ماں مجھے معاف کر دینا، میں اب اور نہیں جی سکتی، میری عزت برباد ہو گئی

نئی دہلی۔ چھتیس گڑھ میں ایک لڑکی انصاف کی آس میں خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئی۔

Jan 30, 2016 12:55 PM IST | Updated on: Jan 30, 2016 01:23 PM IST
ماں مجھے معاف کر دینا، میں اب اور نہیں جی سکتی، میری عزت برباد ہو گئی

نئی دہلی۔ چھتیس گڑھ میں ایک لڑکی انصاف کی آس میں خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئی۔ بھلائی کے سرکاری ہسپتال میں علاج کے دوران اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اجتماعی عصمت دری کا الزام علاج کر رہے ڈاکٹر اور اسپتال کی حفاظت میں تعینات 2 پولیس اہلکاروں پر ہے۔ یہی نہیں، ملزمان نے لڑکی کو بلیک میل کر اس کی پھر عصمت دری کی۔ اس کے بعد جب لڑکی نے انصاف کے لئے گہار لگائی تو اسے ہر جگہ سے ناکامی ہاتھ لگی اور آخر میں موت کو گلے لگا لیا۔

ملزمان کے بعد سسٹم نے اسے اتنا تڑپايا کہ اس کے لئے زندگی کے معنی ہی ختم ہو گئے۔ یہ کہانی ہے اس لڑکی کی جو خود تو اس دنیا سے چلی گئی لیکن اپنے پیچھے چھوڑ گئی انصاف کی ایک آس۔ لڑکی نے آخری خط میں لکھا، 'ممی پاپا مجھے معاف کر دینا، نہ تو مجھے انصاف ملے گا اور نہ ہی میں زندگی میں کبھی آگے بڑھ پاوں گی۔ میری اپنی وکیل مجھ سے بولی کہ جج کو روپے میں خرید لیا گیا ہے اور تجھے کورٹ سے بھگا دیا جائے گا اور مجھ سے میری وکیل نے 27-01-2016 کو اسٹامپ پیپر پر سائن کرا لیا ہے اس لئے اب میں زندگی ختم کرنے جا رہی ہوں۔

Loading...

یہ اس آخری خط کا نصف ہی مضمون ہے جو اس بدقسمت لڑکی نے اپنے والدین کے لئے لکھا تھا۔ یہ اس بدقسمت لڑکی کا خط ہے جو جینا چاہتی تھی۔ لیکن ہمارے سسٹم نے اسے مار ڈالا۔ انصاف کی چوکھٹ پر سر پیٹ پیٹ کر وہ ٹوٹ چکی تھی، بکھر چکی تھی۔ اس کے لئے زندگی موت سے بھی بدتر ہو چکی تھی۔ انصاف کی امید اس کے اندر ایسی ختم ہوئی کہ اس نے خود کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ درد ہے ایک لاچار لڑکی کا، جس کے ارادے کبھی بہت مضبوط ہوا کرتے تھے۔ لیکن طویل عدالتی کارروائی نے اور ملزمان کی دھمکیوں نے اسے کھوکھلا کر دیا۔

لڑکی نے اپنے خط میں لکھا، 'یہ صحیح بھی تو ہے۔ جب بھی میں بیان تاریخ پر دینے جاتی ہوں جج غائب رہتی ہیں اور میری وکیل مجھے سائن بھی نہیں کرنے دیتی ہیں۔ اس لئے میں ختم ہو جاؤں گی تو میری ٹینشن بھی ختم ہو جائے گی اور مجھے پھر کوئی بھی نہیں کہے گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔ میری پیاری ماں مجھے معاف کر دینا، اب میں اور نہیں جی سکتی۔ میری عزت برباد ہو گئی ہے، میں سوربھ بھكتا، گوتم پنڈت اور چندر پرکاش پانڈے کی وجہ سے پھانسی لگا رہی ہوں۔

خط لکھنے کے بعد لڑکی نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی گھٹ گھٹ کر مر گئی۔ ماں کے مطابق جج آتے نہیں ہیں۔ بابو تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں۔ ماں کا مطالبہ ہے کہ اسے معاوضہ نہیں انصاف چاہئے۔ ہمیں دباؤ سے بالکل ڈر نہیں ہے ہم لڑیں گے۔

اپنے گنہگاروں کا نام خود اس معصوم نے اپنے آخری خط میں لکھا ہے سوربھ، گوتم اور چندر پرکاش کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس معصوم لڑکی کی عصمت دری کی۔ مرنے سے پہلے لڑکی کے مطابق، جون 2014 میں بیمار ہونے پر وہ سرکاری ہسپتال میں علاج کے لئے گئی تھی۔ دیر رات اس کی تنہائی کا فائدہ اٹھا کر ڈاکٹر گوتم پنڈت وہاں پہنچا اور اسے نشے کا انجکشن دے دیا۔ پھر ڈاکٹر گوتم پنڈت نے ہسپتال میں تعینات دو پولیس والوں چندر پرکاش اور سوربھ کے ساتھ اس کی عصمت دری کی۔ اتنا ہی نہیں اس کی ویڈیو کلیپنگ بھی بنا لی۔ انہوں نے ویڈیو عام کرنے کی بات کہہ کر منہ بند رکھنے کی دھمکی دی۔ مجبور طالبہ کیا کرتی، خاموش رہی۔

طالبہ کے مطابق 5 جنوری 2015 کو ان تینوں نے اس کا اغوا کر لیا اور بلیک میل کر کے اس کی عصمت دری کی۔ کوئی راستہ نہ دیکھ لڑکی نے یہ بات گھر والوں کو بتائی۔ جس کے بعد پولیس میں رپورٹ درج کرائی گئی۔ تینوں ملزمان کو فورا گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن بات یہیں نہیں تھمی۔ تینوں نے لڑکی اور اس کے گھروالوں کو لالچ اور دھمکی دینا شروع کر دیا۔ وہیں عدالت میں بار بار پڑنے والی تاریخوں اور طویل عدالتی کارروائی سے لڑکی تنگ آ چکی تھی۔

متاثرہ کے بھائی نے بتایا کہ ہم دھمکیوں سے پریشان ہو گئے تھے، ان کے خاندان والوں نے دھمکی دے دے کر ہمارا جینا مشکل کر دیا تھا۔ یکم تاریخ کو پیشی تھی، لیکن 27 تاریخ کو وکیل نے دباؤ دے کر کسی اسٹامپ میں میری بہن سے دستخط لے لیا، اور اسی ٹینشن میں میری بہن نے پھانسی لگا لی۔

آخر وکیل نے کن کاغذوں پر دستخط لے لئے، سرکاری وکیل کیوں اسے یہ کہہ رہی تھی کی جج نے پیسے کھا لیے ہیں، یہ بہت سنگین سوالات ہیں۔ بہر حال، خاندان کے مطابق وکیل کا اسٹامپ کاغذ پر سائن کروانا اس کی امیدوں کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوا اور اس نے خود کشی کر لی۔ وہ معصوم تو اب نہیں رہی۔ لیکن اس کے خاندان کو آس ہے کہ اب کم از کم اب تو کیس میں تیزی لائی جائے اور ان کی بیٹی کے گنہگاروں کو جلد سے جلد سزا ملے۔

لڑکی کی ماں نے روتے روتے کہا، 'میری بیٹی گھٹ گھٹ کر مر گئی ہے ... جج آتے نہیں ہیں .... بابو تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں ... انصاف کی امید کس طرح؟ معاوضہ نہیں انصاف چاہئے، سزائے موت چاہئے۔ ہمیں دباؤ سے بالکل ڈر نہیں ہے ... لڑیں گے، لڑیں گے۔

Loading...