حج اور عازمین حج

Oct 17, 2015 04:48 PM IST | Updated on: Feb 24, 2016 06:11 PM IST

اگر آپ کو حج کے احکام وفضائل، طریقہء ادائیگی اور واجبات ومحظورات سے دلچسپی ہو تو آپ اپنی کم علمی وکم مائیگی کی تشنگی مارکٹ میں دستیاب بے شمار کتابوں، یا پھر انٹرنٹ او رماہناموں میں شائع شدہ لا تعداد تحریروں سے بجھا لیجئے گا۔  میں یہاں آپ کو حج کے ان پہلووں سے روبرو کرانا چاہتا  ہوں جنکے بارے میں عام طور پر کبھی کچھ بھی تحریر ی شکل میں ہماری نظروں سے نہیں گزرتا۔

حج اپنی ادائیگی کی منفرد کیفیت ونوعیت، طریقہ اور اسلو ب کے لحاظ سے دیگر دینی فرائض کے مقابلے اسلام میں ایک خاص امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ صاحبِ استطاعت مسلمان ہر سال مخصوص ایام میں،مخصوص اعمال کے ساتھ، مکہ کے مخصوص مقدس مقامات پر اس دینی فريضہ کو بڑی سنجیدگی ومتانت اور پر خلوص وپروقار انداز میں ادا کرتے ہیں۔لیکن حج کے لئے  روانگی  کے دن عازمینِ حج کو پھول مالائیں پہنا کر، کھلی گاڑیوں میں بٹھا کر میلوں میل تک، ایک بڑی بھیڑ کے ساتھ،فلگ شگاف نعروں اور تکبیروں کے ساتھ، ایک عجیب وغریب قسم کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی حج پہ نہیں بلکہ تیرتھ یاترا پہ جارہا ہے، فرق صرف نعروں کے بول میں دکھتا اور نظر آتا ہے۔ شاید یہ لوگ اس بہانے (لبیک اللہم لبیک) کی روحانی صدا بلند نہ کر پانے کی ديرينہ حسرت کو نعرہء تکبیر  اللہ اکبرکے والہانہ صداؤں سے اور طواف وسعی نہ کرپانے کی طويل کسک کو جلوس کی شکل میں مجنونانہ جوش وخروش اور احمقانہ وارفتگی سے پوری کر لیتے ہیں۔

ویسے تو حج مسلمانوں میں صرف بالغ اورصاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، لیکن ہر صاحبِ ایمان کعبہ کی زیارت، اسکی روحانی اور پرنور فضائے ربانی سے اپنے وجود کو سرشار کرنے،  اور حج وعمرہ کی ادائیگی کی سعادت کی تمنا تا عمر اپنے دل میں سجائے رکھتا ہے۔ آج سے پندرہ  بیس سال پہلے تک دور دراز ممالک سے صرف خواص اور اصحابِ استطاعت ہی کو اس کی ادائیگی کا شرف حاصل ہوتا تھا، لیکن گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں پوری دنیا میں مال وزرکی جس قدر فراوانی اور بہتات ہوئی ہے، عوام کے یہاں بھی حج کی ادائیگی کے رجحان میں بڑی تیزی آئی ہے۔

نویں ذی الحجہ عرفہ کا دن کہلاتا ہے، اس دن میدانِ عرفات میں ٹھہرنا، اللہ کے حضور پوری الحاج وگریہ زاری، پوری عاجزی و انکساری کے ساتھ دعائیں کرنا حج کا ایک بہت ہی خاص عمل ہے۔ ارشاد نبوی ہے کہ (اگر کوئی دعا سب سے بہترین ہو سکتی ہے تو وہ عرفہ کے دن کی دعا ہے)اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ (اللہ سب سے زیادہ اگر کسی دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی   کا پروانہ عطا کرتا ہے تو وہ عرفہ کا دن ہے)، نیز (اللہ عرفہ کے میدان میں ٹھہرنے والے اپنے بندوں پرآسمان میں موجود تمام مخلوقات کے سامنے فخر کرتا ہے)،  اور اللہ کے رسول ﷺ نے تو یہاں تک فرما دیا کہ(الحج عرفۃ)  یعنی عرفہ کا دن ہی دراصل حج ہے۔ ان ساری  فضیلتوں، عظمتوں اور برکتوں کے باوجود عرفہ کا دن حاجیوں کی بڑی تعداد کے لئے تفریح گاہ بن گیا ہے۔ کوئی کسی کو تلاش کرنے میں پورا دن گنوا دیتا ہے، کوئی ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک سیر سپاٹے میں لگا دیتا ہے۔ اگر دوستوں اور ہم جولیوں کے ساتھ حج کر رہے ہیں تو ایک ساتھ بیٹھ کر سارا دن خوش گپیوں اور مخول بازیوں میں ضائع کر دیتے ہیں،کسی کی نگاہ صرف منقسم کئے جانےوالے کھانوں کے پیکٹوں،  آئس کریم کی ڈبیوں  اور مختلف  قسم  کی مشروبات کی بوتلوں کو چھین جھپٹ کر جمع کرنے پہ ہوتی ہے، تو کوئی عرفہ میں موجود مسجدِ نمرہ یا جبلِ رحمت تک پہونچنے کی انتھک کوششوں میں سارا وقت رائیگاں کر دیتا ہے۔افسوس انسانی جہالتوں اور غفلتوں کی بھی کیا  انتہا ہے کہ جہاں اسے سب کچھ میسر ہو سکتا ہے، وہاں وہ اپنی محرومیوں کا سارا سامان خود پیدا کر لیتا ہے۔ محض مشروبات کی چند بوتلوں کو جہنم سے آزادی کے پروانے پر تر جیح دیتا ہے، الہی بخششوں اور ربانی مغفرتوں کو مخول بازیوں سے ٹھکرا دیتا ہے، جہالتوں کی بھی حد ہوتی ہے یہ تو سراسر نافرمانی ہے، عرفہ کے تقدس کی صریح پامالی ہے، فرامینِ الہی اور ارشاداتِ نبوی کی واضح خلاف ورزی ہے۔

