اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجتے رہے جس سے وسائل کی قلت اور مولانا کی ‘‘ہمدردی ملت ’’ دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔ مولانا کے کارناموں اور ان کے ذاتی حالات سے ان کے نائب مولانا افتخار حسین مدنی اور ان کے ساتھ سایہ کی طرح جڑے ہوئے مولوی نوشیر وغیرہ کو واقفیت ہوگی اور وہی کچھ لکھنے کا حق رکھتے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی خلق کی شہادت کو ان کی قبولیت کی علامت بنا دے اور ان کے اخلاص عمل کے صلہ میں ان کو فردوس بریں میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین۔

(بدرالحسن قاسمی:  مقیم حال - کویت) 

ری کمنڈیڈ اسٹوریز