உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فروری میں قہر برپا سکتا ہے کورونا، ماہرین نے حکومت کو دی وارننگ، جانیے کیا ہے وجہ؟

    فروری میں کورونا وائرس مچائے گا تباہی، ماہرین کی وارننگ۔

    فروری میں کورونا وائرس مچائے گا تباہی، ماہرین کی وارننگ۔

    کورونا وبا کے پھیلاو میں آئی تیزی کے پیچھے تہوار، نئے سال کے جشن یا اس کی وجہ سے ہونے والی بھیڑ نہیں ہے۔ یہ کیسیز نئے ویرینٹ اومیکرون کی وجہ سے تیز ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت یعنی WHO نے بھی اومیکرون کو بڑی تشویش قرار دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ماہرین نے کہا ہے کہ فروری کے وسط تک کورونا وائرس (corona Virus) کے کیسیز اپنی انتہا پر پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت کو اس کی روک تھام کے لئے ابھی سے اقدامات کرنے چاہیے۔ وہیں عام لوگوں کو ہلکی علامت آنے پر فوری اسپتال جانے سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دلی میں کورونا وائرس کے کیسیز لگاتار بڑھ رہے ہیں اور اس کی انتہائی تیزی سے پھیلنے والے اومیکرون ویرینٹ (Omicron Variant) کی وجہ سے اگلے کچھ مہینوں میں انفیکشن مزید بڑھتا رہے گا۔ مرکزی وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق، دلی میں اب تک اومیکرون کے 142 کیسیز ملے ہیں۔ لوگوں کی سلامتی کو دیکھتے ہوئے دلی حکومت نے شہر میں رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو لگادیا ہے۔

      وبا کے ماہر گری دھر آر بابو کے حوالے سے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلاو میں آئی تیزی کے پیچھے تہوار، نئے سال کے جشن یا اس کی وجہ سے ہونے والی بھیڑ نہیں ہے۔ یہ کیسیز نئے ویرینٹ اومیکرون کی وجہ سے تیز ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت یعنی WHO نے بھی اومیکرون کو بڑی تشویش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو فوری کورونا مخالف ویکسین لگوانا چاہیے۔ گری دھر آر بابو نے کہا کہ جنوری کے وسط سے لے کر فروری کے وسط تک یہ متعددی مرض اپنی انتہا پر ہوسکتا ہے۔ ایسے میں سبس ے زیادہ خطرہ اُن لوگوں کو ہے جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے۔ ایسے لوگ جو ابھی تک وائرس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں، وہ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

      70 فیصد تک اومیکرون سے متعلق کیسیز ہوسکتے ہیں
      ایک دیگر ماہر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسیز کا تیزی سے بڑھنا اور پازیٹیویٹی ریٹ میں بھی اضافہ ہوگا لیکن یہ اموات کی سطح میں تبدیل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کیسیز میں سے 70 فیصد تک اومیکرون سے متعلق ہوسکتے ہیں، باقی دیگر ویرینٹ کی وجہ ہوسکتے ہیں۔ یہ کسی متاثرہ کے رابطے میں آنے سے ہی ہوگا۔ صفدر جنگ اسپتال میں کمیونٹی میڈیسین محکمہ کے ہیڈ ڈاکٹر جُگل کشور نے کہا کہ سردیوں میں لوگ گھروں کے اندر رہتے ہیں اور یہاں میل ملاپ کی وجہ سے انفیکشن ہوسکتا ہے۔ ان دنوں میں انفلوئنزا کے کیسیز بھی بڑھ جاتے ہیں۔

      حکومت کو لینا ہوگا صحیح فیصلہ
      ڈاکٹر جُگل کشور نے کہا کہ حکومت کو کوویڈ-19 کے صحیح انتام کے لئے گائیڈلائنس جاری کرنا چاہیے اور ساتھ ہی عام لوگوں کو پورا احتیاط برتنا چاہیے۔ پھیلاو کبھی بھی اور کہیں بھی ہوسکتا ہے، ایسے میں ماسک اور سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کرنا ضروری ہے۔ وہیں بیماری کی ہلکی لامت ہونے پر اسپتال میں بھرتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیز اور ناقابل برداشت سردرد، تیز بخار جیسی علامات کے بعد اسپتال جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، عام سردی، کھانسی ہونے پر گھروں پر رہ کر ہی علاج ممکن ہے۔ لوگوں کو کورونا ٹسٹ کرانا چاہیے۔ اسپتالوں میں بستر اور دواوں کے لئے اگر سبھی لوگ پہنچیں گے تو پریشانی بڑھ جائے گی، ایسے میں حکومت کو مناسب انتظامات کی گائیڈلائنس بنانا ہوگی۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: