ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

قصور معاف کی مصنفہ معروف ادیبہ ڈاکٹر انیس سلطانہ بھی دے گئیں داغ مفارقت

کورونا وبا کا قہر راجدھانی بھوپال کے ادبیبوں پر کچھ اس طرح ٹوٹا ہے کہ ایک کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتاہے کہ دوسرے کی دنیا سے رخصت ہونے کی خبر آجاتی ہے۔ اب معروف ادیبہ ڈاکٹر انیس سلطانہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔

  • Share this:
قصور معاف کی مصنفہ معروف ادیبہ ڈاکٹر انیس سلطانہ بھی دے گئیں داغ مفارقت
معروف ادیبہ ڈاکٹر انیس سلطانہ نے دنیا کو کہا الوداع!

کورونا وبا کا قہر راجدھانی بھوپال کے ادبیبوں پر کچھ اس طرح ٹوٹا ہے کہ ایک کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسرے کی دنیا سے رخصت ہونے کی خبر آجاتی ہے۔ پدم شری منظور احتشام، ظفرنسیمی ، سلیم دانش کا غم ابھی ہلکا بھی نہیں ہوا تھا کہ معروف ادیبہ ڈاکٹر انیس سلطانہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔

ڈاکٹر انیس سلطانہ کی ولادت بیس جولائی انیس سو اکتالیس کو بھوپال میں ہوئی۔ انیس سلطانہ کی تعلیم و تربیت بھوپال میں ہوئی ۔ انہوں نے انیس سو تریسٹھ میں اردو سے ایم اے اور انیس سو اڑسٹھ میں فارسی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ بعداز آں انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے  اردو میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ڈاکٹر انیس سلطانہ نے بھوپال سلطانیہ گرلس اسکول سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیاتھا۔اس کے بعد وہ گرلس کالج اجین سے وابستہ ہوئیں ۔پھر بھوپال ایم ایل بی ڈگری کالج کا حصہ بنیں اور یہیں سے دوہزار ایک میں بحیثیت صدر شعبہ اردو وظیفہ حسن  خدمت پر ریٹائر ہوئیں۔



ڈاکٹر انیس سلطانہ منفرد لب و لہجہ کی بہترین شاعرہ ہونے کے ساتھ خاکہ نگار،مزاح نگار، محقق اور بہترین انشا پردازتھیں۔ طنزیہ و مزاحیہ خٓاکوں کا مجموعہ قصور معاف  ( author of qusoor Maaf doctor anees sultana ) کے نام سے شائع ہوا تھا جسے ادبی حلقوں میں خوب پسند کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اردو قصائد ومراثی کی شرح،بھوپال میں اردو تحقیق و تنقید کا ارتقاء،تنقیدی سروکاراور تنگ نائے غزل کے نام سے شائع ان کی کتابیں اردو کے دامن کو وسیع کرتی ہیں ۔ اردو نثر میں تمثیل نگاری کے عنوان سے انہوں نے کتاب لکھی تھی مگر زندگی نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ منظر عام پر آتی ۔ ڈاکٹر انیس سلطانہ کو ان کی ادبی خدمات  کے اعتراف میں ایم پی اردو اکادمی اور بہار اکادمی کے ساتھ بہت سی انجمنوں نے اعزاز سے سرفراز کیاتھا۔


بھوپال ایم ایل بی کالج کی  پروفیسر ڈاکٹر بلقیس شاد کہتی ہیں کہ وہ ان کی تحقیق بالخصوص بھوپال میں اردو تحقیق و تنقید کا ارتقاء، تنقیدی سروکار اور اردو قصائد ومراثی کی شرح ایسا کام ہے جسے اہل کبھی فراموش نہیں کر سکتے ہیں ۔ ان کی تحریریں تمثیل کا درجہ رکھتی تھیں۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے ۔ وہ آج ہمارے بیچ بھلے ہی نہیں مگر انکی روشن تحریریں ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 03, 2021 06:22 PM IST