உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Schools Reopen: حکومت کا کورونا پابندیوں کے ساتھ دوبارہ اسکول کھولنے پر غور، سیکھنے کے عمل میں آرہا بڑا فرق

    یونیسیف نے دعویٰ کیا کہ اسکولوں کی بندش سے پوری نسل کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

    یونیسیف نے دعویٰ کیا کہ اسکولوں کی بندش سے پوری نسل کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

    وزارت تعلیم کے اعلیٰ ذرائع نے News18.com کو بتایا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کے ماڈل فریم ورک بنانے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ یہ فریم ورک اسکولوں کے لیے معیاری آپریٹنگ اصولوں کے طور پر کام کرے گا۔ اس بارے میں ابھی کوئی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی ہے۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت اسکولنگ 2.0 کے لیے ایک فریم ورک بنانے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت اسکولوں کو ایک بار پھر فزیکل موڈ میں کھولنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اسکولوں کا نظام اس وقت تک معمول پر نہیں آئے گا۔ جب تک کہ مکمل طور پر دوبارہ اسکولوں کو کھولا نہ جائے۔ کورونا کے بعد کی دنیا میں اسکول دوبارہ ایک جیسے نہیں ہوں گے۔ بچوں کے درمیان ظہرانہ (lunch) یا کمرہ جماعت میں ایک ساتھ مل کر بیٹھنے جیسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کا امکان نہیں ہے۔

      مرکزی حکومت کورونا سے متعلق پروٹوکول کے بعد فزیکل کلاسیز کے لیے اسکولوں کو کھولنے کے ماڈل پر کام کر رہی ہے۔ ملک بھر کے والدین کی جانب سے رضاکارانہ بنیادوں پر اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرنے کے بعد حکومت غور کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ دو سال سے زیادہ گھر میں رہنے اور اسکرین سے چپکے رہنے کی وجہ سے طلبا میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آن لائن سیکھنے سے بچوں میں سماجی رویے میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

      وزارت تعلیم کے اعلیٰ ذرائع نے News18.com کو بتایا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کے ماڈل فریم ورک بنانے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ یہ فریم ورک اسکولوں کے لیے معیاری آپریٹنگ اصولوں کے طور پر کام کرے گا۔ اس بارے میں ابھی کوئی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی ہے۔

      اسکرین ایڈکشن:

      کورونا وبائی مرض کی وجہ سے سب سے پہلے مارچ 2020 کے وسط میں اسکولوں کو بند کیا گیا تھا، تب سے ہی مکمل طور پر فزیکل کلاسیز پر پابندی ہے اور طلبا آن لائن موڈ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان طلبا کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کے پاس آن لائن موڈ میں پڑھنے کے لیے وسائل نہیں ہیں بلکہ جن کے پاس وسائل ہیں انھیں بھی اسکرین ایڈکشن (Screen Addiction) جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

      حال ہی میں یونیسیف (UNICEF) نے کہا تھا کہ اسکولوں کو بند کرنے سے طلبا کی صحت کو کورونا وبا سے کہیں زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ یونیسیف نے دعویٰ کیا کہ اسکولوں کی بندش سے پوری نسل کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کم اسکول جانے والے بچوں کے ساری زندگی غربت میں رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور اسکولوں میں جانے والے طلبا کو بھی سیکھنے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے وہ اپنی تعلیم میں بہت پیچھے رہ رہے ہیں۔

      عظیم پریم جی رپورٹ (Azim Premji Report ) میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہندوستانی طلبا کے سیکھنے کی سطح میں تشویشناک کمی آئی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 92 فیصد بچے کم از کم ایک زبان کی صلاحیت کھو چکے ہیں جبکہ 82 فیصد نے ریاضی کی مہارت کھو دی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: