یہ لڑائی حق و باطل کی نہیں ہے ہر گز

Nov 20, 2015 03:01 PM IST | Updated on: Dec 26, 2017 07:55 PM IST

’’میں مسلمان ہوں ، مجھے دہشت گرد کہا جاتا ہے،لیکن میں آپ پر اعتبار کرتا ہوں، اگر آپ بھی مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں تو مجھے گلے لگا لیں‘‘ کچھ اس قسم کی عبارت کے ساتھ ایک پیرس نشیں نوجوان نے پچھلے دنوں اُس غم کو غلط کرنے کی انفرادی کوشش کی جس نے اس مرتبہ ان لوگوں کو بھی بہ انداز دیگر سوچنے پر مجبور کردیا ہے جو اب تک کسی اتفاقی واقعے اور ناگہانی سانحے کو مصلحت خداوندی مان کر غور وفکر کے تمام تقاضوں سے دستبردارہوجاتے تھے ۔ حالانکہ واقعات اور سانحات پر غور کی توفیق عطا کرنے میں فطرت نے اُن کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی۔

ایسا نہیں کہ مصلحت خداوندی پر انحصار کرنے والے اپنے طور پر کچھ نہیں سوچتے ۔ہر واقعہ کو اپنے طور دیکھنا ، پڑھنا اور نتیجہ نکالنابھی غور و فکر سے ہی تعلق رکھتا ہے لیکن یہ کوشش کبھی حسب خواہ نتیجے تک نہیں پہنچاتی بلکہ اس فکر کے علم برداروں کے پیروکاروں کو ایک ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں وہ نامساعدات کو مقدر مان لیتے ہیں۔ملت اسلامیہ کم وبیش اسی صورتحال کے انتہائی افسوس ناک مرحلے سے گزر رہی ہے۔بہر حال اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ باقی دنیا حق پر ہے۔

دراصل یہ حق و باطل کی لڑائی ہے ہی نہیں۔یہ لڑائی ہے خالصتاً دنیاوی ہے جس کا راست تعلق نظریاتی تسلط سے ہے۔ اس میں ایک طرف ارتقا پذیر عالمی سیاسی تقاضوں سے بہرہ ور وہ مذہبی اقوام ہیں جو اپنی مذہبی شناخت کو( اوڑھنا بچھونا بنائے بغیر) قائم رکھتے ہوئے اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ دوسری طرف مذہب میں اس قدر پناہ ڈھونڈنے والے لوگ ہیں کہ انہیں یہ سمجھانا مشکل ہے کہ سورج کی روشنی کی حفاظت کے لئے ضروری نہیں کہ رات کے وجود سے دشمنی مول لی جائے۔رات کی تاریکی مٹانے کی اندھا دھنداوربے ہنگم کوشش کے تباہ کن نتائج بھی اُس روشنی میں ہی سامنے آتے ہیں جو تاریکی مٹانے کے لئے از خود کوئی خون خرابہ نہیں کرتی۔

ہر چند کہ دہشت گردی ، دہشتگردی کے اسباب جاننے کی کوششیں ،اس عفریت سے نجات کے نام پر کئے جانے والے اقدامات اور ان تینوں ہی محاذ پر مسائل کیش کرنے والے عناصر کی موجودگی نے گذشتہ کئی دہائیوں سے عام انسانی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک سے زیادہ ناموں سے منسوب اس تباہی کی شدت اس یقین کو بھی تقویت پہنچاتی ہے کہ ظلم جب حد سے گزرتا تو مٹ جاتا ہے۔ویسے بھی اس معرکے میں اپنے کو حق پر اور دوسرے کو باطل قوت سمجھنے والے دونوں ہی متحارب حلقوں کا خسارہ اب تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔ ایک طرف جہاں مغرب کی سائنسی ترقی کے انسانی بہبود سے متصادم پہلو پر سوالیہ نشان لگنے لگاہے وہیں دوسری طرف مذہبی چیرہ دستی کے خلاف بیزاری اب الحاد کے بجائے عقلیت پسندی کا دائرہ وسیع کر رہی ہے۔کہا نہیں جا سکتا کہ ابھی یہ خسارہ آنے والے دنوں میں اور کتنا بڑھے گا! ابھی کتنی زندگیوں کے چراغ اور گل ہوں گے !لیکن اتنا طے ہے کہ دونوں طرف کی تھکن ایک دن جس موڑ کو منزل مان لے گی وہ موڑ عصری تباہی سے نجات کی منزل ہو گی۔

توہم پرستی اور شعوری بیداری کی لڑائی انسانی زندگی میں تہذیب کے عمل دخل کے پہلے دن سے ہی شروع ہوگئی تھی۔خوف کا کاروباروحشی درندوں نے نہیں انسانوں نے شروع کیا جسے اب دہشت گردی کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں ہمارے سامنے دستاویزی طور پربھی موجود ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف 9/11 سانحے کے بعد شروع ہونے والی جاری جنگ اور اُس سے دہائیوں پہلے سے دنیا کو یک رنگ بنانے کی انتہا پسندانہ کوششیں ان لوگوں کوبھی چین سے نہیں جینے دیں گی جو بظاہر تو لبرل سوچ رکھنے یعنی روشن خیال ہونے کے دعویدار ہیں لیکن محدود نظریات کو بدلنے کی حکمت پر مبنی تدابیر وضع کرنے کے بجائے ان طاقتوں نے شدت پسند نظریات کی آتشیں بیخ کنی کا ایک ایسا طریقہ اختیار کررکھا ہے جو دنیا کو غیر محفوظ سے غیر محفوظ ترین بناتا جا رہا ہے۔

ایک سے زیادہ انسانی بحرانوں کی تاریخ میں شامی باب کا اضافہ ایک ایسا بحران ہے جس نے رجائیت پسند حلقوں کو بھی بہ انداز دیگر سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی نے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر دس منٹ پر ایک بچہ ایسا پیدا ہورہا ہے جو شہریت سے محروم اور بے وطنی کا شکار ہے۔انسانی ترقی کی آخر یہ کون سی منزل ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنے انسان ہونے کی سب سے پہلی پہچان سے محروم ہونے لگا ہے ۔ ہم سب ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی اوریہودی ہونے سے پہلے انسان ہیں اور دنیا کے کسی بھی مذہب، ازم یا فلسفے سے پہلے انسانوں نے جس تہذیب کو گلے لگا کر اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل کیا تھا وہ تہذیب بھائی چارے کی تہذیب تھی۔

یہ متصادم صورت انسانی تہذیب کے آغاز سے چلی آرہی ہے ۔ جس میں جب جہاں جس کا پلہ بھاری پڑتا ہے وہ دوسرے کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ ان دنوں وطن عزیز میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔صورتحال آنے والے دنوں میں اورکتنی شدت اختیار کرے گی اس کا بہت کچھ انحصار ان لوگوں کے ردعمل پر ہے جن کی سوچ اور نظریات ان دنوں زد پر ہیں ۔ اگر وہ تدبیر سے کام لیتے ہیں تو سماج کا نقصان کم ہوگا بصورت دیگر ٹکراو کسی کو منزل آشنا نہیں کر پائے گی کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک انسانی سوچ سب کے لئے سیل رواں بن جائے،خواہ اسے آفاقی ہی کیوں نہ قرار دیا جائے۔

نوٹ : مضمون نگار ایک معروف  صحافی  اور نیوز ایجنسی یو این آئی ، اردو کے انچارج ہیں۔ 

 نوٹ : مضمون میں درج آرا مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ، نیوز 18 اردو کا ان سے اتفاق ضروری نہیں۔ 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز