ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس: سعودی عرب میں 21 دن کا جزوی کرفیو نافذ، امریکہ کورونا سے متاثر تیسرا بڑا ملک قرار

واضح رہے کہ کچھ دن قبل کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور بچاؤ سے متعلق اقدامات کرتے ہوئے سعودی حکومت نے مقامی فلائٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 23, 2020 03:24 PM IST
  • Share this:
کورونا وائرس: سعودی عرب میں 21 دن کا جزوی کرفیو نافذ، امریکہ کورونا سے متاثر تیسرا بڑا ملک قرار
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز

الریاض۔ جان لیوا کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے سعودی شاہ سلمان نے آج شام سے 21 دن کے لئے جزوی کرفیو نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کرفیو روزانہ شام7 سے صبح 6 بجے تک 21دن جاری رہے گا۔ عالمی وبا کے پیش نظر کورونا وائرس کے متعدد کیس سعودی عرب میں بھی سامنے آئے ہیں۔


واضح رہے کہ کچھ دن قبل کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور بچاؤ سے متعلق اقدامات کرتے ہوئے سعودی حکومت نے مقامی فلائٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ ملک میں ضروری نقل و حرکت جس میں مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر پابندی نہیں ہے، جبکہ کورونا وائرس کے مریضوں اور میڈیکل اسٹاف کو ضروری ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسپتال جاتے ہوئے یا باہر آتے ہوئے وائرس کو پھیلنے سے روکنے والے مخصوص لباس کا استعمال کیا جائے۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ سرکاری ایجنسیز، اور لوکل بسیں اور ٹیکسیاں پابندی پر عمل کریں ورنہ بھاری معاوضہ کی صورت میں سزا دی جائے گی۔


امریکہ کورونا سے متاثر تیسرا بڑا ملک قرار


وہیں، جان لیوا عالمی وبا سے دوچار چین اور اٹلی کے بعد اب امریکہ وائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 22 مارچ تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہوگئی تھی۔ صرف امریکہ میں گزشتہ روز یعنی اتوار تک 13 ہزار 931 نئے کیسز آنے سے وہاں مجموعی طورپر 38 ہزار 138 متاثرین ہوگئے تھے۔ امریکہ میں وائرس سے متاثرہ 708 کی حالت نازک ہے اور سانس کی اس مہلک بیماری سے 396 افراد پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں جن میں 94 نئی اموات بھی شامل ہیں۔

فائل فوٹو
علامتی تصویر


اگر امریکہ کی بات کریں تو مختلف امریکی ٹیلی ویژن چینلز پر طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی کم علامات والے افراد اپنی بیماری کے بارے میں رپورٹ نہیں کررہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تقریباً 80 فیصد مریض بیرونی مدد کے بغیر صحت یاب ہوئے ہیں لیکن اس وائرس سے بیمار اور بوڑھے افراد کو زیادہ خطرہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں وفاقی حکومت نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں مالی اور انتظامی مدد فراہم کی جائے۔ اس ضمن میں امریکی حکومت نے نیو یارک، کیلیفورنیا، ایلی نوائے اور اوریگون میں گھروں میں رہنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔

خٰیال رہے کہ امریکہ کی 50 ریاستوں میں 7 کروڑ اور پوری دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگ اس وائرس کے خوف میں مبتلا ہیں جبکہ 50 امریکی ریاستوں میں سے ہر ایک میں، ہزاروں افراد نے گھر پر رہنے کے آپشن سے فائدہ اٹھایا ہے۔ علاوہ ازیں امریکی کانگریس نے 10کھرب ڈالر کا پیکیج منظور کیا ہے تاکہ گھروں میں رہنے والے چار افراد کے کنبے کو 3 ہزار ڈالر دئیے جائیں۔
First published: Mar 23, 2020 03:24 PM IST