اگر کانگریس جیتی تو مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ ہوں گے وزیراعلیٰ، راجستھان میں پھنسے گا پینچ!۔

دونوں ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس دونوں میں سے کسی کی بھی جیت ہو سکتی ہے۔ اس دوران کانگریس کے پالیسی سازوں نے حکومت بنانے کے متبادل کو لے کر ابھی سے چرچا شروع کر دی ہے۔

Dec 11, 2018 07:56 AM IST | Updated on: Dec 11, 2018 07:57 AM IST
اگر کانگریس جیتی تو مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ ہوں گے وزیراعلیٰ، راجستھان میں پھنسے گا پینچ!۔

کمل ناتھ: فائل فوٹو

ایگزٹ پول کے نتیجوں میں تو کانگریس راجستھان میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے، لیکن مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے بارے میں تصویر ابھی واضح نہیں ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس دونوں میں سے کسی کی بھی جیت ہو سکتی ہے۔ اس دوران کانگریس کے پالیسی سازوں نے حکومت بنانے کے متبادل کو لے کر ابھی سے چرچا شروع کر دی ہے۔

سب سے پہلے بات مدھیہ پردیش کی۔ یہاں اگر کانگریس پارٹی اکثریت حاصل کرتی ہے تو کمل ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کا امکان زیادہ ہے۔ غور طلب ہے کہ الیکشن سے عین قبل راہل گاندھی نے کمل ناتھ کو ریاست کا صدر بنایا تھا اور وزیر اعلیٰ عہدہ کے دوسرے دعویدار جیوترادتیہ سندھیا کو انتخابی مہم کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔ کمل ناتھ ایک عرصہ سے ریاست میں صدر بننا چاہتے تھے تاکہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے انہیں کا چہرہ عوام کے سامنے آئے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔

Loading...

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اکثریت کے بعد کمل ناتھ کو کیوں وزیر اعلیٰ کی کرسی ملے گی؟ پارٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ کمل ناتھ نے نہ صرف ریاست میں بی جے پی سے سخت ٹکر لینے کے لئے پارٹی کو وسائل فراہم کیے بلکہ ہر سیٹ پر خاص طور پر ان سیٹوں پر جہاں کانگریس جیت سکتی ہے، وہاں پر کانگریس امیدواروں کی معاشی طور پر مدد بھی کی۔

کمل ناتھ پارٹی اعلیٰ کمان سے کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بننے کا یہ ان کا آخری الیکشن ہے لہذا کانگریس اگر اکثریت میں آتی ہے تو ان کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔ البتہ جہاں تک جیوترادتیہ سندھیا کی بات ہے تو ان کے پاس ابھی وقت ہے۔ وہ نوجوان لیڈر ہیں اور پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی ٹیم میں ہونے کی وجہ سے ان کو مرکزی رول مل سکتا ہے۔

اب راجستھان کی بات کرتے ہیں۔ راجستھان میں وزیر اعلی کے عہدے کے دو دعویداروں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔ اشوک گہلوت کے پاس تجربہ ہے۔ وہ پہلے بھی ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں لیکن سچن پائلٹ راہل گاندھی کی نوجوان ٹیم کے رکن مانے جاتے ہیں۔ آج کل اشوک گہلوت بھی راہل گاندھی کے خاص ہیں لہذا یہاں پر کون بنے گا وزیر اعلی کی پہیلی کو حل کرنے کے لئے کانگریس قیادت کو ناكوں چنے چبانا پڑے گا۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ اگر کانگریس کو بے پناہ اکثریت ملی یعنی 140-150 کے ارد گرد سیٹیں ملیں تب راہل گاندھی سچن پائلٹ کی نوجوان قیادت کو وزیر اعلی کے طور پر موقع دے سکتے ہیں۔ وہیں، اشوک گہلوت کو جو پہلے سے ہی مرکزی کردار میں تنظیم کے جنرل سکریٹری جیسے اہم عہدے پر تعینات ہیں انہیں 2019 کے لئے گٹھ بندھن بنانے اور حکومت بننے کی حالت میں اہم وزارت دینے کی بات کہہ کر انہیں راضی کر سکتے ہیں۔

ارون سنگھ کی رپورٹ

Loading...