کٹھوعہ واقعہ کے چالان میں سیاسی بیانات گھسائے گئے ہیں: ملزمان کے وکیل انکور شرما کا الزام

جموں : وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے آٹھ میں سے پانچ ملزمان کے وکیل انکور شرما نے الزام لگایا ہے کہ کرائم برانچ پولیس کی طرف سے عدالت میں ۔

Apr 20, 2018 02:42 PM IST | Updated on: Apr 20, 2018 02:42 PM IST
کٹھوعہ واقعہ کے چالان میں سیاسی بیانات گھسائے گئے ہیں: ملزمان کے وکیل انکور شرما کا الزام

علامت تصویر

جموں : وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے آٹھ میں سے پانچ ملزمان کے وکیل انکور شرما نے الزام لگایا ہے کہ کرائم برانچ پولیس کی طرف سے عدالت میں پیش کئے گئے چالان میں سیاسی بیانات گھسائے گئے ہیں۔

انہوں نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ جموں میں ڈیموگرافی کی تبدیلی کے خلاف مقامی لوگوں کے اندر ناراضگی پیدا ہورہی تھی اور اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے آٹھ سالہ کمسن بچی کو مہرہ بنایا گیا ہے۔ انکور شرما نے مطالبہ کیا کہ کٹھوعہ واقعہ کی انکوائری نہ صرف سی بی آئی بلکہ این آئی اے اور ای ڈی سے کرائی جائے کیونکہ بقول ان کے اس کیس کے نام پر حوالہ چینلز کے ذریعے بھاری رقومات جموں پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔

ملزمان کے وکیل کے مطابق جموں کی ہندو اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کے لئے مختلف اسلامی تنظیمیں جموں میں ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں زمین خریدنے کے لئے پیسے دیتی ہیں۔ ان کا اشارہ ظاہری طور پر جموں میں زمین خریدنے والے کشمیریوں کی طرف تھا کہ انکور شرما نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی دو عرضیاں دائر کر رکھی ہیں جن میں انہوں نے جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو شہر بدر کرنے اور جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ملنے والی اقلیتی مراعات کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔

Loading...

انکور شرما نے گذشتہ روز بھی ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرائم برانچ کی تحقیقات کی سربراہی ایک خاتون افسر (ڈپٹی ایس پی شیوتامبری شرما) کررہی تھیں اور اس کیس پر کام کرنا اس کی ذہانت سے باہر تھا۔ انکور شرما نے الزام لگایا کہ کٹھوعہ واقعہ کو لیکر اسلامی تنظیمیں متحرک ہوگئی ہیں۔

انہوں نے ایک نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے کہا ’انڈو امریکن مسلم ایسوسی ایشن نامی ایک گروپ چار دن پہلے یہاں پیسے لیکر آیا ۔ ان کی کوشش کٹھوعہ کے رسانہ (جہاں عصمت دری اور قتل کا واقعہ پیش آیا) میں کچھ لوگوں کو ایک بار پھر پیسے دینے کی تھی۔ کہیں کہیں اسلامی تنظیمیں متحرک ہوگئی ہیں۔ ان کا متحرک ہونا نیشنل سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ اگر پیسے کے دم پر کوئی اپنا ایجنڈا آگے بڑھائے گا ، تو اس سے پیسے دینے والوں گروپوں کا فائدہ ہوگا۔ پیسے لینے والوں میں کچھ دانشور اور قانونی ماہرین بھی ہیں۔ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ این آئی اے کا اینگل کھولا جانا چاہیے۔ ضرورت پڑی تو سی بی آئی ، این آئی اے اور ای ڈی کی مشترکہ ٹیم تشکیل دیکر اس کی تہہ تک تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کے بعد ہی متاثرہ لڑکی کو انصاف ملے گا‘۔

انکور شرما نے الزام لگایا کہ کٹھوعہ واقعہ کے چالان میں سیاسی بیانات گھسائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں نے پہلے ہی اپنی عوامی تقریبات میں کہا ہے کہ یہاں جاری ڈیموگرافی کی تبدیلی ایک سٹیٹ سپانسرڈ عمل ہے۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ایک مخصوص طبقے کو باہر نکالنے کے لئے انجام دیا گیا ہے۔ چالان کہیں نہ کہیں فرقہ وارانہ سوچ پر مبنی ہے۔ اس میں سیاسی بیانات گھسائے گئے ہیں۔ اگر یہ سچ بھی ہے تب بھی ایک پیشہ ور تحقیقاتی ایجنسی ایسے بیانات کو تحقیقاتی رپورٹ میں نہیں ڈال سکتی تھی۔ تحقیقاتی ایجنسی کا ایک سیاست زدہ چالان فائل کرنا کہیں نہ کہیں یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک کو توڑنے والی اور جموں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی منشا رکھنے والی طاقتیں متحرک ہیں‘۔ ملزمان کے وکیل نے کہا کہ جموں میں ڈیموگرافی کی تبدیلی کے خلاف مقامی لوگوں کے اندر ناراضگی پیدا ہورہی تھی اور اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے آٹھ سالہ کمسن بچی کو مہرہ بنایا گیا ۔

نہوں نے کہا ’اس بچی کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کرکے جموں میں پہلے سے ہی ڈیموگرافی کی تبدیل کے خلاف پیدا شدہ ناراضگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مقامی لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ تم اتنے کمزور ہو کہ تمہارے نمائندے بھی آپ کے لئے کھڑے نہیں ہوں گے۔ یہ لوگ اس بچی کو ایک مہرہ بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ اس کو اس کی قبر میں بھی نہیں بخش رہے ہیں۔ جب تک سی بی آئی انکوائری نہیں ہوگی اور حوالہ اینگل کھولا نہیں جاتا ہے، تب تک اس بچی کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا‘۔

انہوں نے کہا ’کشمیر کی جنگجو تنظیمیں، مسلم علیحدگی پسند تنظیمیں گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک ، محبوبہ مفتی اور قومی میڈیا سی بی آئی انکوائری کی مخالفت کررہے ہیں۔ چاروں کے درمیان لنک کیا ہے، یہ ان کو بتانا پڑے گا‘۔ انکور شرما کے مطابق جموں کی ہندو اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کے لئے مختلف اسلامی تنظیمیں جموں میں ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں زمین خریدنے کے لئے پیسے دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا ’آر گنائزیشن آف اسلامک کنٹریزکا مقصد ہے کہ اسلام کو پورے دنیا میں پھیلایا جائے۔ وہ اس کے لئے پیسہ اور دہشت گردی استعمال کرتے ہیں۔ یہ آرگنائزیشن حوالہ چینل کے ذریعے مختلف ممالک میں پیسہ بھیجتی ہے۔

آپ نے جموں میں دیکھا ہوگا کہ مارکیٹ کی قیمت سے زیادہ پیسے پر زمینیں خریدی جارہی ہیں۔ خریدنے والوں (مسلمانوں) کو کچھ تنظیمیں سبسڈی دیتی ہیں۔ یہاں کچھ این جی اوز ہیں۔ آپ ان کے پاس جایئے اور کہئے کہ ہم نے فلاں ہندو اکثریتی علاقہ میں پلاٹ خریدا ہے تو وہ آپ کو زمین کی قیمت کا 40 فیصد پیسہ دیں گے۔ آپ یہاں معلوم کریں کہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر زمین خریدنے والے کس کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں‘۔

Loading...