خوش آمدید رمضان المبارک !۔

Jun 06, 2016 11:31 PM IST | Updated on: Jun 06, 2016 11:31 PM IST

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہزاروں برکتوں اور سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہم پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ انوار وتجلیات کے ساتھ اب ایمان وعمل کی بہار آ چکی ہے۔ ہمیں رمضان کی سعادتوں سے فیضیاب ہونے کا سنہرا موقع میسر ہو گیا ہے۔ ویسے تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے ماہ شعبان کے شروع ہوتے ہی رمضان کے استقبال کی تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں اور وہ اپنے اپنے معمولات زندگی کو اسی نہج پر ڈھالنے کی مشق بھی کرنے لگے تھے۔ اب یہ ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار لے کر ہماری زندگی میں ایک بار پھر داخل ہو چکا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقدس مہینہ کے فیوض وبرکات سے ہم بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اب تک جو کوتاہیاں اور لغزشیں ہم سے سرزد ہوتی رہیں، ان سے بہر صورت اجتناب کریں۔

اس مبارک مہینہ کا احترام اور خصوصی عبادات ہر بالغ وعاقل مسلمان پر فرض ہے۔ اس ماہ مبارک میں اسلامی زندگی کی عملی طور پر مشق کرائی جاتی ہے۔ یہ مہینہ صبر و استقامت، غمخواری، ایثار اور اخوت وبھائی چارگی جیسے انسانی جذبات کو مسلمانوں میں ابھارتا ہے۔ اس مہینہ میں دن اور رات کی ہر گھڑی زیادہ سے زیادہ عبادات کرنے اور ثواب حاصل کرنے کی ہوتی ہے۔  اس کی قدردانی بےحد ضروری ہے۔ توقع ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس مہینہ کا بھرپور پاس ولحاظ رکھا جائے گا بلکہ اس مقدس مہینہ کی رحمتوں اور برکتوں سے حتی المقدور فیضیاب ہونے کا جذبہ بھی مسلسل برقرار رہے گا۔

رمضان المبارک بھلائیوں، برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ حق و باطل میں فرق کرنے اور ریان کے دروزاے تک پہنچانے والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ مسجدوں کو روشن کرنے، خصوصی عبادات کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ انہیں آباد کرنے، ذکر واذکار کرنے اور نیکیوں کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ توبہ کرنے، رجوع کرنے اور اطاعت وفرمانبرداری کرنے کا ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو سنگ دلی، عیش پرستی، انانیت اور سختی کے رجحان کو ختم کرتا ہے۔ رمضان کے روزے تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ پورا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ ہمیں اس مہینہ کے ساتھ ساتھ دیگر مہینوں میں بھی نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔

تاہم اسی کے ساتھ ساتھ  اس ماہ مبارک میں ہمیں سماجی اور معاشرتی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں اس ماہ مقدس کی راتوں میں کھانے پینے اور خرید وفروخت کی زبردست دھوم ہوتی ہے۔ بالخصوص نوجوان حضرات پوری پوری رات گلی محلوں اور چوراہوں پر تفریح کرتے اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے گزار دیتے ہیں۔ دیر رات تک شاپنگ کرنے اور سیر سپاٹے کرنے میں ان کی راتیں گزر جاتی ہیں۔ ہمیں ایسے نوجوانوں کو تلقین کرنا ہوگی اس مقدس مہینہ کا پاس ولحاظ کرنے کی، مہم چلانا ہو گی ان کی ان حرکتوں سے باز رکھنے کی، سماج کے بااثرلوگوں کو آگے آنا ہو گا، ان غلط رجحانات کے خلاف انہیں مخلصانہ کوششیں کرنی ہوں گی، نوجوانوں میں پائی جانے والی برائیوں کو تدبر ودانش مندی کے ساتھ روکنا ہو گا۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تبھی ہم رمضان کی سعادتوں سے کماحقہ فیض یاب ہو پائیں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ہر عمل سے دوسروں کو اسلام کا صحیح پیغام پہنچائیں۔ ہمارا ہر عمل دوسروں کے لئے صحیح راستہ دکھانے والا ہو۔ ہم ہرگز ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے اسلام پر حرف آئے، جس سے اس کی شبیہ متاثر ہو اور جس سے اسلام اور مسلمانوں پر دشمنان اسلام کو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جائے۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز