ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس کو چین نے  Wuhan lab میں بنایا! برطانیہ اور ناروے کے سائنسدانوں کا بڑا دعوی

China created Coronavirus in Wuhan Lab: سائنسدانوں کی تحقیقی اطلاعات میں دعوی کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے نمونے میں ایک 'انوکھا فنگر پرنٹ' پایا گیا ہے جو لیب میں اس وائرس سے چھیڑ چھاڑ کے بعد ہی ممکن ہے۔

  • Share this:
کورونا وائرس کو چین نے  Wuhan lab میں بنایا! برطانیہ اور ناروے کے سائنسدانوں کا بڑا دعوی
کورونا وائرس کے نمونے میں ایک 'انوکھا فنگر پرنٹ' پایا گیا ہے جو لیب میں اس وائرس سے چھیڑ چھاڑ کے بعد ہی ممکن ہے۔

کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ کیا یہ چین میں لیب میں بنا ہے؟ ایسے سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں۔ دنیا بھر کے محققین یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ کورونا وائرس کی پیداوار یا شروعات کیسے ہوئی۔ اس سلسلے میں برطانوی پروفیسر اینگس ڈلگلش اور ناروے کے سائنسداں ڈاکٹر سورینسن نے دعوی کیا ہے کہ چین میں ایک لیب میں کورونا وائرس بنایا گیا ہے۔ دونوں سائنسدانوں کی تحقیقی اطلاعات میں دعوی کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے نمونے میں ایک 'انوکھا فنگر پرنٹ' پایا گیا ہے جو لیب میں اس وائرس سے چھیڑ چھاڑ کے بعد ہی ممکن ہے۔ برطانیہ کی نیوز ویب سائٹ ڈیلی میل نے اس بارے میں خبر شائع کی ہے اور یہ دونوں سائنسدانوں کے ذریعے لکھے ہوئے تحقیقی مقالے کی بنیاد پر اسے لکھا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چینی سائنسدانوں کو ووہان لیب میں گین آف فنکشن پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے بنایا۔ گین آف فنکشن ریسرچ امریکہ میں عارضی طور پر پابندی عائد ہے۔ اس تحقیق میں قدرتی طور پر پائے جانے والے وائرس کو لیب میں تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کیلئے لیب میں ڈیولپ کیا جاتا ہے اور تاکہ انسانون پر اس کا اثر انسانوں پر زیادہ ہو۔


ریسرچ کے مطابق سائنسدانوں نے گوفہ میں پائے جانے والے چمگادڑوں سے قدرتی کورونا وائرس کا بیک بون لہا اور اس وائرس میں ایک نیا اسپائک جوڑا جس کے نتیجے میں اس سے کہیں زیادہ موثر اور مہلک کووڈ 19 وائرس ملا۔ محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ کوڈ 19 میں قدرتی کورونا وائرس کا کوئی پرانا ثبوت نہیں ملا ہے۔ ساتھ ہی لیب میں وائرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا پتہ نہ چلے اس کیلئے ریورس انجینئرنگ کی گئی ہے۔


ڈیلی میل ڈاٹ کام کے ساتھ برطانوی پروفیسر اینگس ڈلگلش نے کہا ، "ہمارے خیال میں یہ وائرس ریٹرو انجینئرنگ سے وائرس کو بنایا گیا تھا بعد میں اسے بدل دیا گیا اور اور پھر اسے ایک ترتیب دی گئی جو کئ سال پہلے کی حالت میں تھا۔" سائنسدانوں نے بھی اپنی تحقیق میں ووہان لیب میں ثبوتوں کو تباہی کئے جانے کو لیکر بھی پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ جن سائنسدانوں نے اس بارے میں اپنی معلومات شیئر کرنی چاہی یا وہ غائب ہو گئے ہھر ابھی تک منھ نہیں کھولا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 30, 2021 08:48 AM IST