ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس: جموں وکشمیر میں 3330 افراد نگرانی میں، اب تک صرف 4 معاملات مثبت پائے گئے

حکومت نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں 3330 افرادکو نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اب تک صرف چار معاملات مثبت پائے گئے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 21, 2020 09:56 AM IST
  • Share this:
کورونا وائرس: جموں وکشمیر میں 3330 افراد نگرانی میں، اب تک صرف 4 معاملات مثبت پائے گئے
مہاراشٹر، کیرالہ، کرناٹک، تلنگانہ، گجرات، راجستھان، اترپردیش اور دہلی میں اب تک سب سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔

سری نگر۔ حکومت نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں 3330 افرادکو نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اب تک صرف چار معاملات مثبت پائے گئے ہیں۔کورونا وائرس سے متعلق روزانہ میڈیا بلیٹن کے مطابق 2465 افراد کو ہوم کورنٹائین میں رکھا گیا ہے جبکہ 44 افراد ہسپتال کورنٹائین میں ہیں۔ جن 416 افراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے اُن میں 405 افراد نے 28 دن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔


بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ 186 نمونے ٹیسٹنگ کے لئے بھیج دئیے گئے ہیں جن میں سے178 کے نمونے منفی جبکہ اب تک صرف چار معاملات کے نمونے مثبت پائے گئے اور 20مارچ 2020ء تک 3 معاملات کی رپورٹیں آنا باقی تھیں۔حکومت نے بیرون ریاست سے آنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سفری تفصیلات رضاکارانہ طور پر متعلقہ حکام کو دیں اور اگر کسی نے کووڈ 19سے متاثرہ کسی ملک کا سفرکیا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ 14روز تک اپنے گھر میں الگ تھلگ رہے۔


فائل فوٹو
علامتی تصویر


ایڈوائزری میں سماجی سطح پر مناسب دوری کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گبھرائیں نہیں اورغیر ضروری سفر کو ترک کریں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے اجتناب کریں۔ علاوہ ازیں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور بڑے بڑے اجتماعات سے دور رہیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں اور باربار صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔ کھانستے یا چھینکتے وقت رومال کا استعمال کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی شخص کو بخار ہو، کھانسی آتی ہو یا سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہو وہ جلد از جلد صحت حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتا ہے۔

غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے لوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکار کی طرف سے جاری کی گئی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔ یہ جانکاری سرکار کی طرف سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جاری کی جاتی ہے۔
First published: Mar 21, 2020 09:55 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading