فرانس میں دہشت گردانہ حملے …عالمی میڈیا اورمغربی دنیا

Nov 27, 2015 12:29 AM IST | Updated on: Dec 26, 2017 07:54 PM IST

ویسے تو پوری انسانی تاریخ ظلم وستم کے مختلف گھناؤنے طریقوں سے بھری پڑی ہے، ماضی کی بربریتوں اوردہشتوں کے خونچکاں واقعات سن کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، عہدِ وسطی کے یوروپ میں کلیسا اور آگ کا جوانوکھا کھیل کھیلا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے، ایک طرف ہلاکو اور چنگییزی قتل وغارت گری، تو دوسری طرف رومانیا کے پرنس ولاڈ ڈریکلا کا وحشیانہ قتلِ عام اورفرانس کے نپولین بونا پارٹ کی فوجی درندگی کی کہانیاں خوفناک اور دل دھلانے والی ہیں، لیکن دور ِحاضر میں دہشت کا نام آتے ہی ہمارے ذہن ودماغ پہ ایک الگ طرح کا خاکہ اور نقشہ ابھرتا ہے جس کی مثال ماضی میں ناپید ہے۔ دورِ حاضر میں دہشت نے اپنا رنگ وروپ بدل لیا ہے، اسکا طریقہِ کار اور آلہِ کار بالکل جدا ہوگیا ہے۔

اسی دہشت کا جن ایک بار پھر اپنی بوتل سے باہر ہے، یا یوں کہیے کہ مایکل کرایکتون کے ناول جوراسیک پارک کادیو ہیکل عجیب الخلقت وحشی مخلوق اپنی غار سے باہر آگیا ہے۔ اس بار یوروپی ملک فرانس کا روشنی کا شہر پیرس اس کی زد میں ہے ۔ جمعہ کے روزپیرس میں ہوئے پے درپے کئی دہشت گردانہ حملے نے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔فرانس میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد کئی ممالک نے بھی اپنی سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ اور سیکورٹی سسٹم کو چست درست رکھنے کا فرمان صادر کردیا ہے۔ پوری دنیا پیرس میں ہوئے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے، سوگواراور ماتم زدہ ہے۔ اورآخر کیوں نہ ہو؟ انسانیت جو لہولہان ہوئی ہے، آدمیت کا جوخون بہا ہے۔۱۲۹ لوگ جن کا کوئی قصور نہیں ، جن کا کوئی جرم نہیں ، جو بالکل معصوم اور بے گناہ تھے، انہیں چند لمحوں میں گولیوں سے بھون دیا گیا ، جنہیں دھماکہ خیز مادوں سے چشمِ زدن میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔انسانیت کے ناطے انکے ساتھ اظہارِ یکجہتی وہمدردی ہمارا ایک فرض ہے ۔اور اسی لیے آج دنیا کا پورا ذرائعِ ابلاغ فرانس میں ہوئے وحشیانہ حملے پہ مذمتی مضامین اور کوریج سے پٹا پڑا ہے۔ فیس بک نے تو فرانس کا سہ رنگی پرچم ہی اوڑھ لیا ہے، اور تقریباً پچاس فیصد لوگوں نے اپنے پروفائل فوٹو پہ اظہارِ یکجہتی کے لیے فرانسیسی پرچم چڑھا لیا ہے۔

اگر یاد ہو تو رواں سال کے جنوری مہینے میں بھی اسی قسم کی سفاکیت کا اس وقت مظاہرہ ہوا تھا جب چند بندوق برداروں نےفرانس کے ہفت روزہ جریدے چارلی ہیبڈو کی آفس میں گھس کر تقریباً پورے اسٹاف کو گولیوں سے بھون کے رکھ دیا تھا ، اور ببانگِ دہل یہ نعرہ لگاتے ہوئے آفس کی بلڈنگ سے نکل گئے تھے کہ"ہم نے گستاخیِ رسول کا انتقام لے لیا"۔اس وقت بھی پوری دنیا سراپا احتجاج بن گئی تھی ، چالیس ممالک کے سربراہان اظہارِ یکجہتی کے لیے فرانس جاکر ۳۰ لاکھ سے زائد افراد پہ مشتمل تاریخی یونیٹی مارچ کا حصہ بنے تھے۔ اس میں فلسطینی صدر محمود عباس، مالی کے صدر ابراہیم بابوچر کیتا ، اردن کےباد شاہ عبدللہ اور ان کی اہلیہ رانیہ بھی شامل تھیں۔اسی موقعے پہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے بہت جذباتی ہو کے کہا تھا کہ"آج پیرس دنیا کے دارالحکومت کا نقشہ پیش کر رہا ہے"لیکن افسوس آزادیِ رائےکاحوالہ دےکراسی اخبار کے بچے کچھے لوگوں نے اپنےاگلے ہی شمارہ میں ایک بار پھر مسلمانوں کے پیشوا اور پیغمبر"محمد ﷺ" کا توہین آمیز کارٹون شائع کر کے ساری اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کا مخول بنایا تھا، ٹھٹھا اور مذاق اڑایا تھا۔

