ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر میں 8 لوگوں کی Mucormycosis سے موت، آخر کتنا خطرناک ہے فنگس انفیکشن

مہاراشٹر میں ، کم سے کم آٹھ افراد میوکورامائکوسس (Mucormycosis ) فنگل انفیکشن سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

  • Share this:
مہاراشٹر میں 8 لوگوں کی Mucormycosis سے موت، آخر کتنا خطرناک ہے فنگس انفیکشن
مہاراشٹر میں ، کم سے کم آٹھ افراد میوکورامائکوسس (Mucormycosis ) فنگل انفیکشن سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ممبئی: مہاراشٹر میں ، کم سے کم آٹھ افراد میوکورامائکوسس (Mucormycosis ) فنگل انفیکشن سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان لوگوں نے کووڈ ۔19 (Covid-19) کو شکست دی تھی ،لیکن کالی فنگس نے انھیں نشانہ بنایا تھا۔ ریاست میں ایسے 200 کے قریب مریض زیر علاج ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ڈی ایم ای آر) ، ڈاکٹر تتیاراؤ لہانے نے کہا کہ میوکورامیکوسس کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔


انہوں نے پی ٹی آئی بھاشا کو بتایا ، "ریاست کے مختلف حصوں میں اب تک دو سو مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں آٹھ کی موت mucomycosis سے ہوئی ہے جسے سیاہ فنگس بھی کہا جاتا ہے۔" یہ لوگ کووڈ-19 سے بچ گئے لیکن فنگل انفیکشن نے ان کی کمزورکے چلتے ان پر حملہ کیا جو مہلک ثابت ہوا۔ "


جانئے کتنا خطرناک ہے یہ فنگس انفیکشن

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ فنگل پچھلی لہر میں بھی تھی لیکن اس بار یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اگر یہ فنگس مریض کے دماغ تک پہنچ جاتا ہے تو پھر مریض کا بچنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی علامات آنکھوں میں جلن ، سر درد ، آدھے چہرے پر سوجن ، ناک کا بند ہونا ، سائینس میں دشواری ہے۔ یہ فنگس آنکھوں سے لے کر چہرے سے ہی دماغ تک پہنچتا ہے۔

کیسے ہوتا ہے یہ انفیکشن
نیتی آیوگ NITI Aayog کے ممبر (health) وی کے پال نے جمعہ کو کہا کہ Mucoramycosis بیماری Mucor نامی فنگس کی وجہ سے ہوتی ہے جو نم سطحوں پر پائی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب کووڈ 19 کے مریض کو آکسیجن سسٹم پر رکھا جاتا ہے تو ہوا کو نم رکھنے کے لئے ایک آبی آلہ لگا ہوتا ہے ، ایسی صورت میں فنگس انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر لہانے نے کہا کہ فنگل انفیکشن مرض کے بارے میں پہلے ہی پتہ ہے، لیکن کووڈ 19 سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے اس کے معاملات بڑھتے جارہے ہیں جس میں اسٹیرائڈ ادویات کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح میں کئی بار اضافہ ہوتا ہے ۔
(ڈسکلیمر: یہ خبر براہ راست سنڈیکیٹ فیڈ سے شائع کی گئی ہے۔ اس میں نیوز 18 ٹیم نے ترمیم نہیں کی ہے۔)
Published by: Sana Naeem
First published: May 08, 2021 11:07 PM IST