حج کا موسم شروع ہوتے ہی منافع خوری میں ویسے ہی اچھال آجاتاہے جس طرح ہندوستان میں عید اور ہولی جیسے تہواروں پہ اشیائے خوردو نوش کی کالا بازاری۔ اسلام رزقِ حلال کی تلقین کرتا ہے اور حرام کمائی کےسبھی دروازوں کو بند کرتا ہے۔  اکتسابِ رزق، لین دین، تجارت اور معاملہ داری کے ان تمام طریقوں کو غیر شرعی قرار دیتا ہے جسمیں ایک کو صرف فائدے کا تو دوسرے کو صرف نقصان کا واضح اندیشہ ہو۔ حج کے دنوں میں حج اکسسریز، روز مرہ کے استعمال کی چیزوں، اور اشیائے خودرونوش کی قیمتوں میں،  یہاں تک کہ مواصلات اور نقل وحمل کے جملہ ذرائع کے کرایوں میں حیران کن اضافے اور بڑھوتری دیکھنے کو ملتی ہے۔دس کی جگہ ڈیڑھ سو،سو کی جگہ پانچ سو، اور دو سو کی جگہ ہزار ریال کا مطالبہ حیران کن اور بے چین کرنے والا ہے۔میل بھر کا سفر عام دنوں میں صرف دس ریال کے کرایہ پہ طے ہوجاتا ہے، لیکن حج کے دنوں میں آپ ڈرائیور کے رحم وکرم پر ہیں، وہ جتنا چاہے آپ سے مانگ لے اور طلب کرلے۔ ٹیکسی کا بیجا اورکئی گنا بڑھا ہوا کرایہ سن کر ہر حاجی اپنی خفگی، جھنجھلاہٹ اور غصے کو اپنے دانتوں تلے چبا کر رہ جاتا ہے۔ کچھ ٹریول ایجنسیاںجعلی اور نقلی حج پرمٹ دے کرسادہ لوح عازمین حج سے  ہزارہا ہزار ریال لوٹتی ہیں، اس سے حجاج کے خون پسینے کی گاڑھی کمائی تو رائیگاں جاتی ہی ہے، اوپر سے وہ حج کی ادائیگی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں، کیونکہ بغیر اصلی حج پرمٹ کے حج کے ایام میں مکہ میں داخلہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

بغیرحج پرمٹ کے حج کے دنوں میں مکہ میں داخلہ بالکل ممنوع ہوتا ہے،اسی لیے حج کے دنوں میں مکہ جانے والے سبھی راستوں کی ناکہ بندی کر دی جاتی ہے تاکہ ان لوگوں کو روکا جا سکے جو بغیر حج پرمٹ کے مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان ناکوں اور چیک پوسٹوں پہ جو حفاظتی دستےتعینات ہوتے ہیں اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد وہی بھیس بدل کے اپنی کاروں میں ان لوگوں کو بٹھا کر چیک پوسٹ پار کراتے ہیں جنکے پاس حج پرمٹ نہیں ہوتی،  اور اسکے بدلے کئی سو ریال کی موٹی رقم وصول کرتے ہیں۔یہ قانون کی عجب ستم ظریفی ہے کہ جنکے ہاتھوں میں قانون کی بالادستی ثابت کرنے اور اسے نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، وہی اسکی خلاف ورزی اور پامالی میں برسرِپیکار اور پیش پیش نظر آتے ہیں۔ یہ جرأتِ گستاخانہ اورملکی قانون کی انوکھی خلاف ورزی محض چند سو ریال کی خاطر کی جاتی ہے۔  یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ حج  کا موسم  کچھ لوگوں کے لیے لوٹ کھسوٹ، دلالی   اور بیجا و ناجائز پیسے اینٹھنے کا خاص موسم ہو۔ان شاطرانہ چالوں،قزاقانہ رویوں اور عیارانہ حیلوں سے کچھ بدطینت لوگ اپنی تجوریاں تو بھر لیتے ہیں، لیکن زندگی میں امن وسکون کی سعادت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سعودی حکومت کے پاس اس بے لگام کالابازاری اور منافع خوری کے روک تھام کے لئے علاحدہ قانون موجود ہو، علاحدہ ڈپارٹمنٹ بھی موجود ہو۔ لیکن افسوس در افسوس! دور دور تک اور کہیں سےکہیں تک کسی طرح کی کوئی کاروائی اسکے روک تھام کے لئے نظر نہیں آتی۔