یہں پہ آزادیِ رائے کی علمبرداری کے دعویدار اسی اخبار کا وہ منافقانہ رویہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ موریس سائن جو فرانس کے ایک مشہورومعروف سیاسی کارٹونسٹ ہیں اور چارلی ہیبڈو میں۱۹۸۱سے کالم نگار کے طور پہ مستقل لکھتے رہے ہیں ، ۲۰۰۸ میں اپنےایک مضمون میں سابق فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی کے بیٹے جان سارکوزی کا ایک یہودی لڑکی کےساتھ پروان چڑھ رہے معاشقے پہ مزاحیہ کالم لکھتے ہوئے جب یہودیت پہ طنز اور کٹاکش کیا تھا تو فرانس میں موجود یہودی لابی کے سارے جرنلسٹ آگ بگولا ہو گئے تھے ، یہاں تک کی چارلی ہیبڈو کے ایڈیٹر فلپ وال نے موریس سے کہا تھا کہ" معافی مانگو ورنہ یہاں سے دفع ہوجاؤ" ، موریس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "میں اپنا خصی کرانا پسند کروں گا بجائے اس کے کہ معافی مانگوں"۔ اس کے بعد موریس چارلی ہیبڈو سے برطرف کردیا گیا اور اور اس پہ نسلی منافرت اور مذہبی تعصب بھڑکانے کا مقدمہ دائر کردیا گیا۔ لیکن ۲۰۰۹ میں لیون کی کورٹ نے موریس کو باعزت بری قرار دیا اور ۲۰۱۰ میں پیرس کی ہائی کورٹ نے اخبار کے ذمہ داروں کی سخت سرزنش کی اور ان پہ موریس کو ۴۰ہزار یورو دینے کا ہرجانہ بھی لگا دیا۔ ۲۰۱۲ میں اخبار نے ایک بار پھر موریس کے خلاف وہی مقدمہ شروع کیا ، لیکن اس بار بھی اسے منھ کی کھانی پڑی ، کورٹ نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ہرجانے کی قیمت ۹۰ ہزار کردی۔

