ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس: چین کے Wuhan لیب میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک وائرس موجود، چاول – کپاس سے کھلا راز

کورونا وائرس نے پوری دنیا میں ایک بار پھر سے قہر برپا کرنا شروع کردیا ہے۔ وہیں ایک اور ڈرانے والی خبر سامنے آئی ہے۔ کورونا وائرس کے جتنا خطرناک ایک اور وائرس بہت جلد ہی دنیا کو پریشان کرسکتا ہے۔

  • Share this:
کورونا وائرس: چین کے Wuhan لیب میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک وائرس موجود، چاول – کپاس سے کھلا راز
کورونا وائرس: چین کے Wuhan لیب میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک وائرس موجود

نئی دہلی: کورونا وائرس نے پوری دنیا میں ایک بار پھر سے قہر برپا کرنا شروع کردیا ہے۔ وہیں ایک اور ڈرانے والی خبر سامنے آئی ہے۔ کورونا وائرس کے جتنا خطرناک ایک اور وائرس بہت جلد ہی دنیا کو پریشان کرسکتا ہے۔ دراصل ریسرچ کرنے والوں کی ایک ٹیم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چین کے ووہان میں اب بھی کئی طرح کے نئے اور زیادہ خطرناک کورونا وائس موجود ہیں۔ سائنسدانوں نے یہ دعویٰ ووہان اور چین کے دیگر شہروں کے زرعی لیب سے ملے چاول اور کپاس کے جینیٹک ڈیٹا کی بنیاد پر کیا ہے۔


دنیا ایک اور بڑی مصیبت کی طرف


ایک طرف کورونا کے قہر سے پریشان ہیں، ایسے میں اگر سائنسدانوں کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو چین کی طرف سے دنیا کو ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ وائرس زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ زرعی لیب میں میڈیکل ریسرچ سینٹر یا وائرولوجی لیب کی طرح مضبوط سیکورٹی نظام نہیں ہوتا ہے۔




چین میں کئی خطرناک وائرس موجود

اس تحقیق کو ArXiv نام کے پری پرنٹ سرور میں شائع کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے کہا کہ چین کے ووہان اور دیگر شہروں کے زرعی  لیب میں انسانوں کو نقصان پہنچنے والے کئی خطرناک وائرس موجود ہیں۔ اگر اسے ابھی محفوظ طریقے سے کنٹرول نہیں کیا گیا تو دنیا کے لئے بڑی مصیبت ہوسکتی ہے۔

چاول اور کپال کے جینیٹک سیکونس

ArXiv  پرشائع اس رپورٹ کو بھلے ہی ابھی کسی اکیڈمک  جرنل یا کسی ایکسپرٹ نے منظوری نہیں دی ہے، لیکن یہ ریسرچ حیران کرنے والا ضرور ہے۔ سائنسدانوں نے زرعی لیب میں موجود چاول اور کپاس کے جینیٹک سیکونس کے سال 2017 سے 2020 کے درمیان کا ڈیٹا لیا ہے۔ یہ ڈیٹا کہ یہاں نئے وائرس کا پورا ذخیرہ ہے، جو MERS اورSARS سے متعلق ہے۔

چینی حکومت نے کیا انکار

حیرانی کی بات یہ ہے کہ سارے جینیٹک ڈیٹا ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرو لوجی میں نکالے گئے تھے، جسے لے کر اب بھی دنیا کو خدشہ ہے کہ اسی لیب سے کورونا وائرس کووڈ-19 وبا غلطی سے پھیلی۔ حالانکہ، چین کی حکومت مسلسل اس سے انکار کرتی آرہی ہے۔ پھر بھی پوری دنیا کے سائنسدانوں کو اس لیب پر شک تو ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 09, 2021 09:23 AM IST