کانگریس کا بی جے پی کے اشارہ پرمدھیہ پردیش میں  60 لاکھ ووٹروں کی فرضی فہرست تیار کئے جانے کا الزام

کانگریس نے مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشارے پر 60 لاکھ ووٹروں کی فرضی فہرست تیار کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو الیکشن کمیشن سے فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے اور مجرم حکام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

Jun 03, 2018 03:10 PM IST | Updated on: Jun 03, 2018 03:10 PM IST
کانگریس کا بی جے پی کے اشارہ پرمدھیہ پردیش میں  60 لاکھ ووٹروں کی فرضی فہرست تیار کئے جانے کا الزام

کمل ناتھ اور جیوترادتیہ سندھیا

کانگریس نے مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشارے پر 60 لاکھ ووٹروں کی فرضی فہرست تیار کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو الیکشن کمیشن سے فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے اور مجرم حکام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ، انتخابی مہم کے سربراہ جیوتیرادتیہ سندھیا، سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ اور ویویک تنكھا نے دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مدھیہ پردیش میں ووٹروں کی نئی فہرست شائع کی گئی ہے اور اس میں وسیع پیمانے پر جعلسازی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کی شکایت الیکشن کمیشن سے کی ہے اور فہرست فوری طورپر درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر کمل ناتھ نے کہا کہ کمیشن کو پورے ثبوت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ پوری ریاست میں تقریبا 60 لاکھ فرضی ووٹروں کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ ووٹر فہرستوں میں جان بوجھ کر ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا اس میں انتظامی لاپرواہی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست میں جتنے ووٹر ہیں ان میں 13 فیصد فرضی ہیں ، یہ لاپرواہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی جعلسازی ہے۔

انہوں نے بی جے پی پر فرضی ووٹر فہرست تیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یہ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس کی شکایت الیکشن کمیشن سے کی ہے لیکن بی جے پی نے اس بارے میں کوئی پہل نہیں کی جس سے یہ صاف ہے کہ اسی نے فرضی فہرست تیار کرائی ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کی شکایت کو سنجیدگی سے سنا اور یقین دلایا کہ ووٹر لسٹ میں جعلسازی کے الزام کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مدھیہ پردیش حکومت سے صرف اعلان نہیں بلکہ 15 سال کے کام کاج کا حساب طلب کررہے ہیں۔

مسٹرجیوترادتیہ سندھیا نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے الیکشن جیتنے کے ہتھکنڈے اپناتے ہوئے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت فرضی ووٹر فہرست تیار کرائی ہے۔ ایک نہیں بلکہ 101 اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹوں میں جعلسازی کی گئی ہے اور یہ سب کام بی جے پی نے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے حکام پر دباؤ بنا کر اور جان بوجھ کر کیا ہے۔

Loading...

انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ دس سال میں ریاست کی آبادی 24 فیصد بڑھی ہے لیکن ووٹر فہرست میں 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اسے جعلسازی کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ جن افسران نے یہ کام کیا ہے کمیشن کو ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مستقبل میں مجرم پائے جانے والے افسران کو انتخابی ڈیوٹی سے الگ رکھا جائے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی ووٹر کا نام 26 جگہوں پر درج ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بھوجپور اسمبلی میں ایک خاتون کا نام لیا اور کہا کہ کہیں اس کو مرد تو کہیں عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح سے سرحدی علاقوں میں ایک ہی شخص دو دو ریاستوں کا ووٹر بنا ہوا ہے۔

Loading...