فرانس میں کہنے کوتو ایک سیکولر حکومت ہے جہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے، اور آزادی ، مساوات، اور بھائی چارہ وہاں کا ایک قومی سلوگن اور نعرہ ہے۔ لیکن وہاں رومن کیتھولک سے وابستہ عیسائیوں کی حکومت ہے، مسلمان اور یہودی یہاں اقلیت میں ہیں ۔ مسلمانوں کی تعداد۶۰ لاکھ سے زائد ہے جبکہ یہودی صرف ۶ لاکھ ہیں۔ آزادیِ رائے کے علمبردار ملک فرانس میں اگر موریس جیسا کوئی کارٹونسٹ یہودیت پہ مزاحیہ طنز کرتا ہے تو وہاں کے پڑھے لکھے طبقہ کو چھہ لاکھ فرانس کےیہودی باشندوں کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور موریس پہ یہودیوں کے مذہبی جذبات بھڑکانےاورنسلی منافرت پھیلانےکا الزام عائد کیا جاتا ہے، اسے نہ صرف نوکری سے برطرف کردیا جاتا ہے بلکہ کئی سالوں تک کورٹ اور کچہری میں مقدمےکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اسی ملک کا ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو اپنے ۶۰ لاکھ  فرانسیسی مسلم باشندوں کے پیشوا اور پیغمبر کا توہین آمیز کارٹون ایک بار نہیں، بار بار شائع کرتا ہے تب کسی فرانسیسی کو مسلمانوں سے کوئی ہمدردی پیدا نہیں ہوتی ، تب کوئی فرانسیسی یہ کیوں نہیں کہتا کہ اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کوٹھیس پہونچتی ہے؟ تب کوئی کیوں نہیں کہتا کہ اس سے فرانس جیسے ملک میں مذہبی اور نسلی منافرت پھیلے گی؟ کورٹ اور کچہری کی کارروائی ایسے گستاخانہ اور نازیبا حرکتوں کے خلاف کیوں نہیں ہوتی؟ صرف یہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے لیے حجاب کی پابندی ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے اور اسکولز اور کالجز میں اسکارف باندھنا مسلم لڑکیوں کے لیے ممنوع ہے۔ یہ کیسی مذہبی آزادی ہے ؟ یہ کیسا بھائی چارہ ہے؟ یہ تو ایک صریح جانبدارانہ رویہ ہے، یہ تو سماج کے ایک طبقے کے خلاف کھلا نسلی اور مذہبی تعصب ہے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود بھی پیرس میں ہوا دہشت گردانہ حملہ کسی صورت بھی صحیح اور جائز نہیں گردانا جا سکتا ، وہ ایک وحشیانہ عمل ہے ، غیر انسانی فعل ہے، لیکن حالیہ واقعے کے بعد فرانس میں ملکی سطح پہ چھاپے ماری کی جو کارروائیاں مسلم گھروں میں ہو رہی ہی،مسلم نوجوانوں کی جوگرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں اور جس سے وہاں کا مسلمان خوف وہراس میں ہے ، اسے بھی کسی صورت صحیح اور جائز نہیں گردانا جا سکتا۔ فرانسوا اولاند نے "ریڈیکل مساجد" کو بند کرنے کی بات کی ہے، لیکن یہ کیسے طے ہوگا کہ کونسی مساجد "ریڈیکل" ہیں اور کونسی "نان ریڈیکل"۔کچھ اسی طرح کی کارروائی جنوری کے حملے کے بعد بھی عمل میں لائی گئی تھی کہ جب مساجد کو خاص نشانہ بنایا گیا تھا ، ان پہ دستی گولوں سے متعدد حملے کیے گئے تھے۔ کیا اس طرح کا عمل فرانسیسی سماج کو بٹوارے کی راہ پہ لا کے کھڑا نہیں کرتا،؟سماج میں مذہبی اور نسلی بے چینی کو جنم نہیں دیتا؟ ۶۰ لاکھ سے زائد مسلمان جو پہلے سے ہی ملک کی مرکزی دھارے سے الگ تھلگ ہیں اور پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،کیا اس طرح کی جانبدارانہ اور یکطرفہ حکومتی کارروائیاں وہاں کے مسلم سماج کو اور زیادہ الگ تھلگ اور پسماندہ نہیں کر دیں گی؟

پیرس میں دہشت گردانہ حملہ ہو یا کسی اور جگہ ، حملے کے فوراً بعد ذرائعِ ابلاغ سے جس قسم کی اطلاعات دستیاب ہوتی ہیں ، جس قسم کا ایک بنا بنایا پیٹرن سامنے آتا ہے وہ یقیناً حیران کن اور تعجب خیز ہے۔ حملہ ہوئے ابھی چند منٹ بھی نہیں گزرتا ہے کہ کسی دہشت گرد تنظیم کا قبول نامہ کسی ویڈیو کی شکل میں الکٹرانک اور سوشل میڈیا پہ وائرل ہو جاتا ہے ، اس ویڈیو کی تصدیق کی کوئی جانچ یا اسکی صحت کی پرکھ کے لیے کوئی نظام یا کوئی طریقہِ کار اپنائے بغیر سب کچھ سچ اور حق مان کے ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ آٹومیٹک طریقہ سے ہوتا ہے ، سارا عمل زندہ انسان نہیں بلکہ کچھ روبوٹ مشینیں پہلے سے فیڈ کی گئی ٹائمنگ کے مطابق عمل کرتی ہیں ۔ یہ ذمہ داری کیسے اور کون قبول کرتا ہے؟ اور ذرائعِ ابلاغ پہ اس کی قبولیت کے پیغام کی ساری تفصیل بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سےچند منٹ میں کیسے پہونچ جاتی ہے؟ اس طرح کےبنے بنائے ہتھکنڈے اور پروپیگنڈے کے طریقے پہ سوال کھڑا کرنا اور ان پہ شک ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ ان سب کے پیچھے جو اسلام دشمن عناصر کار فرما ہیں ان تک رسائی ممکن ہو سکے اور ان کا پردہ فاش کیا جا سکے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سب میں ان طاقتور قوموں کا ہاتھ ہو جنہوں نے ماضی میں دہشت جیسے خوفناک عفریت کو جنم دیا ہے۔ صلیبی جنگوں میں چار ملین انسانوں کو تہِ تیغ کس نے کیا ؟ دنیا پہ سامراجیت کے نشّے میں پانچ ملین سے زیادہ کمزور اور بے بس لوگوں کا قتل کس نے کیا؟ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں سات ملین سے زیادہ انسانوں کو صفحہِ ہستی سے مٹانے والے لوگ کون تھے؟ چھ ملین یہودیوں کے قاتل کون ہیں؟ جاپان کے ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسے شہروں پہ موت کا ٹانڈو اور کہرام کس نے برپا کیا؟ کس کی جابرانہ اور بربریت پہ مبنی محصول کی پالیسیوں نے بنگال ، بہار اور اڑیسہ میں خشک سالی اور بھکمری جیسے حالات پیدا کیے اور ۱۰ ملین لوگ جس کی بھینٹ چڑھ گئے؟ ویتنام، افغانستان اور عراق میں ۱۰ ملین سے زیادہ لوگوں کو اپنی چودھراہٹ اور طاقت کے نشّے میں کون نگل گیا؟ یہ سب کے سب مغربی دنیا کی بیمار ذہنیت کا نتیجہ ہے، اسکے جارحانہ رویے کا پروردہ ہے۔ آج کل عراق، افغانستان اور پاکستان میں دہشت کی جو وبا پھیلی ہوئی ہے اور دہشت کی جو فیکٹریاں وہاں قائم ہیں وہ سب امریکا ہی کی کارستانیاں ہیں ۔

سابق امریکی صدر جیمی کارٹر نے۲۰۱۳ میں دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا "میرا خیال ہے کہ ویتنام جنگ ایک غیر ضروری جنگ تھی ، اسی طرح عراق پہ حملہ بھی ایک غیر ضروری حملہ تھا، اب ہمیں کسی بھی جنگ میں جانے سے احتیاط برتنی ہوگی"۔ جدید طرز کے ہتھیار اور ہر جنگجو کوکئی سو ڈالروں کی ماہوار ، نیز اس خطے میں مسلسل دہشت کا بازار گرم رکھنے کے لیے سرمایے کی مکمل فراہمی کوئی دوسرا نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ سب بھی مغربی دنیا کی مرہونِ منت ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ترکی میں ہوئے حالیہ جی ۲۰ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ "داعش اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کرنے والے اسی جی ۲۰ کانفرنس میں موجود ہیں۔ "داعش ہو یا طالبان یا کوئی اور دہشت گرد تنظیم دہشت اور جنگی شطرنج کی بساط پہ ایک پیادے اور مہرے سے زیادہ ان کی حیثیت کچھ نہیں، اس پورے تام جھام اور کھیل کے اصل کھلاڑی کہیں دور مغرب کی ترقی یافتہ ملکوں کی پرشکوہ محلوں میں چین وسکون کی زندگی بسر کررہے ہیں اور آسائشِ دنیا سے لطف اندوز ہورہے ہیں، لیکن چند ٹکوں میں بکے ہوئے دہشت کے ان پیادوں اور مہروں کو اتنی ٖفرصت کہاں جو ان سب پہ سوچیں اور ان غیر انسانی اور وحشیانہ حرکتوں سے باز آ ئیں۔

