உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جانیں کیا ہے آزادی سے پہلے بنی تبلیغی جماعت جو فی الحال سرخیوں میں ہے

    تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی۔ فائل فوٹو

    تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی۔ فائل فوٹو

    دہلی کے نظام الدین میں واقع مرکز تبلیغی جماعت سے وابستہ 24 لوگ کورونا مثبت پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 228 مشتبہ مریض بھی دہلی کے دو اسپتالوں میں بھرتی کرائے گئے ہیں۔ اس کے پیش نظر کورونا انفیکشن کے خطرے کا امکان بڑھ گیا ہے جس سے حکومت اور لوگ فکرمند نظر آ رہے ہیں۔

    • Share this:

    نئی دہلی۔ قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے کیسیز مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تلنگانہ میں کورونا انفیکشن سے پیر کے روز 6 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جس پر تلنگانہ سی ایم او کی جانب سے ٹویٹ کرکے بتایاگیا ہے کہ دہلی کے نظام الدین واقع تبلیغی مرکز میں 13 تا 15 مارچ منعقدہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والوں میں سے بعض کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ ان میں سے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے یہ 6 افراد بھی شامل تھے اور ان 6 کی موت ہو گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ اب مرکز اور دہلی حکومت ان سبھی لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی جانچ کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس مذہبی پروگرام میں ملیشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے بھی کچھ لوگ شامل ہوئے تھے۔


    دہلی کے نظام الدین میں واقع مرکز تبلیغی جماعت سے وابستہ 24 لوگ کورونا مثبت پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 228 مشتبہ مریض بھی دہلی کے دو اسپتالوں میں بھرتی کرائے گئے ہیں۔ ان کی رپورٹیں آنا ابھی باقی ہیں۔ اس کے پیش نظر کورونا انفیکشن کے خطرے کا امکان بڑھ گیا ہے جس سے حکومت اور لوگ فکرمند نظر آ رہے ہیں۔



    تبلیغی جماعت کا آغاز


    بتایا جاتا ہے کہ تقریبا ایک صدی پہلے متحدہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم دین اور بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں مسلمان صرف اسلام کا نام تو جانتے ہیں مگر اس کی روح اور اس کی تعلیمات سے وہ یکسر نابلد ہیں۔ مولانا نے دیکھا کہ ان علاقوں میں مسلمانوں نے دوسری قوموں کے رسم ورواج کو اپنا لیا ہے۔ یہ حالت دیکھ کر انہیں افسوس ہوا اور پھر انہوں نے مسلمانوں کی اصلاح وتربیت کے لئے کام کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ جلد ہی انہوں نے 1926 میں دہلی کے نظام الدین میں واقع مسجد میں کچھ لوگوں کے ساتھ تبلیغی جماعت قائم کی۔ جماعت کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو اپنے مذہب سے جوڑے رکھنا اور مذہب اسلام کی تبلیغ وتشہیر اور اس کے بارے میں معلومات دینا بتایا گیا۔ بنیادی طور پر یہ جماعت حنفی فقہ کے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ برصغیر ہندو پاک کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی سرگرم ہے۔

    تبلیغی جماعت کا کیا ہے مظلب؟

    تبلیغی ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ جماعت کا مطلب گروہ ہوتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق، اس تحریک کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کئی افراد ایک مخصوص مدّت کے لیے دین سیکھنے اور سکھانے کی خاطر کسی گروہ کی شکل میں کسی جگہ کا سفر کرتے ہیں۔

    تبلیغی جماعت کے اصول

    وکی پیڈیا کے مطابق، تبلیغی جماعت کے اصول نماز، علم وذکر، اکرام مسلم، اخلاص نیت، دعوت وتبلیغ اور لایعنی امور سے اجتناب ہیں۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگ انہی اصولوں کو لے کر ہندوستان اور دنیا بھر کا رخ کرتے ہیں اور اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں، اس کی تعلیمات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جماعت پر نکلنے والا ہر شخص اپنے اخراجات خود برداشت کرتا ہے۔

    فضائل اعمال

    تبلیغی جماعت میں قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اعمال کے فضائل سے متعلق ایک کتاب کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ اس مجموعہ کو بھی کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے جو فضائل اعمال کے نام سے موسوم ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ جماعتوں میں چلتے ہوئے اور مقامی مسجد میں تسلسل سے کرایا جاتا ہے۔

    تبلیغی جماعت ایسے کرتی ہے کام 

    تبلیغی جماعت کے مرکز واقع نظام الدین سے ملک کے الگ الگ علاقوں کے لئے جماعتیں نکلتی ہیں۔ ان میں کم ازکم 3 دن، 5 دن، 10 دن، 40 دن اور چار مہینے کے لئے جماعتیں نکلتی ہیں۔ جماعت 8 سے 10 لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جس علاقے میں جماعت جاتی ہے وہاں کی مسجد میں ان کا قیام ہوتا ہے۔ یہ لوگ صبح وشام علاقے میں نکلتے ہیں اور وہاں کے لوگوں سے قریب کی مسجدوں میں پہنچنے کے لئے کہتے ہیں۔ یہ افراد گروہ کی شکل میں علاقے کا دورہ کرتے ہیں اور عام افراد خصوصاً دکان دار حضرات کو دین سیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے مسجد میں مدعو کرتے ہیں۔ اس عمل کو جماعت کی اصطلاح میں 'گشت' کہا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ زور نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے وغیرہ پر ہوتا ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: