یورپی یونین اور برطانیہ بریکزٹ کے سلسلے میں نئے سمجھوتے پر رضامند ، جانیں کیا ہے معاہدہ

برطانیہ اوریوروپی یونین (ای یو) کے درمیان مذاکرات کے بعد جمعرات کو دونوں فریقوں کے درمیان بریکزٹ کے سلسلے میں نئے سمجھوتے پر رضامندی ہوگئی ہے۔

Oct 17, 2019 11:40 PM IST | Updated on: Oct 17, 2019 11:40 PM IST
یورپی یونین اور برطانیہ بریکزٹ کے سلسلے میں نئے سمجھوتے پر رضامند ، جانیں کیا ہے معاہدہ

برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن

برطانیہ اوریوروپی یونین (ای یو) کے درمیان مذاکرات کے بعد جمعرات کو دونوں فریقوں کے درمیان بریکزٹ کے سلسلے میں نئے سمجھوتے پر رضامندی ہوگئی ہے۔ یوروپی کمیشن کے صدر جی این کولڈ جنکر نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ جہاں خواہش ہوتی ہے وہاں سمجھوتہ ہوتا ہے۔ ہم ایک ہیں اور یہ سمجھوتہ ای یو اور برطانیہ کے ذریعہ اس کا حل ڈھونڈنے کی عزم کے لئے صحیح اور متوازن ہے۔

اس درمیان یوروپی میڈیا نے بتایا کہ شمالی آئرلینڈ کی اہم پارٹی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) نے کہا ہےکہ وہ اس سمجھوتے کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ اسکوٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی)کے لیڈر اور اسکاٹ لینڈ کے اول وزیر نکولس اسٹارجن نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس نئے بریکزٹ سمجھوتے کے لئے ووٹ نہیں کرے گی جبکہ لیبر پارٹی کے لیڈر جیرمی کوربن نے بھی اس سمجھوتے کے خلاف بات کہی ہے۔

Loading...

اسٹارجن نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ کی نظر سے دیکھیں تو یہ سمجھوتہ ہمیں ای یو سے باہر کرے گا اور یہ سب ہماری خواہش کے برعکس ہے۔ یہ ہمیں برطانیہ کے حصے کے طور پر ہماری رضامندی کےبغیر باہر کردے گا اور مستقبل میں کیسے رشتے ہوں گے اس پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ہماری پارٹی اس کے لئے ووٹ نہیں کرے گی۔

یورپی کمیشن کے اہم بریکزٹ مذاکرات کار مشین بارنیر نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سمجھوتے کو حمایت حاصل ہوگی اور اس کو 31 اکتوبر تک منظور کرلیا جائے گا۔  واضح رہے کہ اس نئے معاہدے سے برطانیہ کی پارلیمنٹ سے بھی منظوری حاصل کرنا ہوگی اور یہاں کی دو اہم اپوزیشن پارٹیاں لیبر اور ایس این پی نے ابھی یہ اشارے دے دیئے ہیں کہ وہ اس معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں نئے معاہدے پر سنیچر کو ووٹنگ کے امکانات ہیں۔

Loading...