உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک بھر میں بڑھ رہے ہیں Coronavirus کے معاملے، اس بار بچے زیادہ ہورہے ہیں متاثر، والدین ہوئے فکرمند

    Youtube Video

    بچوں کے اسکول اب آف لائن موڈ پر آچکے ہیں۔ ایسے میں بچوں کے ساتھ ساتھ سرپرستوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ والدین کا کہنا کہ حکومت کو ایس او پی میں کچھ بدلاؤ کرنا چاہئے اور ضرورت پڑے تو ایک پھر اسکولوں کو آن لائن موڈ میں لانا چاہئے۔

    • Share this:
      ملک بھر میں کورونا Coronavirus ایک بار پھر دستک دے رہا ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے اس بار اس کی زد میں بچے زیادہ آرہے ہیں۔ بچوں کے اسکول اب آف لائن موڈ پر آچکے ہیں۔ ایسے میں بچوں کے ساتھ ساتھ سرپرستوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ والدین کا کہنا کہ حکومت کو ایس او پی میں کچھ بدلاؤ کرنا چاہئے اور ضرورت پڑے تو ایک پھر اسکولوں کو آن لائن موڈ میں لانا چاہئے۔

      کورونا کے کیسیس میں لگاتار اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں کورونا کے دوہزار نو سو ستائیس معاملے سامنے آئے۔جبکہ اس دوران دو ہزار دو سو باون لوگوں کو اسپتال سے چھٹی دیدی گئی ہے۔گمشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کی وجہ سے بتیس افراد کی جان گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھئے: Covid in Children: کورونا نے پھر پکڑا زور! بچوں میں انفیکشن زیادہ،ڈاکٹروں نے دی ضروری صلاح

      قابل ذکر ہے کہ کورونا کے بڑھتے معاملوں پروزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہمیں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ وزرائے اعلیٰ کے ساتھ جائزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے مقابلے کے لیے ضابطوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ی وکرین جنگ کے سارے عالم پر پڑ رہے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپلائی چین متاثرہوئی ہے۔ لہذا مرکز اور ریاستوں کے بیچ تال میل کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ انھوں نے افرادی قوت میں اضافہ کرنے اور طبی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کی بات بھی کہی۔


      ضرور پڑھیں: اسکول جانے والے بچوں کو گرمی اور لو سے بچانے کیلئے کے Diet Plan میں شامل کریں یہ 5 چیزیں

      پی ایم مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں کہا کہ ہمیں پچھلے 2 ہفتوں سے بڑھتے ہوئے معاملات سے چوکنا رہنا ہوگا۔ 2 سال کے اندر ملک نے صحت کے بنیادی ڈھانچے سے لے کر آکسیجن کی فراہمی تک کورونا سے متعلق ہر محاذ پر وہ کیا ہے جو ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری لہر میں بے قابو حالات کی کوئی خبر نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ تیسری لہر کے دوران ہم نے روزانہ 3 لاکھ سے زائد کیسز دیکھے۔ ہماری تمام ریاستوں نے بھی انہیں سنبھالا۔ جس طرح سے مرکز اور ریاستوں نے کورونا کے دور میں مل کر کام کیا اور جنہوں نے ملک کی کورونا کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا، میں تمام کورونا واریئرز کی تعریف کرتا ہوں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: