راہل گاندھی کا نیا اوتار ، کہیں یہ پرشانت کشور کا کرشمہ تو نہیں ؟

Mar 02, 2016 06:32 PM IST | Updated on: Mar 02, 2016 06:33 PM IST

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کو شروع ہوئے ایک ہفتہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، مگر اب تک راہل گاندھی خاموش رہے اور کچھ بھی بولتے ہوئے نظر نہیں آئے ، مگر بدھ کو صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران وہ جس اوتار میں نظر آئے ، اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب ان کی شخصیت میں بھی رفتہ رفتہ نمایاں تبدیلی آرہی ہے۔

شاید آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال کئی ماہ کی چھٹیاں گزارنے کے جب راہل گاندھی وطن واپس لوٹے تھے اور پھر جس انداز میں پارلیمنٹ میں نظر آئے تھے ،اس نےایک طرح سے کانگریس میں نئی روح پھونک دی تھی۔ ا س مرتبہ بھی پارلیمنٹ میں کم و بیش ان کا وہی انداز نظر آیا ۔تاہم یہ دیکھنے والا ہوگا کہ راہل کے اس نئے اوتار سے کارکنوں میں کتنا جوش بھرتا ہے اور سال رواں اور اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اس کا کتنا فائدہ ملتا ہے۔

راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں جہاں مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ، وہیں وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی لگاتار نئے لب و لہجہ میں کئی تیکھے حملے کئے ۔ راہل نے کئی ایسی باتیں کہیں ، جو شاید ہی کوئی سیاستداں کہتا ہو۔ راہل نے کہا کہ آپ لوگ سب کچھ جانتے ہیں ، مجھے سب معلوم نہیں ۔ آپ لوگ کبھی غلطی بھی نہیں کرتے ہیں ، مگر ہم کرتے ہیں۔ مگر ہم عوام کے سامنے جاتے ہیں اور ان سےجانتے ہیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں جو غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور آپ وہ ہیں جو غلطیاں کرتے ہی نہیں ہیں۔

راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی نریگا کے سہارا ساورکر پر بھی تبصرہ کیا ۔ راہل نے کہا کہ یہ ساورکر منصوبہ نہیں ہے بلکہ مہاتما گاندھی اسکیم ہے۔ وہ یہی نہیں رکے بلکہ انہوں نے مزید کہا کہ گاندھی جی ہمارے ہیں اور ساورکر آپ کے ہیں ۔ ساورکر کا نام آنے کے بعد جب ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تو راہل نے نیا انداز اختیار کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا آپ نے ساورکر کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے ، اگر نکال کر پھینک دیاہے تو اچھا ہے۔

راہل گاندھی پارلیمنٹ میں جس انداز میں بولتے ہوئے نظر آئے اس سے ایک مرتبہ پھر ایسی امید پیدا ہوگئی ہے کہ کانگریس کے کارکنوں میں نئی روح پڑجائے گی ۔خواہ راہل کا کالادھن کیلئے جیٹلی کے ذریعہ مہلت دئے جانے کو فیئر اینڈ لولی اسکیم کہنا ہو یا پھر میک انڈیا کو ببر شیر بتانا ہو ، وزیر اعظم مودی کو انتہائی طاقتور اور باس کہنا ہو یا نواز سے ملاقات کو چائے پر چرچا کا نام دینا ہو ، ان کا طرز انداز اس بات کی صاف عکاسی کررہا تھا کہ اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ راہل گاندھی کی تقریر کو غور سے دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ انہوں نے کافی اچھا ہوم ورک کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ طرز تکلم پر بھی کافی دھیان دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ لوک سبھا میں پی ایم مودی کی نیا پار لگانے والے اور بہار اسمبلی انتخابات میں نتیش کو واضح کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے پرشانت کشور سے بھی آج ہی راہل گاندھی نے ملاقات کی ۔ بتایا جارہا ہے کہ پرشانت اب یوپی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی غرقاب کشتی کو باہر نکالنے کی کوشش کریں گے ، تاہم یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پرشانت کتنے کامیاب ہوتے ہیں ، مگر آج راہل سے ملاقات اور پھر پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کا نیا اوتار اپنے آپ میں بہت کچھ بتارہا ہے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز