فیس بک پر بیف پارٹی کی خواہش کا اظہار کرنا بھی پڑا مہنگا ، کالج نے لیکچرار کو دکھایا باہر کا راستہ

گرلس گریجویٹ کالج نے ایک لیکچرار کو محض اس لئے باہر کا راستہ دکھادیا کہ اس نے فیس بک پر بیف پارٹی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

Aug 13, 2017 04:44 PM IST | Updated on: Aug 13, 2017 04:44 PM IST
فیس بک پر بیف پارٹی کی خواہش کا اظہار کرنا بھی پڑا مہنگا ، کالج نے لیکچرار کو دکھایا باہر کا راستہ

demo pic

جمشید پور : شہر کے ایک گرلس گریجویٹ کالج نے ایک لیکچرار کو محض اس لئے باہر کا راستہ دکھادیا کہ اس نے فیس بک پر بیف پارٹی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ٹائمس نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق لیکچرار نے مئی میں اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ دوستوں کے لئے بیف پارٹی منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ کالج انتظامیہ نے جيت رائے هانسدا نام کے اس لیکچرار کو پہلے وجہ بتاو نوٹس جاری کر کے تبصرہ پر صفائی دینے کیلئے کہا اور پھر جواب سے مطمئن نہیں ہونے کے بعد کالج سے باہر نکال دیا۔

یہ کالج كولهان یونیورسٹی سے منظور شدہ ہے۔ هانسدا کا اس کالج کے ساتھ ہوا کنٹراکٹ جمعرات کو ختم ہو رہا تھا، نوٹس کے جواب سے مطمئن نہیں ہونے پر کالج نے ان کے کنٹریکٹ میں توسیع سے انکار کر دیا۔ جس فیس بک پوسٹ کی وجہ لیکچرار کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا، اس میں انہوں نے اپنے دوستوں کے لئے ایک بیف پارٹی کا اہتمام کرنے کی صرف خواہش ظاہر کی تھی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے گئو کشی پر پابندی لگائے جانے کے بعد لیکچرار نے فیس بک پر یہ پوسٹ لکھی تھی۔

اے بی وی پی اور دائیں بازو کی دیگر تنظیموں سے وابستہ طلبہ نے لیکچرار کے خلاف محاذ کھول دیا تھا اور اس پوسٹ پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کالج اور یونیورسٹی سے انہیں فوری برخاست کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ لیکچرار نے کالج انتظامیہ کے اس فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلہ کو چیلنج بھی کریں گے۔

Loading...

Loading...