اس وقت پوری دنیا میں فرانس کے حملے کو لے کر جس قسم کی ہائے توبہ مچی ہوئی ہے، اسے جس قسم کی میڈیا کوریج اور توجہ مل رہی ہے ،آخرمیڈیا کی یہ توجہ اس وقت کہاں تھی جب برما میں بدھشٹوں کےہاتھوں جدید دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ہولوکاسٹ ہو رہا تھا، انہیں زندہ جلایا جا رہا تھا؟ آخر میڈیا کی یہ کوریج اس وقت کہاں چلی گئی تھی جب اسرائیلی جنگی جہاز غزہ میں فلسطینیوں کے آباد خانوں کو تہس نہس کر رہے تھے، انہیں کھنڈر اور خرابے میں تبدیل کر رہے تھے؟ اسرائیلی دہشت گردی فلسطین کے ہزاروں ننھے اور معصوم بچوں کو نگل گئی تب میڈیا کا یہ واویلا کہاں تھا؟ آئے دن اسرائیل فلسطینیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا رہتا ہے ، حقوقِ انسانی کی پامالی اسکا شیوہ اور وطیرہ بن چکا ہے، لیکن کیا مجال کہ کوئی اس پہ لب کشائی کر دے، اسرائیلی جارحیت کی مذمت میں کوئی آواز بلند کر سکے۔ امریکا کی دہشت گردی نے افغانستان کو آج تک حالتِ جنگ میں مصروف رکھا ہے، عراق میں دہشت اور وہاں کے سماج میں فرقہ وارانہ بٹوارے کی جو بیج امریکا نے بوئی تھی اسکی فصل آج تک کاٹی جا رہی ہے۔ لیکن کیا مجال کہ میڈیا امریکا کے ان کالے کرتوتوں کی مذمت کرسکے، دنیا اس کے خلاف بھی کوئی تاریخی یونیٹی مارچ نکال سکے تاکہ پھر کبھی دوبارہ امریکا اس طرح کا اقدام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔لیکن ایسا کرنے کی کسی میں اتنی جرأت اورہمت نہیں ، وجہ صرف یہ ہے کہ دنیا کئی خانوں میں تقسیم ہے ، خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا ، بدحال ا اور پسماندہ دنیا۔ جب خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا میں کبھی کوئی انہونی ہوتی ہے، کبھی کسی طرح کی کوئی تکلیف پیش آتی ہے ، کبھی کوئی ظلم وزیادتی ہوتی ہے تو پوری دنیا درد وتکلیف سے کراہنے لگتی ہے، تمام ذرائعِ ابلاغ شور اور واویلا مچانے لگتے ہیں۔ لیکن بدحال اور پسماندہ دنیا میں ہر روز انہونی ہوتی ہے ، ہر روز ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ، لیکن یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اس پہ نہ تو کوئی ہائے توبہ مچتی ہے ، اور نہ ہی عالمی میڈیا پہ کوئی شور سنائی دیتا ہے۔

فرانس میں ہوئے حملے کے بعد نیوتن کی تھیوری عمل کا ردِ عمل پہ کارروائی شروع ہوگئی ہے ، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ فرانس اب حالتِ جنگ میں ہے ، ہم اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک داعش کا وجود ختم نہیں کر دیتے۔ روسی صدر پوتن نے کہا کہ ہم داعش کے ایک ایک فرد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے ماریں گے، اوبامہ نے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کو سنبھال کے رکھیں۔ ان جنگ کے چگادریوں سے میرا سوال ہے کہ کیا اس دنیا کے کسی دور میں بھی جنگ امن قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے؟ اگر ان کا جواب ہاں ہے تو میں پھر سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا افغانستان میں امریکا جنگ کے ذریعہ امن قائم کرنے میں کامیاب رہا؟ کیا عراق میں اس کی جنگی کارروائیاں عراقیوں کو امن وشانتی کی زندگی فراہم کرسکیں ؟ اور ان دونوں ملکوں میں اس نے جو حکومتیں قائم کی تھیں کیا ان کو امن واستحکام نصیب ہوا؟ جنگ کبھی بھی امن کا ضامن نہیں رہی ہے ، وہ تو ہمیشہ سے ہی مزید آفتوں ،شر پسندیوں اور عدمِ استحکام کا سبب بنتی رہی ہے۔ دہشت کے خاتمے کے لیے کئی ساری جنگیں لڑی گئیں لیکن اسکا کوئی بھی خاطر خواہ نتیجہ ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہوا۔ دہشت گردی کا جن اگر ایک بنے بنائے پیٹرن اور طریقے سے قابو میں نہیں آتا تو اسے رام کرنے کے لیے اور بوتل میں بند کرنے کے لیے کچھ دیگر منتروں کا سہارا لیا جانا چاہیے۔دہشت گردوں سے قوت آزمائی ہی ایک واحد حل نہیں ہے۔آج سب پہ یہ بات آشکار ہو چکی ہے کہ قوت آزمائی ماضی میں ان کی بساط لپیٹنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، لہذا اس کے خاتمے کے لیےکچھ نئی تدبیریں اور نئی حکمتِ عملیاں بروئےکار لانی چاہیں۔

نوٹ : مضمون میں درج آرا مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ، نیوز 18 اردو کا ان سے اتفاق ضروری نہیں۔ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز