உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال میں 3 جنوری سے جزوی Lockdown کا امکان! کولکاتا میں کورونا کیسیز میں تین گنا اضافہ

    اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد کم ہے۔

    اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد کم ہے۔

    کولکاتا میونسپل کارپوریشن (KMC) اور مغربی بنگال کے محکمہ صحت نے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایک سسٹم الرٹ کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی (Mamata Banerjee) کا 3 جنوری کو ایک سرکاری پروگرام طئے تھا۔ جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وہیں 3 جنوری سے سرکاری دورے کے تمام پروگرام بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    • Share this:
      کولکاتا میں کورونا وائرس کے تازہ کیسوں کی کل تعداد میں اضافے کی وجہ سے مغربی بنگال میں 3 جنوری 2022 سے جزوی لاک ڈاؤن کا خدشہ ہے۔ صرف دارالحکومت میں کورونا وائرس کے کیسوں میں پچھلے تین دنوں میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہے اور جمعہ کو نئے انفیکشن کی تعداد 1,954 ہوگئی ہیں۔ ریاست میں درج شدہ نئے کووڈ کیسز کی تعداد 3,451 ہیں۔

      وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 29 دسمبر کو کولکاتا میں 540 نئے کیس رپورٹ ہوئے تھے، جب کہ ریاست میں 1,089 نئے انفیکشن تھے۔ کولکاتا کی ہفتہ وار مثبت کیسوں کی شرح بڑھ کر 12.5 فیصد ہو گئی، جب کہ ریاست میں کیس کی شرح بڑھ کر 5.47 فیصد ہو گئی۔

      کولکاتا میونسپل کارپوریشن (KMC) اور مغربی بنگال کے محکمہ صحت نے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے ایک سسٹم الرٹ کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی (Mamata Banerjee) کا 3 جنوری کو ایک سرکاری پروگرام طئے تھا۔ جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وہیں 3 جنوری سے سرکاری دورے کے تمام پروگرام بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

      کولکاتا ہائی کورٹ (Calcutta High Court) اور ضلعی عدالتوں نے بھی کچھ مستثنیات کے ساتھ 3 جنوری سے صرف ورچوئل موڈ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا مغربی بنگال میں کابینہ کے وزیر اروپ بسواس کو بھی کورونا وائرس مثبت ہوا ہے اور انہیں ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

      ریاستی صحت کے سکریٹری نارائن سوروپ نگم نے کہا کہ سسٹم الرٹ میں اسپتالز، انتظامیہ، ضلع انتظامیہ اور پولیس کو چوکنا رکھنا شامل ہے تاکہ وہ انفیکشن میں اضافے کی صورت میں اپنے لائحہ عمل کے ساتھ تیار رہ سکیں۔ نگم نے کہا کہ اسپتال کے تمام عملے، صحت کے انتظام، ضلعی انتظامی حکام اور پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے منصوبے کے ساتھ تیار رہیں جس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے اگر وہ اپنے اپنے علاقوں میں کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ محسوس کرتے ہیں تو انھیں جلد احتیاطی اقدامات کرنے چاہیے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کورونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد کم ہے۔ اسپتال میں داخلے کی شرح زیادہ نہیں ہے۔ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم میں آپ کو واضح کر دوں کہ یہاں مغربی بنگال میں ایسے کیس کی تعداد کم ہے۔ جہاں تک کنٹینمنٹ زونز کا تعلق ہے، ہاں ایسے زونز ہوں گے اور صحیح اعداد و شمار کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

      حال ہی میں ایک انتظامی میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نگم اور چیف سکریٹری ایچ کے دویدی کو ہدایت دی کہ وہ وارڈ ٹو وارڈ سروے کریں اور 3 جنوری کے بعد مائیکرو کنٹینمنٹ زون نافذ کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ جاری کردہ بیک ٹو بیک ہیلتھ بلیٹن سے پتہ چلتا ہے کہ بنگال میں کووڈ گراف بڑھ رہا ہے، جس نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو انفیکشن کی شرح کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے حرکت میں آنے پر مجبور کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: