ذاکر نائک ہیں کون اور بالآخرکیا ہے ان کا قصور؟

Jul 13, 2016 12:44 PM IST | Updated on: Jul 13, 2016 01:07 PM IST

عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک حال ہی میں ہوئے ڈھاکہ دہشت گردانہ حملوں کو لے کر تنازعات کی زد میں ہیں۔ اس خبر کے عام ہونے کے بعد کہ ڈھاکہ میں ایک مشتبہ حملہ آور ڈاکٹر نائک سے متاثر تھا، ان پر ان دنوں قومی میڈیا اور سرکاری ایجنسیوں کی خصوصی نظر ہے۔ ڈھاکہ حملہ میں ایک ہندوستانی لڑکی سمیت بائیس افراد مارے گئے تھے۔

ڈھاکہ دہشت گردانہ حملوں کو بہانہ بنا کر ذاکر نائک کے خلاف میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ میڈیا نے ان کے خلاف ایک ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ میڈیا ذاکر نائک کو ایک ولن کی شکل میں پیش کر رہا ہے۔ حکومت ہند نے ذاکر نائیک کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے املاک کی جانچ بھی شروع کر دی ہے۔ جانچ اداروں نے ذاکر نائیک کے ممبئی میں واقع اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے فنڈز کے حوالہ سے بھی جانچ تیز کر دی ہے۔ لیکن بالآخر، ان کے خلاف اس قدر ہنگامہ کیوں برپا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں؟ اور بالآخر ڈاکٹر نائک کا جرم کیا ہے؟

وکی پیڈیا کے مطابق، ڈاکٹر ذاکر نائک پیشہ سے ایک ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے ایک عرصہ تک طبی خدمات انجام دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ڈاکٹر نائک سے کچھ اور ہی کام لینا منظور تھا۔ چنانچہ انیس سو اکیانوے میں وہ دعوت وتبلیغ کے میدان میں آ گئے اور ممبئی میں اسلامک ریسرچ فاونڈیشن نامی ایک ادارہ قائم کیا۔ دو ہزار چھ میں جب ڈاکٹر نائک سے پوچھا گیا کہ دعوت وتبلیغ کی طرف ان کا رجحان کیوں کر ہوا اور کس شخصیت سے متاثر ہو کر انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ  وہ جنوبی افریقہ کے مشہور مبلغ اور تقابل ادیان کے ممتاز مناظر احمد دیدات سے متاثر ہیں اور انہیں سے ترغیب پا کر وہ اس میدان میں آئے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک نے انیس سو ستاسی میں احمد دیدات سے ملاقات کی تھی اورانہیں سے انہیں دعوتی میدان میں کام کرنے کی ترغیب ملی۔ چنانچہ اس کے تین سال بعد ذاکر نائک نے دعوتی میدان میں کام کرنا شروع کر دیا۔ احمد دیدات گجرات کے سورت میں پیدا ہوئے تھے ۔ ان کی پیدائش کے جلد ہی بعد ان کے والد اپنی فیملی کے ساتھ جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے تھے۔ احمد دیدات بعد میں مناظر اسلام کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ احمد دیدات ہی کی زندگی میں ڈاکٹر نائک کی تقریروں کی ہر طرف سے زبردست پذیرائی ہونے لگی تھی۔ ذاکر نائک کی تقریروں اور مباحثوں سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔ چنانچہ احمد دیدات نے انیس سو چورانوے میں ہی ڈاکٹر نائک کو ‘‘ دیدات پلس’’ کا خطاب دے دیا تھا۔ ذاکر نائک کی دعوتی سرگرمیوں سے خوش ہو کر احمد دیدات نے سن دو ہزار میں انہیں ایک تاریخی مومنٹو بھی پیش کیا۔ انیس سو چورانوے سے دوہزار پانچ تک ذاکر نائک کے سینکڑوں اور ہزاروں لیکچرز پوری دنیا میں پھیل چکے تھے اور اس طرح انہیں دنیا بھر میں شہرت ملنے لگی تھی۔ دوہزار پانچ میں احمد دیدات کا انتقال ہو گیا۔

ذاکر نائک نے دین اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لئے روایتی علما کا طریقہ اختیار نہیں کیا، انہوں نے کسی مسلم گروہ یا کسی مخصوص فرقہ تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اپنی دعوت وتبلیغ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پوری قوم کو اپنا مخاطب بنایا جس میں مسلم، غیر مسلم  اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے اللہ کی طرف دعوت دینے کا کام فتووں سے بھی شروع نہیں کیا، بلکہ انہوں نے راست طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول کی دعوت دی جس میں نہ تو اندھی تقلید کی کوئی گنجائش تھی اور جس میں نہ تو اجتہاد پر کوئی پابندی عاید تھی۔ ذاکر نائک نے مسلمانوں میں رائج غلط عقائد اور رسوم رواج کے خلاف آواز بلند کرنے اور انہیں خالص کتاب وسنت کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی اسلام کی دعوت دینا شروع کیا۔ ایک اسلامی مناظر کی حیثیت سے انہوں نے دیگر مذاہب کے ماہرین کے ساتھ اسٹیج شئیر کئے، ان سے مناظرے اور مباحثے شروع کئے۔ غیر مسلموں میں اسلام سے متعلق غیروں نے جو غلط فہمیاں پھیلائی تھیں ، اس کا جواب انہوں نے خود انہی کی زبان میں دینا شروع کر دیا۔ اپنی تقریروں کی سی ڈیز اور ویڈیوز تیار کرائے۔ مزید برآں، عصری تقاضوں کے مدنظر اپنے دعوتی پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لئے انہوں نے کئی زبانوں میں ٹی وی چینل شروع کیا جس کا نام پیس ٹی وی رکھا۔

ذاکر نائک کو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد ملی۔ ان کے دعوتی اور تبلیغی مشن کو زبردست کامیابی ملی۔ چنانچہ جب بڑی تعداد میں لوگ ان کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے لگے تو دیگر مذاہب کے لوگوں میں ان کے خلاف نفرتیں پھیلنے لگیں اور انہوں نے نائک کے خلاف سازشیں کرنا شروع کر دیں۔ مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ان کا کٹر مخالف ہو گیا کیونکہ ذاکر نائک نے ان کے عقائد میں اصلاح کی کوشش کی۔ ان کو غلط رسوم ورواج سے باز آنے کی اپیل کی۔ ذاکر نائک کے ان مخالفین نے ہمیشہ ان کو دبانے کی کوشش کی۔ ان کی دعوتی سرگرمیوں پر روک لگانے کے ہزارہا جتن کئے۔ لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ بلکہ اس کے برعکس ذاکر نائک کی آواز مزید مضبوط ہوتی گئی۔ ان کے ماننے اور چاہنے والوں کی تعداد دنیا بھر میں مستقل طور پر بڑھتی گئی۔ لیکن اب جبکہ ڈھاکہ حملہ کو لے کر میڈیا کو ان کے خلاف ایک نیا شوشہ مل گیا، ایک ایسا شوشہ جس میں کوئی دم نہیں، جس کی کوئی حقیقت نہیں تو اب ان کے مخالفین پوری شدت کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے ہیں۔

 لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستانی آئین کی رو سے یہاں ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنا، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا، اس کی تبلیغ کرنا اس کا حق ہے۔ یہ حق اس سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آئین کی رو سے ذاکر نائک نے اپنے حق کا پورا استعمال کیا ہے، انہوں نے کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ان کی تقریروں پر مشتمل لاکھوں ویڈیوز ہیں۔ کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ انہوں نے اپنی تقریروں میں دہشت گردی کی حمایت کی ہے، ملک مخالف باتیں کہی ہیں، لوگوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا ہے، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی طرف لوگوں کو مائل کیا ہے۔

ذاکر نائک اس وقت سعودی عرب میں ہیں۔ دو دن پہلے انہوں نے اپنا ایک تازہ بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا‘‘  میرا خیال ہے کہ میڈیا دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو کہ ایک ہیرو کو ولن بنا سکتا ہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں کہ کس طرح ڈھاکہ میں یکم جولائی کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کو لے کر میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں میرے تقاریر کی جو کلپ دکھائی جا رہی ہے وہ یا تو آدھی ادھوری ہے یا پھر اسے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال پرنٹ میڈیا میں بھی ہے’’۔ ڈاکٹر نائیک نے کہا کہ ‘‘ مجھ سے ابھی تک کسی ہندوستانی ایجنسی سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ میں ہندوستانی تفتیشی ایجنسیوں سے ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں’’۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ میں ایک بار پھر یہ دہرانا چاہتا ہوں کہ میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی اور تشدد کی حمایت نہیں کرتا ہوں۔ میں نے آج تک کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کی’’۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں ایسے کروڑوں لوگ ہیں جو ذاکر نائک کو مختلف وجہوں سے پسند کرتے ہیں۔ ان کی تقریریں سنتے اور دیکھتے ہیں۔ فیس بک پر ان کے ایک کروڑ چالیس لاکھ  اور ٹوئٹر پر ایک کروڑ سے زیادہ ان کے فالوورز ہیں۔ اردو، بنگلہ اور انگریزی زبانوں میں چلنے والے ان کے پیس ٹی وی کو دنیا بھر میں دو کروڑ سے بھی زائد لوگ دیکھتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی میڈیا کو پتہ چلا کہ ڈھاکہ میں ایک مشتبہ حملہ آور ذاکر نائک کو جانتا تھا اور انہیں فالو کرتا تھا، تبھی سے ہمارے قومی میڈیا نے ایک طوفان سا برپا کر دیا۔ ہر طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ ذاکر نائک اور ممبئی میں واقع ان کے ادارے پر پابندی عائد کی جائی، ان کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے اور ان کی تمام تر دینی ودعوتی سرگرمیوں پر روک لگا دی جائے۔

ملک کا باشعور اور سنجیدہ طبقہ میڈیا کی اس ہنگامہ آرائی پر حیرت میں ہے۔ جس شخص نے اب تک دنیا کو امن وسلامتی کا درس دیا ہے اور جس نے اپنے ٹی وی چینل کا نام بھی ‘‘ پیس ٹی وی’’ رکھا ہے اور جو خالص قرآن اور حدیث کی باتیں کرتا ہے، وہ کیسے کسی دہشت گرد کو برانگیختہ کر سکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ڈھاکہ کا حملہ آور ذاکر نائک کی تقریروں سے متاثر تھا تو پھر بنگلہ دیش میں عید کے دن حملہ کرنے والے، اس سے دو دن پہلے مسجد نبوی میں دھماکہ کرنے والے اور پورے رمضان کے مہینہ میں مختلف مسلم ملکوں میں سینکڑوں افراد کا قتل کرنے والے کس شخص سے متاثر تھے؟ اگر ایسا ہے تو حکومت کو شردھا کپور پر بھی پابندی عاید کرنی چاہئے، کیونکہ ایک دہشت گرد ان کا بھی بہت زیادہ فین تھا۔ اس دہشت گرد نے شردھا کپور سے ملاقات بھی کی تھی۔ اگر ایسا ہے تو اس ملک میں مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والے اور زہریلے بیانات دینے والے لوگوں پر بھی بین لگایا جائے۔ یہ حیرت کی بات ہی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے پیس ٹی وی چلانے والے ذاکر نائک کے ہزاروں اور لاکھوں بیانات میں سے کسی ایک بھی بیان پر حکومت کو اعتراض نہیں ہوا، لیکن ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کے ذریعہ فیس بک پر انہیں فالو کرنے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف ایک زبردست ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔

ہندوستان کی ایجنسیوں نے اب تک ذاکر نائک کو کوئی نوٹس نہیں بھیجا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ لیکن میڈیا چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ ذاکر بھاگ گیا، ذاکر ڈر گیا، ذاکر روپوش ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا میڈیا اس سے کیا پیغام دینا چاہتا ہے، یہی نا کہ وہ فسطائی طاقتوں کا آلہ کار بن کر رہ گیا ہے، یہی نا کہ اب ملک میں عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ عدالتوں کا رول اب وہ خود ہی ادا کر رہا ہے۔ میڈیا کیوں اس قدر بے لگام ہو گیا ہے،کیا اب اس کا کام کسی نان ایشو کو ایشو بنانا ہی رہ گیا ہے۔

در اصل، ذاکر نائک کے معاملہ کو اس قدر شدت کے ساتھ اچھالنے کا مقصد اترپردیش میں آئندہ ہونے والا اسمبلی الیکشن بتایا جا رہا ہے۔ چونکہ مسلمانوں میں بھی کچھ جماعتیں ایسی ہیں جو ذاکر نائک سے بے انتہا نفرت کرتی ہیں اس لئے نائک کے معاملہ کو اچھال کر مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کی سیاست بھی کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف سادھوی پراچی اور دیگر فرقہ پرست لیڈران کے ذریعہ ذاکر نائک کے خلاف اشتعال انگیز بیان دلا کر ووٹوں کے پولرائزیشن کی چال بھی چلی جا رہی ہے۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ذاکر نائک کے ایشو کو اچھالنے میں حکومت کی شہہ ہے اور وہ پینتالیس ہزار کروڑ کے اسپیکٹرم گھپلہ پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

اس وقت جبکہ ہمارا ملک ہندوستان کئی مسائل سے دو چار ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب سے تباہی مچی ہوئی ہے، جان ومال کا ضیاع ہو رہا ہے، کشمیر کے حالات ابتر ہیں، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، یہ اور اس طرح کے کچھ اور مسائل سے ملک بھر کے عوام پریشان ہیں، ایسے حالات میں ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور انہیں حل کرنے کے بجائے ایک ایسے ایشو کو سنگین تر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جس میں کوئی دم نہیں ہے اور جس کی جانچ ابھی جاری ہے۔

بہر حال، یہ خوش آئند امر ہے کہ ملک کی زیادہ تر مسلم تنظیموں نے ذاکر نائک کے ساتھ اپنے فکری و نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کے تئیں اظہار یکجہتی کیا ہے، ان کے حق میں بیانات دئیے ہیں اور ان کے معاملہ میں حکومت سے انصاف کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ تنظیمیں لائق صد مبارکباد ہیں کہ انہوں نے وقت کی نبض کو اچھی طرح سے سمجھ لیا اور باہم اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز