உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا تھا : کاش ! پاکستان میں بھی واجپئی جیسا کوئی وزیر اعظم ہوتا

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو

    صرف ہندوستان ہی نہیں پاکستان میں بھی کچھ لوگ اٹل بہاری واجپئی کے مداح ہیں ۔

    • Share this:
      صرف ہندوستان ہی نہیں پاکستان میں بھی کچھ لوگ اٹل بہاری واجپئی کے مداح ہیں ۔ ایک مرتبہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسددرانی نے ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے بارے میں کہا تھا کہ کہ پاکستان میں بھی اٹل بہاری واجپئی جیسا کوئی وزیر اعظم ہونا چاہئے ۔
      خفیہ ایجنسیوں اور ان کے کارناموں پر مبنی کتاب "اسپائی کرونیکلس را ، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوزن آف پیس "میں درانی اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ اے ایس دلت کی بات چیت چھپی تھی ۔ اس بات چیت کے دوران آئی ایس آئی کے سابق چیف درانی نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی تعریف میں کافی قصیدے پڑھے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خوشی ہوتی اگر واجپئی جیسا کوئی شخص پاکستان میں وزیر اعظم بنتا ، وہ ہمارے لئے ایک چھے وزیراعظم ثابت ہوتے ۔
      وہیں خارجہ پالیسی کو لے کر وزیر اعظم مودی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا موازنہ بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے شروعات کے دو سال میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو لے کر منموہن سنگھ کے مقابلہ میں زیادہ کام کیا ۔
      دلت نے یہ بھی کہا تھا کہ منموہن سنگھ کا مقصد صحیح تھا ، لیکن انہوں نے اپنے نوکرشاہوں کے ذریعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پل بنانے کی کوشش کی ، وہیں وزیر اعظم مودی کی بات کی جائے تو انہیں سفارت کاروں کے پیغام اور ٹکراو سے پار پانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ۔
      یہاں درانی اور دلت دونوں نے اس بات کو قبول کیا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو پٹری پر لانے کیلئے مودی کے پاس کافی کم وقت بچا ہے۔ درانی نے کہا تھا کہ اگر مودی بعد میں ناکامیوں کو سامنے دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو پھر کوئی انہیں سنجیدگی سے نہیں لے گا۔
      وہیں درانی سے جب وزیر اعظم مودی کے مستقبل کو لے کر پاکستان کی رائے پوچھی گئی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مودی دوبارہ وزیر اعظم بنیں گے۔
      First published: