ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا وائرس: سپریم کورٹ نے دیا سبھی وکلا کے چیمبر سیل کرنے کا حکم، صرف انتہائی ضروری معاملوں کی ہو گی سماعت

عدالت عظمی نے منگل کی شام پانچ بجے تک تمام وکلاء کے چیمبر کو سیل کرنے کا حکم بھی دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 23, 2020 02:39 PM IST
  • Share this:
کورونا وائرس: سپریم کورٹ نے دیا سبھی وکلا کے چیمبر سیل کرنے کا حکم، صرف انتہائی ضروری معاملوں کی ہو گی سماعت
کورونا وائرس: سپریم کورٹ نے دیا سبھی وکلا کے چیمبر سیل کرنے کا حکم

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے ملک میں کوروناوائرس (کووڈ -19) کے تیزی سے ہو رہے پھیلاؤ کے پیش نظر سبھی کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے اور صرف انتہائی ضروری مقدمات کی سماعت ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے پیر کو طے کیا کہ اب تاحکم ثانی بے حد ضروری معاملات میں ہی سماعت ہو گی اور یہ سماعت بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہو گی۔



عدالت عظمی نے منگل کی شام پانچ بجے تک تمام وکلاء کے چیمبر کو سیل کرنے کا حکم بھی دیا۔ جسٹس بوبڈے نے کہا کہ تمام وکلا سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے چیمبر سے اپنی فائلیں اور دیگر کاغذات ہٹا لیں۔ شام تک تمام چیمبر سیل کر دئیے جائیں گے۔

کورٹ نے کہا کہ اگلے حکم تک کسی’پیٹشنر اِن پرسن‘ کو معاملہ میں خود بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے تمام طرح کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے کورٹ روم میں ویڈیو کانفرنسنگ کے لئے ایک بڑا ٹیلی ویژن سیٹ لگایا ہے، جس کا لنک ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر دشینت دوے نے دلیل دی کہ ہر شخص کورٹ آنے سے خوفزدہ ہے، تو عدالت میں چھٹیوں کے اعلان پر غور کیا جانا چاہئے۔ تاہم جسٹس بوبڈے نے کہا کہ اس میں بہت سے مسائل ہیں۔کورٹ میں چھٹیوں کا اعلان کرنے کے دوران کچھ مقدموں کی اپیل کی مقررہ وقت کی حد (لمٹیشن مدت) ختم ہو جائے گی۔ اس بارے میں بھی غور کرنا ہوگا۔ اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ عدالت لمٹیشن مدت بڑھانے پر غور کر سکتی ہے۔

اس سلسلہ میں چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی آدمی باہر نہیں جا رہا ہے۔ اس لئے اسے کورٹ بند ہونے کی صورت میں بھی فائل کیا جا سکتا ہے، لیکن  دوے نے کہا کہ ہر کوئی کیس فائل کرنے کورٹ آنے سے ڈرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر عدالت کو چار ہفتہ کے لئے بند کر دینا چاہئے، اس کی تلافی موسم گرما کی چھٹیوں میں کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے ویڈیوکانفرنسگ کے ذریعہ بحث کرنے یا پیش ہونے کا بندوبست کئے جانے پر غور کیا۔
First published: Mar 23, 2020 01:43 PM IST