ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سیاحت کی صنعت کو کورونا وائرس نے پہنچایا شدید نقصان

ملک میں کساد بازاری جاری ہے اور اس دوران کورونا وائرس نے جاری مندی کی آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سیاحت کی صنعت کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  • Share this:
سیاحت کی صنعت کو کورونا وائرس نے پہنچایا شدید نقصان
ملک میں کساد بازاری جاری ہے اور اس دوران کورونا وائرس نے جاری مندی کی آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سیاحت کی صنعت کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ملک میں کساد بازاری جاری ہے اور اس دوران کورونا وائرس نے جاری مندی کی آگ  میں تیل ڈالنے کا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سیاحت کی صنعت کو  بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سیاحت کی صنعت صرف 50٪ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے حالات یہ ہیں ہوٹلوں میں کمرے خالی ہیں۔  اور ایڈوانس بکنگ کو منسوخ کیا جارہا ہے۔جامع مسجد کا علاقہ سیاحوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے بڑی تعداد میں یہاں پر ہوٹل ہیں۔ مارچ کا مہینہ چل رہا ہے یہاں پر سیزن کا وقت ہے ان دنوں یہاں سیاحوں کی بھیڑ زبردست ہوتی ہے۔  مارچ کے مہینے کو سیزن کا مہینہ کہا جاتا ہے لیکن آج یہاں پر سڑکیں خالی ہیں اور سناٹا چھایا ہوا  ہے۔ ہر طرف خاموشی ہے، محمد شارق ایوان اور شاہی نام کے ایک ہوٹل میں یہاں پر کام کرتے ہیں پچھلے آٹھ سالوں سے وہ یہاں پر کام کر رہے ہیں لیکن ایسی مندی کے حالات اور کسادبازاری کبھی نہیں دیکھی۔

شارق بتاتے ہیں اس علاقے میں میں سیاحت پر زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن کورونا وائرس نے حالات خراب کر دئے۔ وقت میں پچاس فیصد کے قریب ہی باقی ہے زیادہ تر کمرے خالی پڑے ہیں۔ پھر بھی کچھ سیاح آرہے ہیں زیادہ تر نے اپنی ایڈوانس بکنگ کینسل کرادی ہے کیونکہ 15 تاریخ تک سرکار نے سیاحوں کی آمد پر خود پابندی عائد کردی ہے۔ اسی جامع مسجد کے علاقے میں زبیر نام کے تاجر ر برانڈیڈ چائے آئے اور دوسرے سازوسامان کی فروخت کرتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں سے وہ یہ کام کرتے آرہے ہیں لیکن آج حالات خراب ہیں۔



زبیر بتاتے ہیں ہیں کام کافی زیادہ کم ہوگیا ہے۔ تو رکشہ چلانے والے غفار بنگال سے دہلی آکر کر روزی روٹی کماتے رہے ہیں۔ غفار کہتے ہیں اب واپس جانا پڑے گا کیونکہ پہلے  500 روپے کما لیتے تھےاور دال روٹی چل جاتی تھی لیکن اب تین سو روپے بھی نہیں کما رہے ہیں۔  سیاح جامع مسجد کے علاقے میں ہمیشہ گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں پر دو آسٹریلین سیاح بھی دکھائی دیے یے ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر کورونا وائرس کا زیادہ خطرہ نہیں ہے کیونکہ صفائی کافی زیادہ ہے اور ان کے پاس سینیٹائیزر ہے۔ ہوٹل میں بھی بھی سینیٹایزر مہیا کرائے گئے ہیں۔



نئی دلی کے پہاڑ گنج علاقے کو بھی سیاحوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں پر سیکڑوں ہوٹل ہیں لیکن سبھی جگہ حالات خراب ہیں۔  وائرس کی وجہ سے کساد بازاری ایک بڑی کساد بازاری میں بدل رہی ہے ، ایسے میں بڑا چیلنج اور بڑاسوال  یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے وائرس کا خوف کیسے نکلے گا اور کاروبار میں چل رہی کسادبازاری اور مندی کا دورکب تک چلتا رہے گا۔
First published: Mar 14, 2020 11:52 AM IST