لوٹ ہی آئی بی جے پی

Oct 30, 2015 09:13 AM IST | Updated on: Feb 24, 2016 06:11 PM IST

آج سے تقریبا ڈیر ھ برس قبل بی جے پی نے ایک نعرہ دیا اور اس کی بدولت مرکز میں اقتدار کی کرسی تک پہنچ گئی اور ساتھ ہی ساتھ کچھ دیگر اسمبلی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرلی ۔ مہاراشٹر ، ہر یانہ ، راجستھان اور کچھ حد تک جموں وکشمیر میں اس کو اس نعرے کی بدولت کی کامیابی مل گئی ۔ مگر شاید کسی کو بھی اس کی امید نہیں رہی ہوگی کہ بی جے پی کے اس نعرے کی ہوا اتنی جلد نکل جائے گی اور وہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ جائے گی۔

لوک سبھا الیکشن اور اس کے فورا بعد ہوئے ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی نے ترقی کا نعرہ ، اچھے دنوں کا وعدہ اور کانگریس کی بدعنوانیوں کا دھنڈورہ پیٹ کر کامیابیاں تو حاصل کرلیں، مگر دہلی میں اس کا یہ نعرہ بالکل فلاپ ثابت ہوا اور اس کو شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ عام آدمی پارٹی نے جو قومی راجدھانی میں جو پٹخنی دی ، شاید آج اسی کا نتیجہ ہے کہ بہار میں بی جے پی کہیں بھی ترقی کا نعرہ بلند کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے ۔ شروعات میں اس نے بہار کے ووٹروں کو لالو کے جنگل راج کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ، مگر ووٹ پانے میں ناکامی کے بعد اب اس نے ایک بار پھر اپنا نعرہ بدل دیا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں پہلے ، دوسرے اور تیسرے مرحلے کی ووٹنگ ہوچکی ہے ۔ یکم نومبر کو چوتھے جبکہ پانچ نومبر کو پانچویں مرحلے کیلئے ووٹ ڈالے جانے والے ہیں۔ یوں تو کروٹ کس اونٹ بیٹھتا ہے اس کا پتہ 8 نومبر کو چلے گا ، مگر میڈیا کی خبروں پر یقین کریں تو بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیاں اب تک نتیش ، لالو اور کانگریس کے مہاگٹھ بندھن سے کافی پیچھے نظر آرہی ہیں اور بہا رمیں ایک بار پھر نتیش کی قیادت میں سرکار بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

پہلے ، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بی جے پی نے بہار کے لوگوں کو لالو پرساد کی واپسی سے ریاست میں جنگل راج کے بول بالا ہوجانے کا خوف دکھایا ، ذات پات کا کارڈ کھیلا یہاں تک وزیر اعظم تک کی ذات بتاڈالی ، مگر یہ حربے بھی کچھ کام آتے ہوئے نظر نہیں آتے ،تواب وہ ایک بار پھر مسلمانوں کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں جٹ گئی ہے۔

جمعرات کو سیوان میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے یہ کہہ کر کہ لالو اور نتیش کی جیت سے پاکستان میں پٹاخے چھوٹیں گے اور ایک خاص طبقہ اس کا سب سے زیادہ جشن منائے گا ، واضح اشارہ دیدیا کہ پارٹی چوتھے اور پانچویں مرحلے میں نہ تو ترقی کا نعرہ دے گی اور نہ ہی ووٹروں کے دل و دماغ پر جنگل راج کی واپسی کا خوف بٹھائے گی ، بلکہ وہ پولرائزیشن کی سیاست کے فارمولے پر لوٹ آئی ہے اور لوگوں کو ایک خاص طبقہ کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گی ۔

بی جے پی کے اس یو ٹرن کی ایک اور بھی وجہ نظر آرہی ہے۔ گزشتہ کم و بیش پندرہ مہینوں میں بی جے پی لوک سبھا انتخابات کے دوران کئے اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کرپائی ہے ۔ اچھے دن کا نعرہ دینے والوں سے عوام اب اپنے برے دن ہی مانگنے لگے ہیں ۔مہنگائی پر قابو پانے کا بلند بانگ دعوی کرنے والے کے راج میں قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں، ملک کے حالات بھی بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ، ادیبوں ، فلم سازوں اور سائنسدانوں سمیت ملک بھر کے لوگوں میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، لیڈروں کی زبانیں بے لگام ہیں اور شدت پسند تنظیموں کو نکیل کی بجائے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔

ایسے میں ترقی اور اچھے دن کے نعرے سے ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنا بی جے پی کے لئے بے سود ثابت ہوتا ، اسی لئے بہار میں انتخابی مہم کی شروعات سے ہی وزیر اعظم مودی اور پارٹی کی دیگر اسٹار پرچارک لیڈروں نے لوگوں کو جنگل راج کی واپسی کا خوف دکھانا شروع کردیا اور لالو اور نتیش پر جم کر نشانہ سادھنے لگے ۔ تاہم بی جے پی کا یہ حربہ بھی جب بظاہر پہلے ، دوسرے اور تیسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران کام نہ آیا تو اب اس نے ایک نیا نعرہ دیدیا ہے کہ اگر بہار میں بی جے پی ہارگئی تو پاکستان میں سب سے زیادہ پٹاخے چھوٹیں گے۔ یعنی اب وہ ووٹروں کو پاکستان اور مسلمان کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔

تاہم اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس نئے نعرے کی بدولت بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیاں چوتھے اور پانچویں مرحلے میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کتنا کامیاب ہوپاتی ہیں اور بینڈ باجا کے ساتھ بن دولہے کی اس بارات کو دولہن ملتی ہے یا نہیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز