ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ماہ رمضان میں خدمت خلق کیلئے لوگوں کو مفت آکسیجن سلینڈر پہنچانے کا کام کر رہے ہیں انور خان

انور خان کہتے ہیں کہ میرا آکسیجن سپلائی کا چھوٹا سا کام ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ کورونا قہر میں شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی بڑی کمی ہے اور کئی لوگوں کی شہر میں صرف اس لئے موت ہو گئی کہ انہیں وقت پر آکسیجن نہیں مل پایا ۔ پھر کیا تھا میں نے سبھی کام بند کرکے اسپتالوں میں آکسیجن پہنچانے کا کام شروع کردیا ۔

  • Share this:
ماہ رمضان میں خدمت خلق کیلئے لوگوں کو مفت آکسیجن سلینڈر پہنچانے کا کام  کر رہے ہیں انور خان
انور خان کہتے ہیں کہ میرا آکسیجن سپلائی کا چھوٹا سا کام ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ کورونا قہر میں شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی بڑی کمی ہے اور کئی لوگوں کی شہر میں صرف اس لئے موت ہو گئی کہ انہیں وقت پر آکسیجن نہیں مل پایا ۔ پھر کیا تھا میں نے سبھی کام بند کرکے اسپتالوں میں آکسیجن پہنچانے کا کام شروع کردیا ۔

کورونا قہر میں انسانی رشتوں کا تقدس پامال ہوتے تو ہم روز دیکھ رہے ہیں مگر اس مشکل وقت میں بھی کچھ ایسے لوگ ہیں موجود ہیں جو انسانی خدمت سے اپنے خدا کو خوش کرنا چاہتےہیں ۔ ایسے لوگ جو کورونا قہر میںاسپتالوں میں آکسیجن oxygen کی قلت میں ضرورتمندوں سے منھ مانگی قیمت وصول کرسکتے ہیں مگر انہوں نے ماہ رمضان میں اپنا ذاتی عیش و آرام انسانی خدمت پر تج دیا تاکہ روتے ہوئے لوگوں کے چہروں پر خوشی کے آنسو دیکھے جا سکے ہیں۔ بھوپال کے انور خان بھی انہیں لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے گزشتہ پندرہ دنوں سے خدمت خلق کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے ۔حالانکہ تپتی دھوپ میں کورونا کرفیو میں جب لوگ اپنے مکانوں میں آرام سے سوتے ہیں تب انور خان روزہ رکھ کر خشک ہونٹوں کے ساتھ کسی کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔

انور خان کہتے ہیں کہ میرا آکسیجن سپلائی کا چھوٹا سا کام ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ کورونا قہر میں شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی بڑی کمی ہے اور کئی لوگوں کی شہر میں صرف اس لئے موت ہو گئی کہ انہیں وقت پر آکسیجن نہیں مل پایا۔ پھر کیا تھا میں نے سبھی کام بند کرکے اسپتالوں میں آکسیجن پہنچانے کا کام شروع کردیا ۔ میرے پاس جب بھی کوئی فون آتا ہے اور اسپتال سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اپنی گاڑیوں کو لیکر نکل پڑتا ہے اور جب تک اس شخص تک میری آکسیجن نہیں پہنچ جاتی ہے تب تک میں اور میرا گھر سکون سے نہیں بیٹھتا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اس سے کیا ملتا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ خدمت سے خدا ملتا ہے ۔ اگر میری پہنچائی آکسیجن سے کسی کو زندگی مل رہی ہے تو سے بڑی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے اور پھر جناب آپ یہ کیوں بھول رہے کہ یہ تو مقدس رمضان کا مہینہ ہے۔


رمضان کو غم خواری کابھی مہینہ کہا گیا ہے۔ اس میں نیکیوں کا ثواب بھی تو اللہ بڑھا دیتا ہے ۔ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں اور جنکی خدمت کر رہا ہوں وہ بھی اسی اللہ کے بندے ہیں ۔جب میں اپنے بچوں کے ساتھ کسی مجبور کی ضرورت پورا کرتا ہے اور اس کے مایوس چہرے پر مسکراہٹ کی لکیریں بکھرتی ہیں تو یہی میرا زندگی کا حاصل ہوتا ہے ۔میں اپنے کام کے لئے شہر کے کلکٹر اورڈی آئی جی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ،اگر ان کی نظرکرم نہ ہو تو کورونا قہر میں اپنا کام انجام نہیں دے سکتا۔

بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ

Published by: Sana Naeem
First published: Apr 22, 2021 07:39 PM IST