உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیرمیں مزید 22 افراد کورونامثبت'کورونا متاثرہ افرادکی کل تعداد پہنچی 300 تک

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    6 افراد کو ملی اسپتال سے چھٹی' عیدگاہ سرینگر کا 10سالہ بچہ بھی اسپتال سے رخصت

    • Share this:
    جموں کشمیر میں بدھ کو کویڈ19 کے مزید22 معاملے سامنے آئے ۔جن میں سے کشمیر سے 18 اور جموں صوبہ سے 4 نئے کیس درج کئے گئے۔جموں میں درج کئے گئے 4 معاملوں میں دو ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ کشمیر میں سامنے آئے۔ معاملوں میں سب سے زیادہ 8 معاملے گاندربل ضلع سے ہیں۔ جہاں اب کرونا مثبت معاملوں کی تعداد 13 پہنچ گئی۔سرینگر سے تین' کپواڑہ سے 2'بارہمولہ سے 2 اور بانڈی پورہ سے 3 نئے کیس درج کئے گئے۔بانڈی پورہ میں آج بھی جو تین معاملے سامنے آئے وہ تینوں گنڈ جہانگیر علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اب کرونا مثبت معاملوں کی تعداد 29 پہنچ گئی ہے۔

    بانڈی پورہ ضلع میں بدھ کی شام تک کل 56 کیس درج کیے گئے ہیں جن میں سے 10 صحت یاب ہوئے اور ایک کی موت واقع ہوئی ہئے۔سرینگر میں تین نئےمعاملوں کے ساتھ کرونا پازیٹیو معاملوں کی کل تعداد 76 ہوگئی جن میں سے گیارہ صحت یاب ہوئے اور ایک کی موت واقع ہوئی۔ جموں کشمیر میں کل 300 مثبت کیسوں میں سے 246 کشمیر وادی میں پائے گئے ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ '76 سرینگر ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے بعد بانڈی پورہ میں 56 اور بارہ مولہ ضلع میں 42 کرونا مثبت کیس درج کے گئے۔ کل ملا کے ان تین اضلاع میں جموں کشمیر کے کل کرونا کیسوں کے 58 فیصدکیس درج کئے گئے ہیں۔

    اچھی خبر یہ رہی کہ بدھ کو چھ افراد کو اسپتال سے چھٹی دی گئی اس طرح اب تک کل 36 مریض صحت یاب ہوئے جن میں سے 27 کا تعلق کشمیر وادی سے ہئے اور 9 جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدھ کو چھٹی پانے والوں میں سے عیدگاہ سرینگر کا دس سالہ طالب علم بھی شامل رہا جسے کئی بار اسپتالوں کےچکر کاٹنے کے بعد 31 مارچ کو کویڈ پازیٹیو قرار دیا گیاتھا۔

    حالانکہ آبادی کے لحاظ سے جموں کشمیر میں درج ہونے والے معاملے کافی زیادہ ہیں لیکن محکمہ صحت کے افسران کی مانیں تو ٹیسٹنگ کی شرح بڑھا دی گئی ہے جسکی وجہ سے اب زیادہ معاملے سامنے آرہے ہیں۔ جموں کشمیر میں 18 مارچ کو کویڈ19 کا پہلا کیس درج کیا گیا تھا۔ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ زیادہ تر معاملے اب ان لوگوں کے ہی آرہے ہیں جو پہلے سے کویڈ ۔19پازیٹیو افراد کے ربط میں رہے ہیں ۔
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: