ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر: کورونا وائرس کی دستک کے ساتھ ہی متعدد علاقے لاک ڈاون

وسطی کشمیر کے بڈگام قصبہ میں بھی لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے جمعرات کی صبح ہی سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات کئے گئے جو ملحقہ علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو قصبے میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 19, 2020 01:11 PM IST
  • Share this:
کشمیر: کورونا وائرس کی دستک کے ساتھ ہی متعدد علاقے لاک ڈاون
علامتی تصویر

سری نگر۔ وادی کشمیر میں کورونا وائرس کی دستک کے ساتھ ہی ہر سو سناٹا چھا گیا ہے اور لوگ خدشات وتحفظات کے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ دوسری طرف انتظامیہ نے شہر سری نگر سمیت متعدد علاقوں کو لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ سڑکوں اور کاروباری اداروں کو بند کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وادی میں بدھ کے روز ایک 67 سالہ خاتون جو سعودی عرب سے لوٹی تھی، کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔ متاثرہ خاتون کو طبی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔


وسطی کشمیر کے بڈگام قصبہ میں بھی لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے جمعرات کی صبح ہی سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات کئے گئے جو ملحقہ علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو قصبے میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ قصبہ میں دکانداروں کو اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے وادی خاص کر شہر سری نگر کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے فی الوقت چار مثبت کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے تین جموں میں جبکہ ایک کشمیر میں درج ہوا ہے۔


وادی کشمیر میں جمعرات کی صبح نے سال گذشتہ کے پانچ اگست کی صبح کی یاد تازہ کردی۔ اگرچہ مواصلاتی نظام معطل نہیں ہے لیکن شہر سری نگر سمیت کئی علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے خار دار تاروں سے سڑکوں، گلی کوچوں کو بند کرکے لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کر دیا ہے۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعرات کی صبح شہر سری نگر کے کئی علاقوں بالخصوص پائین شہر کا دورہ کیا، نے صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا: 'شہر سری نگر میں ہر سو سناٹا چھایا ہوا ہے، سڑکیں سنسان ہی نہیں بلکہ کرفیو کا منظر پیش کررہی ہیں، دکانیں مکمل طور بند ہیں اور ریڑہ بانوں کا کہیں کوئی نام و نشان ہی نہیں ہے'۔




انہوں نے بتایا کہ دوسرے اضلاع کو شہر سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں کو بھی بند کیا گیا ہے اور صرف بیماروں اور محکمہ صحت و دوسرے اہم محکموں کے ملازموں کو ہی چلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ لوگوں کے ساتھ بات کرنے پر معلوم ہوا کہ کئی علاقوں میں لوگوں کو صبح کے وقت دودھ اور روٹی لانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ وسطی کشمیر کے بڈگام قصبے میں بھی صورتحال ہو بہو یہی تھی۔ سیکورٹی فورسز ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو قصبہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور قصبہ کی تمام دکانیں بند تھیں اور چار پانچ لوگوں کو ایک ساتھ چلنے کی اجازت تھی نہ جمع ہونے کی۔

وادی کے دیگر اضلاع و قصبہ جات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد ورفت پر قدغنیں عائد کی گئی ہیں۔
ادھر جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے پاس یہ وائرس پھیلنے کی صورت میں خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ اس قدر سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں معمولی مرض کے علاج کے لئے ہسپتالوں میں طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے جب خدا نخواستہ اس نوعیت کا وائرس پھیل جائے گا تب کیا ہوگا خدا ہی حافظ ہے۔
First published: Mar 19, 2020 01:11 PM IST