اس تحریر کامقصد یہ ظاہر کرنا ہرگز نہیں ہے کہ حج میں صرف اور صرف سلبی اور منفی پہلو ہی غالب ہے اور یہ دعوی کرنا بھی بالکل غلط  اور واہیات ہوگا کہ اتنے بڑے  ایونٹ اور سالانہ عالمی اجتماع میں صرف چوری چکاری ہی ہوتی ہے، اس میں عبادت وبندگی ، روحانیت ، اورخلوص و للہیت کا براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ خاکم بدہن،  ایسا سوچنا  یا  ایسی نیت سے  کچھ تحریر کرناسراسرحماقت اور خبط ہوگا۔یہ تو چند سرسری ملاحظے تھے جو یہاں بغرضِ  اصلاح رقم کردیئے گئے ہیں، ورنہ حج کے دوران انسانیت و ہمدردی کے انوکھے نمونے،آپسی بھائی چارے، خلوص وللہیت، عبادت وبندگی اور جودو سخا کے دلکش  نظّارےاور بلا تفریقِ رنگ ونسل انسان دوستی کے وہ مظاہردیکھنے کو ملتے ہیں جوشاید دنیا کے کسی اور خطے میں بمشکل نظرآ ئیں۔بوڑھے اور کمزور حاجیوں کو سعودی آرمی کا اپنی پیٹھ پہ لاد کر منزل یا محفوظ مقام تک پہونچانا، شدید گرمی کی انتہائی تپش اور جھلسا دینے والی لو کی پروا کئے بغیر سعودی پولیس کا حاجیوں پہ پانی کے ٹھنڈے چھینٹے اور پُھوار ڈالنے کا عمل اپنے آپ میں انسانی ہمدردی کا ایک انوکھا نمونہ ہے۔ عرفہ میں بھوکے پیاسے حاجیوں کے لئے اشیائے خوردونوش کی بے انتہا مفت تقسیم دیکھ کر حاتم طائی کی فیاضی اورسخاوت بھی شرمندہ ہو جائے،مفت تقسیم کے لئے  مختلف قسم کی مشروبات کی بوتلوں سے لدی پھندی بے شمار لاریاں اور لا تعداد  ٹرالے دیکھکر مکہ کے تمام پہاڑی سلسلوں پہ پھیلی ہوئی انتہائی پر پیچ نہرِ زبیدہ جو عباسیہ خلافت میں حجاج کی سیرابی کی غرض سے تعمیرکی گئی تھی، اسکی اہمیت بھی، اپنے تمام ترکثیر مالی اخراجات اور بے انتہا  تعمیراتی مشکلات کے باوجود بھی،گرچہ کچھ وقت کے لیے ہی سہی، کم تر لگنے لگے۔ حاجیوں کی گریہ زاری، الحاح واصرار اور آنسووں سے تر بتر چہرے دیکھ کر نیک سے نیک تر عبادوزہاد بھی اپنی خلوتوں کی ساری عبادتوں اور بندگیوں کو کم تر گرداننے لگیں،طواف وسعی کرتے وقت حاجیوں کی اللہ سے ابتہالات، قسمیں اور وعدے،مغفرت وبخشش طلب کرنے کے انوکھے طریقوں کی مثالیں شاید ہی کسی جگہ دیکھنے کو میسر ہوں۔ ان تمام روحانی ولولوں ، عبادت وبندگی کی انوکھی مثالوں  اور  خلوص و للہیت سے سرشار سجدہ ریز جبینوں کے سامنے چند مفاد اور موقعہ پرستوں کی حماقتوں اور بیوقوفیوں سے حج کی روحانیت، اسکی عظمتوں اور برکتوں پر ذرا بھی فرق نہیں پڑ سکتا اور نہ ہی چند سلبیات، حج کی جملہ ایجابیات پر کبھی غالب آسکتی ہیں۔

مضمون نگار ، ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، اس سے نیوز 18 اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔

 

ری کمنڈیڈ اسٹوریز