ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا کورونا وائرس ویکسین میں حرام اجزاء ہوں تو اس کا استعمال جائز ہے؟: جانیں تفصیل

کورونا ویکسین حلال حرام ہونے کی بحث کے دوران اکیڈمی کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مفتی اس دوا کا معائنہ نہیں کرتے ہیں یہ دوا مسلمان استعمال نہ کریں۔ اس بارے میں بحث تیز ہوگئی ہے کہ کیا مسلم کمیونٹی کے لئے کورونا ویکسین حلال ہے یا حرام ۔

  • Share this:

خنزیر کی چربی سے تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین ( coronavirus vaccine) استعمال کی جائے یا نہیں مفتی فیصلہ کریں گے پھر مسلمانوں کو دوا پلائیں گے۔ یہ فتوی ممبئی کی رضا اکیڈمی کے ذریعے  جاری کیا گیا ہے۔ کورونا ویکسین حلال حرام ہونے کی بحث کے دوران اکیڈمی کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مفتی اس دوا کا معائنہ نہیں کرتے ہیں یہ دوا مسلمان استعمال نہ کریں۔ اس بارے میں بحث تیز ہوگئی ہے کہ کیا مسلم کمیونٹی کے لئے کورونا ویکسین حلال ہے یا حرام ۔ اس کو لیکر پوری دنیا میں مولانا مفتیوں کےدرمیان الجھن ہے کہ آیا یہ دوا حلال طریقہ سے بنائی گئی ہے یا حرام ۔ اس مدے پر جب ہم نے رضا اکیڈیمی سے بحث میں شامل ہونے کو کہا تو وہ بحث سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔کیا فتوی کا شوشہ چھوڑ کر اور مسلمانوں میں بے چینی پیدا کر بحث سے فرار اختیار کرنا درست ہے۔


خیر چلئے، اسی سلسلے میں ریاست آندھرا پردیش کے ضلع کرنول سے تعلق رکھنے والے چند ایک علماء اور دانشوروں نے کووڈ۔۱۹ ویکسین کے استعمال کو درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں زندگی کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ وہیں متحدہ عرب امارات کے فتویٰ کونسل نے اسلامی قانون کے تحت ویکسین کے استعمال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ایک وضاحت جاری کی۔ فتویٰ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام میں کویڈ ویکسین کے استعمال کی اجازت ہے حالانکہ اس میں غیر حلال اجزاء پائے جاتے ہیں  کیونکہ یہ ایک روک تھام کرنے والی دوا ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ فتویٰ میں اس بیماری کی انتہائی متعدی نوعیت کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ اس بیماری نے نہ صرف دنیا بھر کے تقریبا تمام ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پرلاکھوں جانوں کو ہلاک کیا ہے۔


کورونا ویکسین کے حلال ۔حرام معاملے پر جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ چین نے جو ٹیکہ ایجاد کیا ہے اس کی جانچ کی جانی چاہئے۔ اعظمی نے کہاکہ اگرکوروناویکسین میں حرام اجزاء شامل ہیں تو وہ رضااکیڈمی کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔


وہیں کورونا ائرس ویکسین میں سوئر کی چربی کی آمیزش کی خبر پر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے کہا کہ تحقیقی رپورٹ آنے کے بعد علماء کرام اس موضوع پر فیصلہ لیں گے۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 24, 2020 08:21 PM IST