ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کوروناوبا کے قہر میں انجیکشن اور آکسیجن کے بعد اب ضروری دوا اور انجیکشن کو ترسے بلیک فنگس کے مریض

آکسیجن سلینڈر تک کا انتظام کرنے کے لیے پریشان ہونے کے بعد اب تیماردار بلیک فنگس سے متاثر اپنے مریضوں کی جان بچانے کے لیے دوا اور انجیکشن حاصل کرنے میں پریشان ہو رہے ہیں۔

  • Share this:
کوروناوبا کے قہر میں انجیکشن اور آکسیجن کے بعد اب ضروری دوا اور انجیکشن کو ترسے بلیک فنگس کے مریض
آکسیجن سلینڈر تک کا انتظام کرنے کے لیے پریشان ہونے کے بعد اب تیماردار بلیک فنگس سے متاثر اپنے مریضوں کی جان بچانے کے لیے دوا اور انجیکشن حاصل کرنے میں پریشان ہو رہے ہیں۔

کورونا سے متاثر مریضوں کی جان بچانے کے لیے دوا سے لیکر آکسیجن سلینڈر تک کا انتظام کرنے کے لیے پریشان ہونے کے بعد اب تیماردار بلیک فنگس سے متاثر اپنے مریضوں کی جان بچانے کے لیے دوا اور انجیکشن حاصل کرنے میں پریشان ہو رہے ہیں۔ یو پی میں بلیک فنگس انفیکشن سے سب سے زیادہ متاثر میرٹھ ضلع میں پرائیویٹ اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے تیماردار دوا کے لیے ضلع انتظامیہ سے لیکر محکمہ صحت کے ذمہ داران تک سے فریاد کر رہے ہیں۔

میرٹھ کے پرائیویٹ اسپتالوں میں زیر علاج بلیک فنگس سے متاثر مریضوں کو علاج میں استعمال ہونے والی دوا اور انجیکشن نہیں مل پا رہا ہے۔ مریضوں کے تیمارداروں کے مطابق بلیک فنگس سے متاثر مریضوں کے علاج کے لیے دوا اور انجیکشن محض سرکاری اسپتالوں کو محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کرے جا رہے ہیں جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں زیر علاج مریض کو یہ انجیکشن اور دوائیں نہ تو اسپتال سے اور نہ ہی بازار سے دستیاب ہو پا رہی ہے جبکہ بلیک مارکٹ میں انجیکشن اور دوائیں اونچی قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔




وہیں میڈیکل کالج انتظامیہ میڈیکل میں زیر علاج مریضوں کے لیے دوا اور انجیکشن کی ضرورت کے مطابق اسٹاک ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور سی ایم او بھی سبھی مریضوں کے لیے دوا دستیاب ہونے کی یقین دھانی کرا رہے ہیں۔ ایک طرح بلیک فنگس سے نمٹنے اور مریضوں کے علاج کے لیے دوا اور انجیکشن دستیاب ہونے کے محکمہ صحت کے دعوے ہیں تو دوسری طرف اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے تیمارداروں کی فریاد ایسے میں انتظامیہ کے دعووں اور حقیقت میں صاف فرق نظر آتا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 29, 2021 01:00 PM IST